جب تہذیب ہارتی ہے۔ ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی شولاپوری۔


جب تہذیب ہارتی ہے۔ 
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی شولاپوری۔

تہذیبوں کی شکست میدانِ جنگ میں نہیں لکھی جاتی، اس کی ابتدا انسان کے ذہن میں ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت نہیں ہارتیں جب ان کے قلعے مسمار ہوتے ہیں، بلکہ اس وقت ہار جاتی ہیں جب ان کے اصول مشکوک اور ان کی اقدار قابلِ مذاق بنا دی جاتی ہیں۔ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی کسی شہر پر قبضہ نہیں بلکہ کسی قوم کے شعور پر قبضہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ جن قوموں نے اپنی تہذیبی بنیادیں محفوظ رکھیں، وہ سیاسی شکست کے باوجود زندہ رہیں، اور جنہوں نے اپنی فکری بنیادیں کھو دیں، وہ اقتصادی قوت اور عسکری طاقت رکھنے کے باوجود تاریخ کے ملبے میں دفن ہو گئیں۔ اس لیے تہذیب کا زوال کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں نظریات، ادارے، تعلیم، قانون، معیشت، ذرائع ابلاغ اور خاندانی نظام ایک دوسرے سے کٹتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ قوم کو اپنی شکست کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔
یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہر دور میں تہذیب کو گرانے والوں نے کبھی خود کو تہذیب شکن نہیں کہا۔ انہوں نے ہمیشہ آزادی، ترقی، مساوات، روشن خیالی اور انسانی حقوق جیسے دلکش عنوانات اختیار کیے۔ الفاظ وہی رہے جن سے انسان محبت کرتا ہے، مگر ان کے مفاہیم بدل دیے گئے۔ آزادی کو ذمہ داری سے جدا کر دیا گیا، مساوات کو فطرت کے انکار میں بدل دیا گیا، ترقی کو روایت سے بغاوت کا نام دے دیا گیا اور حقوق کو فرائض سے کاٹ کر پیش کیا گیا۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں محسوس کرتی ہیں کہ وہ آگے بڑھ رہی ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی بنیادوں سے دور جا رہی ہوتی ہیں۔ تہذیب کبھی ایک ہی ضرب سے نہیں ٹوٹتی، اس کے ستون ایک ایک کرکے گرائے جاتے ہیں۔ پہلے خاندان کمزور ہوتا ہے، پھر تعلیم اپنا مقصد بدلتی ہے، پھر میڈیا ذوق بدلتا ہے، پھر قانون اقدار کے بجائے خواہشات کی ترجمانی کرنے لگتا ہے اور آخرکار مذہب کو صرف انفرادی عبادت تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد معاشرہ زندہ ضرور رہتا ہے، مگر اس کی روح نکل چکی ہوتی ہے۔
تعلیم کسی بھی تہذیب کی نرسری ہوتی ہے۔ ہر قوم اپنے کل کا نقشہ آج کے تعلیمی اداروں میں بناتی ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف روزگار رہ جائے اور کردار اس کے دائرے سے نکل جائے تو معاشرہ ماہرین تو پیدا کرتا ہے مگر رہنما پیدا نہیں کرتا۔ اگر علم کا تعلق صرف عقل سے جوڑ دیا جائے اور اخلاق کو ذاتی پسند قرار دے دیا جائے تو پھر تعلیم گاہیں ڈگریاں تو بانٹتی ہیں مگر تہذیب کی حفاظت نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی معاشروں میں تعلیم کا معیار بلند ہے، مگر خاندانی نظام کمزور، نفسیاتی امراض عام، تنہائی وبا اور اعتماد ناپید ہے۔ علم بڑھا ہے مگر حکمت گھٹی ہے، معلومات میں اضافہ ہوا ہے مگر بصیرت کم ہوئی ہے۔ جب تعلیم انسان کو صرف کامیاب بنانا چاہے اور صالح بنانا چھوڑ دے تو تہذیب کی شکست کا پہلا اعلان ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں مخلوط تعلیم پر ہونے والی بحث کو بھی صرف نشست و برخاست کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس سوال کے طور پر دیکھنا ہوگا کہ تعلیم کا مطلوب انسان کون ہے، اور وہ کس قسم کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتی ہے۔
خاندان کسی بھی تہذیب کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے۔ بچہ زبان گھر سے سیکھتا ہے، احترام گھر سے سیکھتا ہے، حیا گھر سے سیکھتا ہے اور ذمہ داری بھی گھر ہی سے سیکھتا ہے۔ جب خاندان کمزور ہوتا ہے تو کوئی ریاست، کوئی عدالت اور کوئی نصاب اس خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر سکتا۔ آج ذرائع ابلاغ نے گھر کی دیواروں سے زیادہ ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب والدین بچوں کی شخصیت بناتے تھے، آج اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور تفریحی صنعت ان کی ترجیحات طے کر رہے ہیں۔ اشتہارات صرف چیزیں نہیں بیچتے، طرزِ زندگی بھی بیچتے ہیں۔ فلمیں صرف کہانیاں نہیں سناتیں، اقدار بھی منتقل کرتی ہیں۔ ڈرامے صرف کردار نہیں دکھاتے، تعلقات کی نئی تعریفیں بھی قائم کرتے ہیں۔ جب مسلسل یہ بتایا جائے کہ زندگی کا مقصد صرف لطف، خواہش اور ذاتی اطمینان ہے تو ایثار، قربانی، وفاداری اور حیا جیسے الفاظ خود بخود اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب شکست کھانے لگتی ہے، کیونکہ تہذیب کی حفاظت قانون سے پہلے ضمیر کرتا ہے، اور جب ضمیر ہی بدل جائے تو قانون بھی بے بس ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔