سرداد نداد دست در دست یزید۔ سیرت سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔ بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔


سرداد نداد دست در دست یزید۔ 
سیرت سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔ 
بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔ 

اس میں ذرا شک نہیں کہ اسلامی قافلہ روز اول سے ہی نمناک اور دلدوز حوا دثات وہ واقعات سے دو چار ہوتا رہا ہے دوسرے لفظوں میں کہ حق و باطل کی کشمکش (سنگھرش) ابتدا سے ہی جاری ہے باطل بھیس بدل بدل کر شکلیں بدل بدل کر حق کے بالمقابل اتا ہی رہا ہے ہاں لیکن سچائی یہ ہے کہ وفا پرست اسلام کے مردان کار ہر عہد اور زمانے میں پوری شدت و حدت کے ساتھ باطل کے بالمقابل کھڑے ہوئے اور اس کو ناکام اور پسپا ہونے پر مجبور کیا اگرچہ اس کام میں ان مردان کار کو سخت شدائد اور بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ مصائب و الام کی ہر خاردار جھاڑی سے دامن جھٹک کر مرضی مولا تک پہنچے اور کامیاب رہے بظاہر فورا کامیابی گرچہ نہ ملی ہو مگر انجام ؛حق پرستوں کا ہی بہتر رہا اس لیے کہ وفا کی راہوں میں جو زخم لگتے ہیں رائگاں نہیں جاتے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ حق کی راہوں میں مصائب کا جھیلنا برداشت کرنا قران و سنت کے عین مطابق یہ ہے محنت اور مجاہدہ کرنے والا اور شہادت کا مقام پانے والا کہ وہ کامیابی کی طرف گامزن ہونا ہے اس بات کو شہید ہونے والے صحابی کس انداز سے ظاہر کر رہے ہیں اور اس عقیدے کی وضاحت کر رہے ہیں -ان کو زخم لگا جان کے لالے پڑ رہے ہیں 'بلکہ انتقال سے کچھ ہی وقت پہلے جو تیر ا کر لگا ہے اس کے بعد ان کی زبان سے یہ کلمات جاری ہوتے ہیں. "فزت ورب الكعبه" رب کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہو گیا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور پھر بھی اس بندہ خدا کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں "فزت ورب الكعبه " سننے والا کافر یہ سمجھنے سے قاصر ہے اس معمے کو حل نہیں کر پا رہا ہے کہ اس کی جان جا رہی ہے اور اس کی زبان پر یہ کلمات ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا کہ کون سی کامیابی ہے یہ کون سی کامیابی ہے؟جی ہاں اس بات کو سمجھنے کے لیے اس معمہ کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے ایمان و عقیدہ کی روشنی ہونی چاہیے تو پھر یہ معمہ حل ہو جاتا ہے اور بات سمجھ میں انے لگتی ہے فرمان الہی میں جو راز سربستہ ہیں اس پر نظر ڈالیے قران مجید کا ارشاد مبارک ہے" "ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين"اسی طرح اور ایک جگہ ارشاد ہے۔" انما يوفى الصابرون اجرهم بغير حساب"اور ارشاد فرمایا 
لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون 
قران مجید میں اور بھی جگہ اس قسم کے مضامین بیان فرما کر یہ قلعی کھولی ہے کہ راہ حق اور جادہ مستقیم پر گامزن ان وفا پرست اسلام کے مردان کار جنہوں نے اپنا سب کچھ اسی احقاق حق اور ابطال باطل کی راہ میں تج دیا ہے ہر حال میں وہی کامیاب ہوئے اوران کے بعد ان کا ذکر خیر ہی ان کی کامیابی کی بڑی دلیل ہے پھر دوسرے نظریے اور زاویے سے بھی دیکھا جائے تو ہر شریف النفس انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت وہ شرافت و خودداری کی موت کو ترجیح دیتا ہے اس کی امید ہوتی ہے دست قضا میں صورت شمشیر بنے خدا اعتمادی اور خود اعتمادی اور خودداری کےساتھ موت کو ترجیح دے کر باطل کے ایوانوں میں ایک زلزلہ پیدا کر دیں اور حقیقی اور ابد الآباد والی زندگی میں قدم رکھیں اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب زندگی کا ایک ایک ورق یہی کردار پیش کر رہا ہے اور اج تک زندہ و سلامت ہے اور لوگوں کے دلوں کو ایک ولولہ اور حوصلہ بخش رہا ہے سچ یہ ہے کہ حسین کل بھی زندہ تھے اج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ یزید کل تھا اج نہیں ہے اور قیامت تک اس کا نام لینے والا کوئی بھی نہ رہے گا قران مجید کا وہ اسلوب بیاں تو دیکھیے! لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے زندہ رہتے ہیں انہیں موت نہیں اتی سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے ایک اہم مقصد کے لیے میدان کربلا میں جان وتن کا نذرانہ پیش کیا درحقیقت وہ دین حنیف کی بقا و تحفظ کے لیے انتہائی اہم قدم تھا۔ شاعر کہتا ہے 
اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول 
تڑپی ہے تجھ پہ نعش جگر گوشہ بتول 
کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی 
ازادی حیات کا یہ سرمدی وصول 
چڑھ جائے کٹ کے سر تیرا نیزے کی نوک پر 
لیکن تو فاسقوں کی اطاعت نہ کر قبول 
یہی ہوتا ہے عقیدہ اور خودداری کربلا میں اپنے 72 نہ تو کے ساتھ سر کٹا کر اور اہل خانہ کی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ سچائی حقانیت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کوئی معنی نہیں رکھتی 
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں 
ایک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیا ں نہیں 
یہاں اور ایک بات سمجھتے چلیں وہ سچائی کیا تھی جس سے سیدنا حسین نے پردے ہٹائے اور یزید اور اس کی پوری لابی اور اس کے حواریین کی باطل پرستی کو طشت ازبام کیا ائیے اس کو تاریخ کے حوالوں سے سمجھتے چلیں مسئلہ اصل میں خلافت کا تھا کے خلافت پر ہر کوئی متمکن نہیں ہو سکتا تخت خلافت پر اسی کا حق ہوتا ہے جو متدین متشرع اور علوم اسلامیہ کا ماہر ہو اور یزید میں وہ اہلیت نہیں تھی یزید جہاں دمشق میں وہ تخت خلافت پر متمکن تھا قریب میں کوفہ بصرہ اور بہت سارے علاقے کے لوگ اس سے بدظن اور اس کو نااہل سمجھتے ہیں انہی لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو خطوط بھی لکھے مورخ اور محدث کبیر کامل ابن اثیر رحمت اللہ علیہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اہل بصرہ نے اپ کو کئی خطوط لکھے جن میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں مٹ رہی ہیں اور بدعات کا عروج ہو رہا ہے ہم تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ قران و سنت کی حفاظت کریں اور ان کے احکامات کی تنفیذکےلئے کوشش کریں اور اسی جذبات کے تحت سیدنا حسین نے خروج کیا مورخین لکھتے ہیں انہی جذبات سے معمور ہو کر اپ مدینہ سے نکل کر کربلا کی طرف چلے تو راستے میں عربی نظر مشہور شاعر فرزدق کی ملاقات ہو گئی اس نے اپنے مشفقانہ مشورے دیے اور اپ کو کوفہ جانے سے روکا حضرت عبداللہ ابن عمر عبداللہ ابن عباس اور دیگر صحابہ نے بھی اپ سے ہمدردی کی اور یہ کہا کہ کوفی اور اہل بصرہ یہ اپ کے ساتھ نہیں ہوں گے ( جاری)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔