سلمان منصور پوری کی رحلت - ازقلم : ظفر هاشمي ندوی(سابق فيملي كونسلر دبي كورٹ)
سلمان منصور پوری کی رحلت -
ازقلم : ظفر هاشمي ندوی
(سابق فيملي كونسلر دبي كورٹ)
اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت پوری ہوی اور سلمان منصور پوری بھی رخصت ہوئے- انا للہ و انا الیہ راجعون۔
سلمان صاحب کی زندگی کے دو رخ رہے - ایک قائد ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں تو دوسرا رخ ان کے انتقال کے بعد ان کا سلوک و رویہ حضرت مولانا محمد رابع ندوی رحمہ اللہ- کے ساتھ اور جملہ اسلامی تاریخ پر مستشرقین کی طرح تنقید یہاں تک کہ ان کی طرح صدیق أمت اور فاروق امت رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابہ پر طفلانہ اعتراضات-
ہمارے تمام ندوی حضرات کیا سلمان صاحب کے ، صحابہ کے خلاف نظریات ، بیانات ، شیعوں کی تعریف ، ایران کے دورے اور ندوہ میں استاذ ہوکر اپنی من مانی تشریح مشہور کتاب مقدمہ ابن صلاح کو ہٹا کر ، طلبہ کو سنانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ امتحان میں انہی کی تعریف و تشریح کو لکھنے کا حکم ورنہ فیل کر دینے کی دھمکیاں دینا، کیا ہمارے تمام ندوی حضرات ان سب باتوں کو ان کا توشہ آخرت قرار دینے کی ہمت رکھتے ہیں ؟
پھر اس کے علاوہ بریلوی مرکزوں کے چکر لگانا اور قبر پر چادر بھی چڑھا دینا، بریلوی انداز کا شملہ باندھنا کیا یہ سارے نیک اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا ؟ یہی نہیں ان کا حسب موقع موجودہ وزیر اعلی مسٹر یوگی آدتیہ ناگ صاحب کے ساتھ تعلق بڑھانے کی کوششیں کرنا- مسلمانوں کے ملی مسائل پر صرف اور صرف خاموشی کیوں ، اس ڈر سے کہ جیل نہ جانا پڑے ، دوسری طرف سعودیہ اور دوسرے عرب ممالک پر زور شور سے نکتہ چینی کیا یہ منافقت نہیں تھی؟ ندوۃ العلماء میں بار بار جا کر طلبہ کو انتظامیہ کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کیا اس کا نام ندوہ کی خدمت تھی - بقول شاعر ( ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے )
اس کے علاوہ ملک کے اندر ندوہ سے بغاوت اور ملک سے باھر ندویت کا اظہار اور قائد ندوہ رحمہ اللہ سے تعلق ظاھر کرکے بے شمار درہم و ریال کمائے گئے - سبحان اللہ یہ ان کی بے مثال خدمتیں ہیں-
راقم الحروف سے وہ چار سال سینیر تھے اور میری طلبہ میں تبلیغی دعوت اور کچھ تعلیمی صلاحیت کی وجہ سے وہ مجھ سے بیحد خوش تھے - فضیلت کی سند کے لئے ان کا شاہ ولی اللہ پر مقالہ کی خوش خط کتابت انھوں نے مجھ سے کروائی تھی - اب کیا میں ان کی خاطر حق گوئی سے باز آ جاؤں؟ کیا میں بھی ان کی دیکھا دیکھی پہلے بریلوی پھر شیعہ بن جاؤں - کیا ان کی طرح صدیق امت اور فاروق امت اور حضرت ابو ہریرہ پر لب کشائی کروں- کیا ان کی طرح استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد الرابع رحمہ اللہ پر الٹی سیدھی تنقیدیں اور الزام تراشی کروں؟ میرے ندوی اور غیر ندوی بھائیوں کیا یہ ہیں ان کی امتیازی اسلامی خدمات جس پر آپ سب کو فخر ہے - اگر ایسا ہے تو ( لکم دینکم ولی دین)۔
اصل بات یہ ہے کہ شیطان نے ان کو طرفا من العلم دیکھ کر گمراہ کر دیا ان کی مثال ویسی ہی ہے جو قرآن کریم نے فرمایا ہے ( أضله الله على علم وختم على سمعه و قلبه وجعل على بصره غشاوة) -
آج محترم زبیر خان ندوی صاحب کی طرف سے وفات سے قبل رجوع و معذرت شایع کیا گیا ہے - اگر بصیرت کی آنکھ سے پڑھیں تو یہ رجوع اور معذرت عذر گناہ برتر از گناہ کا مصداق ہے یا یوں کہیے کہ رسی جل گئی مگر بل جیسا کا ویسا ہی رہا-
راقم الحروف کو اللہ نے یہ توفیق دی تھی کہ وہ بار بار ان کے لئے دعا کرتا کہ اے میرے اللہ تیرے بندہ سلمان کو اس کی موت سے پہلے سچی توبہ کی توفیق عطا فرما -
اخیر میں آپ تمام حضرات کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد دلاتا ہوں ( يا ايها الذين آمنوا كونوا قوامين بالقسط شهداء لله ولو على انفسكم او الوالدين والأقربين) میرے نزدیک تمام ندوی ندوہ کی نسبت سے علی انفسکم کے درجہ میں آتے ہیں -
Comments
Post a Comment