ریاء کاری شرک اصغر ہے۔۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
ریاء کاری شرک اصغر ہے۔
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
9881836729
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر منحصر ہے۔ سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت، کہ اللہ ایک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ اور یہ شہادت دینا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے مبعوث کردہ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اسی طرح نماز کو قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ ان عبادتوں کا تعلق دل سے اور خدائے برتر کے لیے ہے۔ اس میں کسی چیز کا دکھلاوا اور ریاکاری عبادتوں کے روح کو ختم کرتی ہے۔ ایک حدیث شریف میں ہے۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کیا ہے۔ ہمارے پاس یہ رواج اور روایت چل پڑی ہے کہ حج جو فرض ہے، اور اسلام کا اہم رکن ہے۔ بہت لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ حاجیوں کا استقبال اور انہیں دعوت دے کر استقبال کرتے ہیں، اور استقبال کیا جاتا ہے اور پھولوں کے ہار اور تحائف پیش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ پانچ ارکان اسلام کے اہم ستون اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب انسان عبادت کرتا ہے ، یقینی طور پر بندہ اور خدا کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہاں روح کو تازگی میسر ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم پر سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ شرک خفی یعنی شرک اصغر ہے۔ صحابہ نے پوچھا شرک اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عبادتوں میں رعاکاری یعنی دکھلاوا۔ خداے برتر کا ارشاد ہے، وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ یعنی انہیں یہ حکم خداوندی تھا کہ اخلاص نیت اور خوشنودی سے صرف خداے برتر کی عبادت کریں. تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں اخلاص نیت کے ساتھ ادنی اور چھوٹا سا عمل بھی اعلی و ارفع بن جاتا ہے۔ اور ریاء کا عمل چاہے وہ کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو وہ اللہ کی بارگا ہ میں کوئ معنی و مطلب نہیں رکھتا۔ زمین پر جو لوگ اپنے آپ کو اعلی سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ اللہ کے پاس محبوب ہوں۔ اور جو زمین پر غیر معروف ہوں، وہ خداے برتر کے پاس اعلی وارفع مقام رکھتے ہیں اور اللہ کے پاس محبوب ہیں۔ آج اگر ہم مشاہدہ کریں تو ہمیں یہ دید کو ملتا ہے کہ لوگ عبادت جیسی اہم ترین جو خالص اللہ کی رضاء کے لیے ہے،ہم عبادت کو ختلف زاویوں سے تصاویر لیکر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں۔ جو عبادت کی روحانیت کو ختم کرتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ ان نمازیوں کے ہلاکت ہے جو نماز میں تساہل غفلت اور لاپرواہی کرتے ہیں، اور دکھلاوے کے لیے نماز ہڑھتے ہیں۔ آج یم دنیاوی اعتبار سے بھی قوم و ملت کی قیادت صرف سوشل میڈیا پر ہی انجام دے رہے ہیں ۔اور دینی اعتبار سے بھی عبادتوں میں تساہل اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ بقول علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن سکا چنانچہ ایک واقعہ ذکر ہے ،لکھا ہے کہ جب حضرت قطب الدین بختیاری کاکئ کی وفات ہوئ جنازہ تیار تھا۔جنازہ میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ جب جنازہ پڑھانے کا وقت آیا تو ایک شخص آگے بڑھکر یہ اعلان کرتا یے کہ حضرت نے یہ وصیت فرماگئے کہ میری نماز جنازہ وہی پڑھاے گا جس میں یہ چار خوبیاں بدرجہ اتم پائ جاتی ہو۔ پہلا یہ کہ اس کی تکبیر اولا ترک نہ ہوئ ہو۔ دوسرے تہجد بھی قضا نہ ہوئ ہو۔ تیسرے یہ کہ اس کی نظر کسی غیر محرم پر نہ پڑی ہو۔ چوتھے یہ کہ وہ اتنا عبادت گذار ہو کہ عصر کی سنتیں بھی ترک نہ ہوئ ہو۔ کافی دیر کے بعد ایک شخص روتا ہوا آگے بڑھا،اور جنازہ سے چادر ہٹاکر کہا کہ قطب الدین بختیار کاکئ آپ تو اس دنیا سے خالق حقیقی کو جاملے لیکن میرا یہ راز فاش ہوگیا کہ یہ چار خوبیاں مجھ میں ہیں ۔اور انہوں نے حضرت قطب الدین بختیار کاکئ کی نماز جنازہ پڑھائ، یہ وقت کے بادشاہ سلطان شمس الدین التمش تھے جنہوں قطب الدین بختیاری کاکئ کی نماز جنازہ پڑھائ۔ اسلامی نقطہ نظر اور قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھا جاے تو اس دنیا کی کوئ بھی حقیقت نہیں ہے۔ حدیث میں ہے، دنیا ایک مردار شئ ہے اور اس کے طالب کتوں کے مانند۔ لیکن آج ہم میں بہت سارے ایسے ہیں جو اپنا ضمیر فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جس کا زوال امت پر یقینی ہے۔ بقول علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کردے انسان گلیمر کی طرف رواں دواں ہے۔ اور حقیقت سے ناآشنا۔ یہ دنیا ایک دھوکہ اور ثراب ہے۔ جس کو شاعر مشرق علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے عکاسی کی ہے۔ یہ دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھیل ہے مل جاے تو مٹی ہے، کھوجاے تو سونا ہے۔ اور آخرت اس کے برعکس ہے۔اگر مل جاۓ تو سونا ہے ،اور کامیابی کا ضامن ہے۔ اور نہ ملنے پر بربادی کا سبب. اللہ ہمیں ریاکاری اور دکھلاوے کی عبادتوں سے حفاظت فرما۔آمین
Comments
Post a Comment