ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے - از قلم: اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید ) سولاپور۔
ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے -
از قلم: اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید ) سولاپور۔
شولاپور: یہ مصرع در اصل امید، عزم، ایمان اور حیاتِ دوام کا استعارہ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنے کردار اپنے افکار اپنی قربانیوں اور اپنی خدمات کے ذریعے ہمیشہ کے لئے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ان پر نوحہ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جسم فنا ہو جاتا ہے مگر کردار کبھی نہیں مرتا۔جو لوگ حق، انصاف،علم، انسانیت اور اخلاق کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔وہ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ ہر انے والی نسل کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ایسے افراد کی وفات محض ایک جسمانی جدائی ہوتی ہے۔ان کی فکر، تعلیمات اور خدمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں۔اگر چہ ہماری نگاہیں ان کی حیات کو محسوس نہیں کر سکتیں۔اس طرح وہ تمام افراد جو معاشرے میں خیر، محبت، علم اور اخلاص کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عظیم شخصیات کی وفات پر صرف آنسو نہ بہائیں بلکہ ان کے مشن، ان کی تعلیمات اور ان کے کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔یہی ان کے لئے خراجِ عقیدت ہے۔قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے محسنوں کی یاد کو عمل کے ذریعے زندہ رکھتی ہیں۔نہ کہ صرف تعزیتی الفاظ کے ذریعے۔
" ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے " ایک ایسا پیغام ہے جو ہمیں مایوسی کے بجائے امید، بے عملی کے بجائے جدوجہد،اور نوحہ و فریاد کے بجائے عمل اور استقامت کی دعوت دیتا ہے۔جو لوگ اپنے اخلاق، علم اور خدمت سے امر ہو جاتے ہیں وہ کبھی مرتے نہیں، وہ آنے والے زمانوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے آنسو نہیں، ڈھول بجانے نہیں، بلکہ ان کے نقش قدم پر چلنے کا عہد ہی سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہے۔
از قلم: اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید )
Comments
Post a Comment