سوشل میڈیا نعمت بھی اور ازمائش بھی - ا زقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


سوشل میڈیا نعمت بھی اور ازمائش بھی -  
ا زقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986

سوشل میڈیا کا استعمال قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام انسان کو اپنی زبان، اعمال اور معاملات میں ذمہ داری اور احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا جدید دور کی ایجاد ہے، لیکن اس کے استعمال کے اصول ہمیں قرآن و سنت سے واضح طور پر ملتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"
(سورۂ الحجرات: 6)
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر، تصویر یا پیغام کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا درست نہیں۔ جھوٹی خبروں، افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو۔"
(سورۂ بنی اسرائیل: 36)
یہ آیت ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے اور ہر معاملے میں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
آج سوشل میڈیا بھی ہماری زبان کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ جو الفاظ ہم لکھتے ہیں، جو تصاویر ہم شیئر کرتے ہیں اور جو تبصرے ہم کرتے ہیں، ان سب کے بارے میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کو نیکی، علم، اخلاق اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ اپنی ذاتی زندگی، گھر کے حالات، سفر کی معلومات اور نجی معاملات کو بلا ضرورت عام کرنے سے گریز کریں، کیونکہ احتیاط انسان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
یاد رکھیں، جدید ٹیکنالوجی خود نہ اچھی ہے اور نہ بری، اس کا اچھا یا برا ہونا ہمارے استعمال پر منحصر ہے۔ اگر ہم اسے شعور، تقویٰ اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تو یہی سوشل میڈیا ہمارے علم، دعوت اور معاشرتی بھلائی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔