ٹی سی ایس کا ہوّا اور نوجوانوں میں ڈر - افواہوں سے بالاتر ہو کر ہنر کو بنائیں اپنی پہچان۔ ازقلم : وسیم رضا خان۔
ٹی سی ایس کا ہوّا اور نوجوانوں میں ڈر - افواہوں سے بالاتر ہو کر ہنر کو بنائیں اپنی پہچان۔
ازقلم : وسیم رضا خان۔
حال ہی میں ناسک شہر کی ایک جانی مانی ملٹی نیشنل کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا معاملہ کافی بحث میں رہا ہے۔ اس واقعے کو لے کر سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر کئی طرح کی باتیں کی گئیں، اسے الگ الگ رنگ دینے کی کوشش ہوئی اور کورٹ میں یہ معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ اس دوران کچھ سماجی تنظیموں نے بھی قانونی اور اخلاقی طور پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے، جسے معاشرے کا ایک سمجھدار طبقہ انصاف کی سمت میں اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک انجانا ڈر اور وہم پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کی وجہ سے کئی مسلم نوجوانوں کے دل میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا کارپوریٹ سیکٹر میں ان کے لیے راستے بند ہو رہے ہیں؟ کیا کمپنیاں اب کسی خاص نظریے سے ان کے ہنر کو پرکھیں گی؟
اگر ہم افواہوں کے بازار سے ہٹ کر ناسک اور ملک کی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی زمینی حقیقت دیکھیں، تو تصویر بالکل الگ اور حوصلہ بڑھانے والی ہے۔ حال ہی میں مختلف کمپنیوں کے ایچ آر (HR) پروفیشنلز اور وہاں کام کر رہے نوجوانوں سے بات چیت میں یہ صاف ہوا ہے کہ کارپوریٹ دنیا آج بھی پوری طرح پروفیشنلزم پر چلتی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں—آپ کا تجربہ، کام کرنے کا طریقہ اور کام کو لے کر آپ کا جوش۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں کسی شخص کا مذہب، ذات یا پس منظر دیکھ کر نہیں، بلکہ اس کی اسکلز (Skills) دیکھ کر اسے نوکری دیتی ہیں۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ کسی ایک تنازع کی وجہ سے پورے طبقے کے لیے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ کمپنیوں کے دروازے ہر اس نوجوان کے لیے کھلے ہیں جس کے پاس ہنر ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت اور ہنر کے ساتھ ساتھ تھوڑی عملی سمجھ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے کام کی جگہ پر کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، تاکہ وہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا تنازع سے بچے رہیں۔ آفس میں تمام ساتھیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ اور خوشگوار تعلقات رکھیں۔ حالانکہ، یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آفس کی دوستی کا ایک دائرہ ہو۔ بہت زیادہ گہری دوستی یا خاندانی سطح تک رسائی کبھی کبھی انجانے میں پیشہ ورانہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر خاتون ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کو ہمیشہ حد میں، باوقار اور پیشہ ورانہ بنائے رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انہونی یا غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔
دفتر صرف کام کے لیے ہوتا ہے۔ آفس کے ماحول میں مذہب، تہواروں، رسم و رواج یا مذہبی کتابوں سے جڑی حساس ابحاث سے پوری طرح دور رہیں۔ ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہوتا ہے، اس لیے پیشہ ورانہ دائرے میں رہتے ہوئے صرف بزنس اور کام سے جڑی باتیں کرنا ہی سب سے محفوظ اور صحیح طریقہ ہے۔ اگر آپ کے جائے عمل یا اسٹاف میں دیگر خواتین ساتھی یا آپ کی کمیونٹی کی نوجوان لڑکیاں کام کر رہی ہیں، تو ایک ذمہ دار ساتھی کے ناطے ان کی حفاظت اور وقار کا احترام کریں۔ انہیں یہ بھروسہ دلائیں کہ اگر جائے عمل پر انہیں کسی بھی طرح کی بے چینی یا انہونی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ بلا جھجک بات کر سکتی ہیں اور اس کی شکایت ایچ آر یا مینجمنٹ سے کر سکتی ہیں۔
اس مضمون کے لکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ کسی بھی طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی ہمت اور اپنے ہنر کو ضائع نہ کرے۔ اگر آپ میں قابلیت ہے، تو ملک اور دنیا کی کوئی بھی بڑی کمپنی آپ کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ جس بھی کمپنی میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں، وہاں بلا جھجک اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی امیدواری درج کریں۔ اپنی توانائی کو افواہوں پر برباد کرنے کے بجائے اپنی اسکلز کو اپ گریڈ کرنے میں لگائیں۔ یاد رکھیں، آپ کی کامیابی ہی ہر اس طاقت کو سب سے بڑا جواب ہوگی جو نوجوانوں کو بے روزگار یا گمراہ دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ کی محنت، آپ کی ایمانداری اور آپ کا ہنر ہی آپ کی اصل پہچان ہے۔
Comments
Post a Comment