ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی - محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکل کوا ں۔
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی -
محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکل کوا ں۔
صداقت عدالت شجاعت اچھائی سچائی امانت داری راست بازی حقانیت احقاق حق وابطال باطل جیسے بلند خصائل ریب و تردد سے پاک اور شکوک و شبہات سے ازاد طمع لالچ تملقیت اور چاپلوسی جیسے برے خصائل سے پرے یہ وہ اچھائیاں سچائیاں اور خصائص ہیں جو بندہ مومن کی شان بتلائی گئی ہے اور انہی خصائص حسنہ کی بنیادوں پر اسلامی قافلہ روز ازل سے قائم دائم بلکہ دنیا پر چھایا ہوا ہے مگر عہد حاضر میں یہی خصائل بندہ مومن کی زندگیوں سے مفقود نظر اتے ہیں بلکہ سیاسی بازیگروں کے یہاں تو اسی کو کمال و جمال اور اعلی سیاست کا معیار سمجھا جا رہا ہے ۔۔جو جتنا بڑا جھوٹا مکار دغا باز خائن و بےایمان ہو وہ اتنا ہی بڑا باعزت محب وطن ایماندار اور اتنا ہی بڑا عوام الناس کا ہمدرد اور غم گسار مانا جا رہا ہے یہ انسانی ضمائرکی کجروی ہے اور انسانی طبائع کی بدبختی۔ کتابوں میں ایک بڑی دلچسپ حکایت مرقوم ہے
ہندوستان میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب ہریجنوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا ان لوگوں کے رہنے کا محلہ گاؤں سے دور ہوتا تھا پانی پینے کا کنواں بھی الگ ہوتا تھا چنانچہ ایک واقعہ لکھا ہے کہ پانچ ادمی سفر میں جا رہے تھے راستے میں پیاس نے بہت ستایا گرمی کا موسم تھا اتفاق سے ہریجنوں کا کنواں اگیا تو وہ پانچوں اپس میں مشورہ کرنے لگے کہ چلو سب کے سب اس کنویں کا پانی پی لیتے ہیں اور سب مل کر عہد کریں کہ یہ بات کسی دوسرے سے نہ کہیں گے کہ ہم نے ہریجنوں کے کنویں سے پانی پیا ہے پانچ ادمیوں میں سے چار متفق ہو گئے ایک ادمی نے کہا میں تو ہرگز نہیں پیوں گا یہ کہہ کر وہ اگے بڑھ گیا اور وہ چاروں بھی پانی پینے کے بعد چل پڑے جس کے یہاں مہمان بن کر جا رہے تھے اس کے گھر پانی نہ پینے والا ادمی پہلے ہی پہنچ گیا اور ان چار ادمیوں کی بات کہہ دی کہ ان لوگوں نے ہریجنوں کے کنویں کا پانی پیا ہے ہریجنوں کے کنوے کا پانی پینا ان کے مذہب کے بالکل خلاف تھا میزبان نے کہا اگر ایسا ہے تو ہم ان کو اپنے گھر میں نہیں انے دیں گے کچھ دیر کے بعد وہ چار ادمی بھی ا پہنچے جیسے ہی گھر میں گھسے تو دیکھا کہ وہ ادمی جس نے پانی نہیں پیا تھا چار پائی کے اوپر بڑے ٹھاٹھ سے بیٹھا ہوا ہے یہ چاروں ادمی ایک اواز ہو کر بول اٹھے اور میزبان سے کہنے لگے اس ادمی کو اپنے گھر میں کیوں بٹھا رکھا ہے اس نے تو ہریجنوں کے کنوے کا پانی پیا ہے اس نے ہر طرح سے تردید کی بلکہ یہ کہا کہ میں نے نہیں ان چاروں نے پیا ہے مگر اس ایک کی اواز ان چار ادمیوں کی اواز کے نیچے دب گئی گویا سچ پر جھوٹ کی فتح ہو گئی (جیسا کہ اج ہو رہا ہے) اور وہ ایک ادمی جو سچا تھا جھوٹا قرار دے کر گھر سے باہر نکال دیا گیا اور یہ چاروں بڑی شان سے میزبان کے گھر چارپائی کے اوپر جا کر بیٹھ گئے
عہد حاضر میں اج ہر جگہ یہی حالت ہو چکی ہے کہ سچے امانت دار حق پرست کم ہیں اور جھوٹے مکار دغا باز فریبی چور اچکے ڈاکو لفنگے زیادہ ہیں سچو اور حق پرستوں کو بے وقوف ذلیل اور حقیر سمجھا جانے لگا ہے اس کے بالمقابل جھوٹے مکار خائن بدقماش چور اور ڈاکوؤں کو اچھا سچا اور عقلمند و دانا گردانا جانے لگا ہے۔مرحوم ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہین بچے کو صحبت زاغ
Comments
Post a Comment