مبدا تاریخ! ماہ محرم الحرام - بقلم : محمد ناظم ملی جامعہ اکلکواں۔


مبدا تاریخ! ماہ محرم الحرام -  
بقلم : محمد ناظم ملی جامعہ اکلکواں۔

ماہ محرم الحرام اسلامی نئے سال کا ابتدائی مہینہ ہے یہاں یہ بات واضح کرتے چلیں کہ سن 11 نبوی میں ہی اسلام کی کرنیں مدینہ منورہ کے گلیاروں کو منور کر چکی تھی قبل از ہجرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اہل یثرب یعنی باشندگان مدینہ اسلام کی تب و تاب اور روشن ہدایات سے اشنا ہو چکے تھے اس کے بعد سن 13 نبوی میں 12 ربیع الاول کو حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خیر اباد کہااور مدینہ کیطرف روانہ ہو گئے تاریخ و سیر کے ماہرین اور علمائے تاریخ نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ محرم کی پہلی تاریخ سے ہی مسلمان مدینہ کی طرف کوچ کرنے لگے تھے پھر جب اصحاب رسول نے مشورہ کر کے یہ طے کر لیا کہ اسلامی تاریخ کا مبدا واقعہ ہجرت کو قرار دیا جائے تو پھر یہ سوال بھی پیش ایا کہ ہجرت کا واقعہ تو 12 ربیع الاول کو پیش ایا لہذا اسی سال ہجرت سے ہمارا سال بھی شروع ہونا چاہیے اور 11 ربیع الاول پر ختم ہونا چاہیے اور پھر بحث و مباحثے کے بعد سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فرمایا کہ مبدا تاریخ تو ہجرت کے واقعہ ہی کو بنایا جائے البتہ سال کی شروعات محرم کی پہلی تاریخ سے ہی شروع کریں گے اس لیے کہ عرب کے اندر قمری دور اسی طرح سے چلا ا رہا ہے۔ اسی لیے مہینوں کے نام بھی وہی رکھے گئے جو عرب میں قدیم زمانے سے رائج تھے اور وہ یعنی عرب ان کو استعمال کرتے چلے ائے تھے
اس لیے کہ قران کریم میں اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ" تمہاری عبادتیں قمری ماہ اور چاند کے حساب سے وابستہ کر دی گئی ہیں۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے اور مفسرین نے صراحت کی ہے کہ چاند کی تاریخ کا نظام باقی رکھنا ہر مسلمان کے ذمے واجب ہے اور واجب اس لیے ہیں کہ ہمارے دین و شریعت کی بہت سی باتیں عبادتیں اور معاملات قمری ماہ اور چاند کی تاریخ سے متعلق ہیں
مثلا کسی کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت "چار مہینے دس دن ہیں" یہ چار مہینے کون سے ہیں چاند کے ہیں اسی طرح اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی "عدت تین مہینے ہیں" یہ تین مہینے کون سے ہیں چاند کے ہیں اور فرمایا کہ ان احکامات کے اندر اتنی باریکی ۔‌؟‌! ہیں کہ اگر کسی عورت نے دو مہینے 29 دن عدت طلاق گزار لی اور 29 ویں تاریخ کو چاند نہیں ہوا اور 30 ویں تاریخ کو اس نے نکاح کر لیا تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس عورت کا نکاح جائز نہیں ہوا اس لیے کہ اس کی عدت پوری تین مہینے میں ختم ہوتی تھی لیکن اس نے اخری دن نہیں گزارا اور چونکہ اخری دن پورا کیے بغیر اس نے نکاح کر لیا لہذا اس کا نکاح صحیح نہیں ہوا بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ چونکہ ہماری بہت سی عبادتیں عرب میں رائج قمری دور اور چاند کے نظام سے متعلق کر دی گئی ہیں لہذا ہم چاند کا وہی نظام لیتے ہیں مثلا کسی کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت مر جائے تو اس کی عدت" چار مہینے دس دن ہیں" یہ چار مہینے کون سے ہیں؟چاند کے ہیں اسی طرح اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی عدت" تین مہینے ہیں" یہ تین مہینے کون سے ہیں؟چاند کے ہیں اور فرمایا کہ ان احکام کے اندر اتنی باریکیاں ہیں کہ اگر کسی عورت نے دو مہینے 29 دن عدت طلاق گزار لی اور 29 ویں تاریخ کو اس نے نکاح کر لیا تو فقہائے اسلام فرماتے ہیں کہ اس عورت کا نکاح جائز نہیں ہوا ! اس لیے کہ اس کی عدت پورے تین مہینے ہیں وہ پوری نہیں ہوئی بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ چونکہ ہماری بہت سی عبادتیں عرب میں رائج قمری دور اور چاند کے نظام سے متعلق کر دی گئی ہیں لہذا ہم چاند کا وہی نظام لیتے ہیں جو اسلام سےپہلے بھی عربوں کے درمیان رائج تھا اور اس نظام میں سال کی ابتدا محرم الحرام سے ہوئی تھی لہذا ہمارے اسلامی سال کی ابتدا بھی محرم الحرام کے پہلی تاریخ سے ہی ہوں گی اور رہی محرم الحرام اور ربیع الاول کے درمیان کے دو مہینے 11 دن کی مدت تو اس کسر کو نکال دیا جائے اس طرح ہجرت اور محرم الحرام کے درمیان مطابقت پیدا کر کے ہجری سال مانا گیا چنانچہ جب ماہ محرم اتا ہے تو وہ ہم کو تاریخ کا وہ عظیم سفر ہجرت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دین و مذہب کی خاطر مکہ کو چھوڑ مدینہ چلے گئے تھے) کی یاد دلاتا ہے. اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ کا مقصد اور منشا بھی یہی ہوتا ہے کہ قوم کو یہ پتہ چلے کہ ہمارے بزرگوں نے ہمارے ابا و اجداد نے کیا کیا کارنامے انجام دیے ہیں کن راہوں اور مشکلات سے گزر کر انہوں نے قوم کی بھلائی کے لیے ان کو راہیں دکھائی ہیں اس طرح جب قوم کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے ابا ءو اجداد نے نے اللہ کے دین کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا عزیز و اقارب کو چھوڑ دیا تھا تو ان کی رگوں میں جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں جنہوں نے اللہ کے دین کے لیے یہ کارنام انجام دیے تھے ان میں غیرت و حمیت کا ایک طوفان برپا ہونے لگتا ہے اور حالات حاضرہ میں جینا ان کے لیے اسان ہو جاتا ہے اور تاریخ کی تعریف علمائے تاریخ نے یہی فرمائی ہیں کہ قدیم احوال زندگی کو لے کر جدید احوال کے ساتھ موازنہ کرنا اور پھر اپنے لیے راہ استوار کرنا چنانچہ ہجرت کا یہ سفر تمام مسلمانوں کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ اگر اپنے ایمان کی بقا کی خاطر بڑے سے بڑی قربانی دینے کا وقت بھی آجائے حتی کہ گھردار چھوڑنے کی بھی نوبت ا جائے تو دریغ نہیں کیا جا ناچاہئے کے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔