تامس واڑی مسجد کے امام کے ساتھ بدسلوکی پر تنظیموں میں شدید غم و غصہ، ملزمان پر ایم پی ڈی اے لگانے کا مطالبہ۔
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): پارولہ تعلقہ کے تامس واڑی میں واقع نورانی مسجد کے امام و خادمِ دین سید حکم علی ہاشم علی کے ساتھ مبینہ مارپیٹ، دھمکی آمیز رویہ اور انہیں زبردستی مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیے جانے کے واقعہ نے پورے علاقے میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس افسوسناک واقعہ پر ایکتا تنظیم نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور مرکزی ملزم کے خلاف ایم پی ڈی اے (MPDA) کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایکتا تنظیم کے بانی و رابطہ کار فاروق شیخ نے امریکہ کے کیلیفورنیا سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ محض ایک مذہبی رہنما پر حملہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین، مذہبی آزادی، انسانی وقار اور جمہوری اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا، اس کی توہین کرنا اور زبردستی مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ اس معاملے میں پارولہ پولیس اسٹیشن میں کیس نمبر 218/2026 درج کیا گیا ہے، تاہم وائرل ویڈیو میں متعدد افراد کی موجودگی اور ان کی فعال شمولیت واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ کارروائی کو صرف دو افراد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد کی شناخت کرکے انہیں شریکِ ملزم بنایا جائے اور فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ فاروق شیخ نے کہا کہ اگر بروقت ایسی ذہنیت پر قابو نہ پایا گیا تو معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور نفرت کا ماحول مزید گہرا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم ہیمنت عرف ناٹیا مچھندر پوار کے خلاف پہلے سے کئی سنگین مقدمات درج ہیں۔ اس کے باوجود اس نوعیت کے واقعات کی تکرار قانون کے خوف کے خاتمے کی علامت ہے، جو انتظامیہ سے سخت کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔ تنظیم کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
• وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد کی شناخت کرکے شریکِ ملزم بنایا جائے۔
• تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ • ویڈیو، موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی ایف ایس ایل اور سائبر جانچ کرائی جائے۔ • مذہبی منافرت، اجتماعی سازش اور سماجی انتشار پھیلانے سے متعلق تمام سنگین دفعات عائد کی جائیں۔
• متاثرہ امام اور ان کے اہل خانہ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ • مرکزی ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کرکے شرائط پوری ہونے پر اس کے خلاف ایم پی ڈی اے کے تحت کارروائی کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مہاراشٹر، چھترپتی شیواجی مہاراج، مہاتما جیوتیبا پھولے، راجرشی شاہو مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے انصاف پسند نظریات کی سرزمین ہے۔ یہاں کسی بھی شہری کو اس کے مذہب کی بنیاد پر ذلیل کرنا، ڈرانا یا اس کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنانا ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی کی جائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف سخت اقدام نہ کیا گیا تو اقلیتی برادری میں بڑھتی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی اخلاقی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ تنظیم نے مہاراشٹر حکومت، پولیس محکمہ، انسانی حقوق کمیشن اور اقلیتی کمیشن کو تفصیلی شکایت ارسال کی ہے۔ ساتھ ہی مقامی عہدیداران ضلع کلکٹر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقات کرکے فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ادھر دیگر سماجی و ملی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران امام صاحب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تمام لوگ باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارہ برقرار رکھیں اور کسی بھی صورت میں ماحول کو آلودہ یا کشیدہ نہ ہونے دیں۔
Comments
Post a Comment