تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کا ظلم،ذہنی دباؤ نے ایک اور استاد کی جان لے لی؟ نظامِ تعلیم کب جاگے گا؟ - تعلیمی اداروں میں اساتذہ پر بڑھتا ذہنی دباؤ،اکولہ کے معلم کی خودکشی نے نظامِ تعلیم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔۔ ازقلم : عمران عبدالعلیم باحشوان۔


تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کا ظلم،ذہنی دباؤ نے ایک اور استاد کی جان لے لی؟ نظامِ تعلیم کب جاگے گا؟ - 
تعلیمی اداروں میں اساتذہ پر بڑھتا ذہنی دباؤ،اکولہ کے معلم کی خودکشی نے نظامِ تعلیم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ 
ازقلم : عمران عبدالعلیم باحشوان۔ 
(روزنامہ آج کی آواز ،اورنگ آباد مہاراشٹرا)
9730000675 


ایک استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ قوم کے مستقبل کی بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔ وہ اپنے علم کردار اور رہنمائی سے نسلوں کی فکر اخلاق اور شعور کی تعمیر کرتا ہے. انہی کی بدولت معاشرے میں اخلاقی قدریں پروان چڑھتی ہے اور ایک اچھا استاد اپنی تعلیم کے ذریعے نسلوں کو روشن مستقبل عطا کرتا ہے.
مگر افسوس کہ آج اساتذہ ذہنی دباؤ ناانصافی اور بے بسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہے جبکہ بہت سے اساتذہ ذہنی دباؤ کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہے ،اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی شکایات بعض مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف بھی سامنے آتی ہےجو مسلم معاشرے کے لیے نہایت تشویش ناک ہے۔ جو ادارے قوم کی خدمت اور تعلیم کے فروغ کے نام پر قائم کیے جاتے ہے ان میں سے بعض اداروں پر اساتذہ کے ساتھ ظلم ،ہراسانی ، ذہنی تکلیف و ناانصافی برتنے کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہےجو یقیناً انتہائی افسوس کی بات ہے۔
گذشتہ روز اکولہ میں ایک استاد کی خودکشی کی خبر نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔ ثانیہ اردو اسکول کے معلم کی خودکشی نے پورے تعلیمی حلقے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک سوسائیڈ نوٹ بھی برآمد ہوا ہے جس میں ایک سابق ہیڈ ماسٹر اور ادارے کے ایک ذمہ دار سمیت بعض افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے امید ہے کہ مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد حقیقت سامنے آئے گی..
تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو ذہنی دباؤ، ہراسانی اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے مسائل بروقت حل نہ کیے جائیں تو وہ کسی بھی انسان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتے ہے. یہ واقعہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کے ماحول انتظامی رویّوں اور اساتذہ کو درپیش ذہنی دباؤ پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایک استاد جو قوم کے مستقبل کی تعمیر میں مصروف رہتا ہے اگر خود کو اس حد تک بے بس محسوس کرے کہ زندگی کا خاتمہ ہی واحد راستہ نظر آئے تو یہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کا موضوع ہے.
 ہمارے دفتر میں بھی مختلف اسکولوں کے تعلق سے شکایات آتی رہتی ہے زیادہ تر شکایات ان اساتذہ اور تدریسی عملے کی ہوتی ہیں جو ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں مگر انہیں اسکولوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ جب بھی اساتذہ اور دیگر عملے کی شکایات سنتے ہیں تو بے حد افسوس ہوتا ہے۔
اکثر ایسی شکایات موصول ہوتی ہیں کہ شہر کے بعض اسکولوں میں کئی اساتذہ برسوں سے خدمات انجام دینے کے باوجود آج تک پے رول میں شامل نہیں کیے گئے. بعض معاملات میں ضلع پریشد کے احکامات جاری ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جبکہ کچھ مقامات پر اساتذہ کو مستقل (Permanent) کرنے کے نام پر غیر قانونی رشوت خوری کے مطالبات کی شکایات بھی سامنے آتی ہے جو کے قابل افسوس ہے ایسے معاملات کو فوری توجہ کے ساتھ تحقیقات کرنی چاہیے.
آج اساتذہ کے وقار، تحفظ اور ذہنی صحت کے حوالے سے حوصلہ افزا خبریں کم ہی سامنے آ رہی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے باعزت، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کریں۔
اگر کسی استاد یا معلمہ کو ذہنی دباؤ، ناانصافی یا کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہو تو جہاں تک ممکن ہو، ان کا ساتھ دیں اور ان کی مدد کریں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں.
اگر ایک استاد ذہنی دباؤ، ناانصافی یا بے بسی کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا تعلیمی نظام اور آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے اساتذہ کی عزت، وقار اور ذہنی سکون کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے.
ایک ظلم کی کہانی ادھر بھی.....
دوسری جانب اگر سرکاری اسکولوں کی بات کی جائے تو سب سے پہلے سرکاری اسکول ہی بند کیے جا رہے ہیں۔ ایک ڈیٹا کے مطابق اب تک ملک میں 93 ہزار سرکاری اسکول بند کیے جا چکے ہیں، اور جو اسکول باقی بچے ہیں ان کا بھی برا حال ہے۔
آج انہی اسکولوں کے اساتذہ غیر تدریسی کاموں میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے ذمے SIR، Census اور الیکشن ڈپارٹمنٹ کے مختلف کام لگا دیے گئے ہیں، جنہیں انجام دینا ان کے لیے لازمی ہو گیا ہے.
ان اضافی ذمہ داریوں کے باعث اسکولوں میں طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے اور بچے معیاری تدریس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ خواہ ضلع پریشد کے اسکول ہوں یا میونسپل کارپوریشن کے تقریباً ہر جگہ یہی صورتحال نظر آتی ہے اور اساتذہ مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔