ایڈوکیٹ عبدالواحد چودھری مرحوم کی خدمات کوزبردست خراجِ عقیدت، تماپور میں تعزیتی اجلاس کا کامیاب انعقاد - مرحوم ایک با کمال و با صلاحیت ہستی مقررین کا خطاب۔
ایڈوکیٹ عبدالواحد چودھری مرحوم کی خدمات کوزبردست خراجِ عقیدت، تماپور میں تعزیتی اجلاس کا کامیاب انعقاد -
مرحوم ایک با کمال و با صلاحیت ہستی مقررین کا خطاب۔
تماپور ضلع یادگیر:21 جون 2026:(توفیق اسد تماپوری) تنظیم فروغِ اردو علم و ادب تماپور رنگم پیٹ شوراپور کے زیر اہتمام جامع مسجد فنکشن ہال میں ایڈوکیٹ الحاج عبدالواحد صاحب چودھری مرحوم کی یاد میں *حیات و خدمات* کے عنوان سے ایک پروقار تعزیتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں
مقامی و غیر مقامی علمی، ادبی، سماجی سیاسی شخصیات سمیت کثیر تعداد میں اہلِ علاقہ کی مرد و خواتین شریکِ تقریب رہیں۔
وقت مقررہ پر پروگرام کی شروعات ہوئی۔
مرحوم کے پوترے انجینئر حافظ عبدالباری کی قرآت کلام پاک سے پروگرام کا باضابطہ آغاز ہوا۔
سب سے پہلے جناب عبدالعلیم گوگی سابق نائب چیئرمین وقف مشاورتی کمیٹی یادگیر نے خطاب فرمایا اور کہا کے ہوش سنبھالنے کے بعد زندگی میں انہیں سب سے زیادہ متائثر کرنے والی شخصیت وکیل صاحب کی تھی انکی عوامی خدمات کو سراہتے ہوے علاقے کے اردو سرکاری اسکول کے بہت سے مسائل کی یکسوئی میں مرحوم کی خدمات کو نا قابلِ فراموش بتلایا ۔
مولانا مبین عمری شوراپور نے اپنی تقریر میں مرحوم کو خلوص کا پیکر اور عمدہ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قرار دیا۔
گلبرگہ سے تشریف لائے جناب انجینئر مجیب استاد نے اپنے خطاب میں مرحوم کو تاریخ ساز شخصیت قرار دیتے ہوے قوم ملت کے لئے وکیل صاحب کی وقف کردہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا کھل کر اظہار خیال فرمایا۔
کلیان کرناٹک کے بزرگ قلم کارحضرت سراج وجہی تیرانداز نے اپنے مخصوص اندازِ بیان میں کہا کے وکیل صاحب ہر ماحول میں خود کو ڈھال کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے تھے انہوں نے مرحوم کو وقت کی رفتار سے تیز قرار دیتے ہوے تماپور میں الأمین اسکول کے قیام میں وکیل صاحب کی کاوشوں کی خوب ستائش کی۔
بعد ازاں سینیر صحافی و سابق ایڈیٹر روز نامہ جوہر گفتار بلگام جناب اقبال راہی تماپوری نے مرحوم کو ایک بے لوث با شعور و باکمال ہستی قرار دیتے ہوے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی وکیل صاحب کی مہارت کا ذکر کرتے ہوۓ انکے رحلت کر جانے کو ملت کا عظیم نقصان کہا اور انکے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔
مرحوم کے فرزند جناب مبشر احمد چودھری نے اپنے والد محترم کو یاد کرتے ہوۓ انکے اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا اور گھر والوں سے رشتے داروں سے مرحوم کے جو خوشگوار مراسم تھے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوے اپنے والد محترم کو ہر زاویہ سے اخلاقی قدروں کا پاسباں و نگہبان بتلایا۔
آخر میں مرحوم کے ایک اور فرزند معروف عالم دین جناب ڈاکٹر نذیر احمد عمری مدنی نے اپنے ولولہ و فکر انگیز خطاب میں اپنے والد محترم کے بے شمار کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوۓ یہ انکشاف بھی کیا کے عنقریب مرحوم کی خود نوشت بہت جلد منظر عام پر لانے کا تیقن دیا اور تمام مقررین کا تمام شرکاء کا با صمیم قلب شکریہ ادا کیا اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔
قریب تین گھنٹوں پر مشتمل
اس پورے پروگرام کی نظامت کی کارروائی جناب محمد صادق عمری نے بہترین انداز میں چلائی۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء کے لئے عشائیہ کا عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔
توفیق اسد تماپوری
9620990388
Comments
Post a Comment