صحابہ کون ہیں - ازقلم : افضال احمد ملّی، ( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)


صحابہ کون ہیں - 
ازقلم : افضال احمد ملّی، 
( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک) 

   صحابہ کرام دین کی بنیاد ہیں، دین کے اول پھیلانے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور دین کی اشاعت و تبلیغ کیلئے اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کیا.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
  ان الله نظر في قلوب العباد، فاختار محمدا، فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه۔ 
اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں کے دلوں پر پہلی دفعہ نگاہ ڈالی، تو ان میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند فرمایا. اور انہیں اپنا رسول بناکر بھیجا، اور انہیں اپنا علم خاص عطا فرمایا
  ثم نظر في قلوب الناس بعده فاختارالله له اصحابا، فجعلهم أنصار دينه۔
پھر دوبارہ لوگوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی اور آپ کیلئے صحابہ کرام کو چنا اور ان کو اپنے دین کا مددگار بنایا.

    صحابہ کی یہ جماعت فہم دین، جذبہء اتباع شریعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اہم معجزہ ہے -
یہ اصحاب رسول کی وہ مقدس اور پاکیزہ جماعت ہے جن کو قرآن مجید میں کہیں السابقون الأولون کہا گیا، تو کہیں خير أمة سے مخاطب کیا گیا ہے.
    حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
*كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوبا وأعمقها علما*
صحابہ اس امت کے سب سے بہترین اور سب سے زیادہ نیک دل انسان تھے، اور سب سے زیادہ گہرے علم والے تھے.
وفاداری و جانثاری میں بےمثال، عشق نبوی و عقیدت مندی اور جذبہء اتباع شریعت میں بےنظیر تھے،
ان کی فداکاری اور والہانہ عقیدت کو عروہ ابن مسعود قریش کے سامنے ان الفاظ میں پیش کرتا ہے :
   "میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں، لیکن جو والہانہ عقیدت و محبت یہاں دیکھا، وہ کہیں نہیں دیکھا.
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے تو گردنیں جھک جاتیں، محفل پر ایک سکوت کا عالم طاری ہوتا، نظر بھر کر کوئی ان کی طرف دیکھ نہیں سکتا، آپ کے وضو کا پانی اور آپ کا تھوک زمین پر گرنے نہیں پاتا کہ وہ اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیتے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیتے "
  ایسی وفاداری اور جذبہء اطاعت و فرمانبرداری کا ثبوت دنیا کی کسی قوم نے پیش نہیں کیا ہے.
انہی امتیازات و خصوصیات کی بناء پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امت مسلمہ کیلئے آئیڈیل اور نمونہ بنایا، اور قیامت تک دین پر آنے والے فتنوں سے بچنے کیلئے جہاں اپنے طریقے و سنت کو تھامے رہنے کا حکم دیا، وہیں دوسری جانب اپنے محبوب صحابہ کرام کے کردار و عمل کو بھی قابل اتباع و تقلید بنایا.
چنانچہ ایک روایت میں فرمان نبوی ہے :
   أصحابي كاالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم۔
میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، ان میں سے جن کی بھی اقتداء کرو گے ھدایت پاؤ گے.
نیز صحابہ کا وجود اليوم أكملت لكم دينكم کی تشریح ہے، أشداء على الكفار رحماء بينهم کا مظہر ہے، اور آپ کی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا حسین مرقع ہے.
یہ امت کی آبرو اور ملت کی روح ہے، ان کی ذات پر بال برابر حرف بھی دین کی عظیم عمارت کو شکشتہ کردے گا _

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔