کیوں؟ کیا؟ اور کیسے؟ ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
کیوں؟ کیا؟ اور کیسے؟
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
آج میں تمام انسانوں سے مختلف عام سوالات کرنا چاھتا ہوں- پہلا سوال یہ ہےکہ اے انسانوں تم کھانا کیوں کھاتے ہو؟ اس سوال پر ہر شخص مجھے انتہائی بیوقوف سمجھے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ مجھے پاگل قرار دے- بہر حال ہر انسان کا جواب ہوگا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ؟ انسان ہیں، بھوک لگتی ہے اس لئے کھاتے ہیں اور زندہ رہنے کے لئے یہ ضروری ہے- اب یہ جواب تو سارے جانور بھی دیں گے پھر انسان اور جانور میں فرق کیا رہا-
لیکن یہ جواب کسی مسلمان کے لائق نہیں ہے بلکہ غلط جواب ہے- کیوں؟ اس لیے کہ مسلمان کا جواب ہوگا: میں اس لئے کھاتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے- سورہ الاعراف آیت نمبر 31 میں ارشاد ہے کلوا و اشربوا ولا تسرفوا انه لا یحب المسرفین کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ نہ کرو ، وہ حد سے زیادہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے- پہلے اور دوسرے جواب میں زمین آسمان کا فرق ہے- وہ یہ ہے کہ پہلے جواب کا مطلب ہے ہر انسان آزاد ہے جو اس کے جی میں آئے کر سکتا ہے مگر دوسرے جواب کا مطلب ہے کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمان ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے اپنے آپ کو اپنے پیدا کرنے والے کے حوالہ کر دیا ہے-جیسے جنگ میں کوئی فوجی ہاتھ اٹھا کر اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کر دیتا ہے - اب یہ قیدی جیل میں اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتا ہےاور نہ کر سکتا ہے- اسے جو کھانا بھی دیا جاتا ہے وہی اسے کھانا پڑھتا ہے - کسی چیز میں اس کی مرضی اور آزادی کا دخل نہیں ہوتا ہے- اسی طرح اس دنیا میں ہر کلمہ پڑھنے والے نے کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دیا ہے یعنی مسلم بن گیا ہے - اب اس کا ہر عمل وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا- یہ جواب مسلمانوں کو جانورں کی صف سے نکال کر انسان بنا دیتا ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہے نہ کہ جانور- سورہ انعام آیت نمبر 162 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دو میری نماز اور میری ساری عبادتیں اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے -
اس حقیقت کی روشنی میں باقی سارے سوالات جیسے پانی کیوں پیتے ہو کپڑے کیوں پہنتے ہو غرض ہمارا ہنسنا رونا ، خوشی و غم منانا، دوستی و دشمنی کا ہونا، نکاح و طلاق کا ہونا، ملازمت یا تجارت ، صحت و بیماری یعنی ہماری زندگی کا ہر عمل اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے نہ کہ اپنی مرضی سے- صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا الدنیا سجن المؤمن و جنة الکافر یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت مطلب یہ ہے کہ کافر اس دنیا میں من مانی زندگی گذارے گا مگر آخرت میں ہمیشہ کے لئے جھنم میں جلے گا جب کہ مسلمان دنیا کچھ تکلیف کے ساتھ گذارے گا لیکن آخرت میں ہمیشہ کے لئے ایسی نعمتیں کھائے گا اور ایسی شاہانہ زندگی گذارے گا جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں وہ وہ نعمتیں ہیں جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے بلکہ کوئی انسان ان نعمتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا-
اپنے آپ سے سوال کیجیے میں کس قسم کا مسلمان ہوں کلمہ طیبہ پڑھ کر ہر کام اللہ کی مرضی کے مطابق کرتا ہوں یا میرا اسلام بس زبانی ہے باقی میں ہر کام اپنی مرضی اور دنیا والوں کی چال چلن دیکھ کر کرتا ہوں-
اب دوسرا سوال ہے کہ آپ کیا کیا کرتے ہو؟ یعنی کیا کھاتے ہو اور کیا پیتے ہو - ہر خوشی اور ہر غم کس طرح مناتے ہو؟ آپ کس چیز کی تجارت کرتے ہو ؟ کیا ملازمت اور نوکری ایمانداری کے ساتھ کرتے ہو وغیرہ وغیرہ- ان سب باتوں کا جواب بھی مسلمان کا الگ ہوگا اور کافر کا الگ -غیر مسلم کہے گا میں حلال حرام نہیں جانتا ، جو جی چاھتا ہے کھاتا پیتا ہوں - اپنی دنیوی حیثیت کے مطابق خوشی و غم مناتا ہوں - مجھے کمانے سے غرض ہے حلال ہو یا حرام مجھے بس دولت چاھیے - مگر مسلمان کہے گا : اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیز کھاتا اور پیتا ہوں- اللہ تعالیٰ کی شریعت کے دائرہ میں رہ کر نوکری یا تجارت کرتا ہوں - سود سے مجھے نفرت ہے-میں ہر معاملہ میں قرآن وحدیث کا حکم تلاش کرتا ہوں - میری ہر خوشی میرا ہر غم اللہ کے حکم کو دیکھ کر نہ کہ زمانے کے فیشن اور لوگوں کی نقالی کرکے ہوتا ہے-
مجھے اپنے آپ سے اور آپ میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے سوال کرنا ہے میں کس قسم کا مسلمان ہوں؟ صرف زبانی مسلمان یا حقیقی مسلمان؟ کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ہم سب صرف نام کے مسلمان ہیں ورنہ عمل میں ہماری زندگی اور کافر کی زندگی میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے-اور اس کے باوجود ہم مفت کی جنت میں جانے اور جہنم سے بچ جانے کی تمنا بھی رکھتے ہیں-
Comments
Post a Comment