مسلمانوں کے بگڑتے حالات۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
مسلمانوں کے بگڑتے حالات۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
اللہ تعالی نے نبوت و رسالت کے سلسلے کو نبئ کریم پر ختم فرمایا اور آپ کو خاتم النبین بنایا اب قیامت تک بندوں کی ھدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئیگا بلکہ اب کتاب و سنت کی تعلیمات کے ذریعے قیامت تک آنے والے انسانوں تک دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام چلیگا جو اس پر قائم رھیگا وہ ھدایت پر قائم ہوگا جو اس سے ہٹ جائیگا وہ گمراہی و ضلالت میں گرجائیگا اب قیامت تک آنے والے انسانوں تک دین اسلام کو پہنچانا یہ اس امت اور خصوصا حضرات علماء کرام کی ذمہداری ہے جیساکہ قران و حدیث میں اسکو بیان کیا گیا ہے
نبئ و رسول کی اہم ذمہداریاں جسکو قرآن کریم میں واضح کیا گیا ہے آیات اللہ کی تلاوت قرآن و سنت کی تعلیم اور تزکیہ نفس یعنی اصلاح باطن ہے
نبئ کریم نے بذات خودحضرات صحابہ کرام پر محنت فرماکر انھیں اسلامی تعلیمات اور احکامات کا عملی نمونہ بناکر دنیا والوں کے سامنے پیش فرمایا یہ حضرات انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل جماعت تھی اور جسے اللہ تعالی نے اپنی خوشی و رضامندی کا تمغہ عطا فرمایا جنکے اخلاق سب سے اعلی تھے کہ جس سے متاثر ہوکر غیر قومیں بھی اسلام قبول کرتیں جنکا علم سب سے زیادہ وسیع و عمیق جنکا تقوی بے مثال اور جنکے ایمان کو بعد والوں کے لئے ایمان کی کسوٹی بنایا گیا
اور یہی کام الحمد لللہ حضرات علماء کرام مدارس و مکاتب میں اور حضرات صوفیاء کرام خانقاہوں میں انجام دے رہے ہیں لیکن اسکے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں یہ بڑے افسوس اور غور کرنیکی بات ہے اسلئے ہر ایک مصلح معلم و مدرس کو اس بات کی طرف دھیان دینا چایئے کہ انکے مریدین متبعین اور شاگردوں میں یہ صفات و خوبیاں اور حسن اخلاق کیوں پیدا نہیں ہورے ہیں ? اسلئے کہ یہاں سے نکلنے والے فارغین یہ امت کے لئے مشعل راہ بننے والے ہیں اور اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ بنے والے ہیں اسلئے صرف بیانات اور اوراد و وظائف کی کثرت کافی نہیں ہے بلکہ حسن اخلاق اور اصلاح باطن کی فکر ضروری ہے آج غیر تو چھوڑئیے اپنے اور گھر والے بھی متاثر نہیں یورہے ہیں
حالانکہ قرآن میں سب سے پہلے اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو جھنم کی آگ سے بچانیکا حکم۔دیا گیا ہے
آج حق و صداقت اور عدل و انصاف کی بات کرنا اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف ہوگیا ہے اور نبئ کریم نے پہلے ہی اسکو واضح فرمایا ہے کہ افضل جھاد ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے حق یا عدل و انصاف کی بات کہنا ہے اور قرآن کریم نے گناہ اور حد تجاوزی پر ایکدوسرے کا تعاون کرنیسے منع کیا ہے اور نیکی بھلائی اور تقوی پر ایکدوسر ے کا تعاون کرنیکا حکم دیا ہے لیکن آج اسکا بالکل الٹا ہورہا ہے
اسلئے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے وقت مخالفین اور باطل پرستوں کی طرفسے جو ایذائیں اور تکالیف پہنچیگی اس پر صبر کرنیکا حکم فرماتے ہوئے فرمایا یہ ہمت و حوصلے کا کام ہے
اسلئے حضرات انبیاء کرام لوگوں کے دلوں کے اصلاح و درستگی کی فکر کرتے ہیں اسلئے کہ اگر دل کی اصلاح و درستگی ہوگئی تو سارے اعمال درست ہوجاتے ہیں اور اگر دل میں بگاڑ و فساد پیدا ہوگیا تو خود انسان کو بھی نقصان ہوتا ہے اور پورے معاشرے کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے
اسلئے غرور گھمنڈ تکبر حب جاہ اور حب مال عہدہ و منصب کی حرص ولالچ یہ سب برائیاں اور خرابیاں دل کے بگاڑ کے سبب پیدا ہوتی ہے
بندہ لوگوں میں اپنا مقام و مرتبہ قائم رکھنے اور اپنی جھوٹی شان دکھانے کے لئے تکبر اور گھمنڈ کا سہارا لیتا ہے حالانکہ اس سے یہ چیز حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس سے تو لوگوں کی دلوں میں اسکی اہمیت اور قدرو قیمت کتے اور سور سے بھی کم ہوجاتی جیساکہ حدیث میں اسکو بیان کیا گیا ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ عزت اور محبت پیدا کرنیکا طریقہ اللہ تعالی کے لئے لوگوں سے تواضع اور عاجزی و انکساری سے پیش آنا ہے جیساکہ حدیث شریف میں بیان ہوا ہے
اور تکبر کی وضاحت حدیث شریف یہ بیان ہوئی ھیکہ حق بات کو ٹھکرانا یا حق اور عدل و انصاف کی بات اگر اپنے خلاف ہوتو اسکو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر و کمتر درجے کا سمجھنا حالانکہ حدیث مبارکہ مبارکہ میں اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا اسکے برا ہونیکو کافی قرار دیا گیا ہے
اسطرح قیامت کے روز اللہ کے نزدیک لوگوں میں اسکو برا قرار دیا گیا ہے کہ جسکے شر اور اذیت سے بچنے کے لئے لوگ اسکی عزت کرتے ہوں
تو گھمنڈی اور متکبرین لوگ معاشرے میں بگاڑ و فساد کا سبب بن جاتے ہیں اور معاشرے کے لئے ناسور بن جاتے ہیں اسلئے جب تک باطن کی اصلاح نہیں ہوگی معاشرے کی اصلاح نہیں ہوگی اور مسلمانوں کے حالات تبدیل نہیں ہونگے اور آپسی اختلافات ختم نہیں ہونگے
اسلئے ہر ایک کو اپنے باطن اور اپنے اخلاق وعادات کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے
Comments
Post a Comment