فیاض شکیب کی شاعری: روایت، جدت اور عصری حسیات (سگریٹ کی راکھ اور لہو لہو سمندر: فیاض شکیب کا جدید استعاراتی نظام)۔ ازقلم : اسماء جبين فلک۔( اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یشونت رائو چوان، آرٹس و سائنس مہاودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر)


فیاض شکیب کی شاعری: روایت، جدت اور عصری حسیات 
(سگریٹ کی راکھ اور لہو لہو سمندر: فیاض شکیب کا جدید استعاراتی نظام)
ازقلم : اسماء جبين فلک۔
( اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یشونت رائو چوان، آرٹس و سائنس مہاودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر)
موبائل: 9881258485

ابتدائیہ
اردو شاعری کی روایت میں جب ہم "نیا لب و لہجہ" کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہماری نگاہیں ترقی پسند تحریک کے انقلابی شور، جدیدیت کی علامتی پیچیدگیوں، یا مابعد جدیدیت کی بے ساختہ بکھرتی ہوئی ہیئت پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ مگر ان تمام بڑی تحریکوں کے درمیان کچھ ایسے شاعر بھی ہیں جو کسی خاص نظریاتی پرچم تلے تو نہیں آتے، مگر اپنی ذات کے اندر ایک پوری دنیا آباد کیے ہوئے ہیں۔ فیاض شکیب ایسے ہی ایک شاعر ہیں جن کا تعلق دکن کے چن پٹن (تمل ناڈو) کی مٹی سے ہے، مگر جن کی زندگی کا بڑا حصہ صحرائے عرب کے شہر تبوک کی گرم ریت پر بیتا۔ ستائیس برس کی یہ جسمانی جلاوطنی ان کی شاعری کا روحانی مرکز بن جاتی ہے، اور یہیں سے ان کا نیا لب و لہجہ جنم لیتا ہے۔
شاعری کا لب و لہجہ محض زبان یا اسلوب کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ شاعر کے وجود کی گونج ہے۔ جب فیاض شکیب کہتے ہیں:
"عین راضی بہ رضا اپنے وطن سے تھا شکیب
کھینچ کر دور مجھے لے گئے دانے میرے"
تو اس ایک شعر میں پوری ایک ثقافت کی اذیت بھری ہے۔ شاعر خود کو "دانہ" کہتا ہے یعنی وہ بیج جو اپنی زمین میں جڑا تھا، اپنی مٹی کی نمی اور ہوا کا عادی تھا، مگر کسی اجنبی ہاتھ نے اسے جڑ سے اکھاڑ کر ریت کے طوفان میں پھینک دیا۔ یہاں "دانے" کا استعارہ صرف جلاوطنی کا پیکر نہیں، بلکہ ایک مکمل وجودی بحران (existential crisis) ہے۔ جدید دور کا انسان، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی تارکینِ وطن مزدور قوت، اسی دانے کی مانند ہے جو اپنے وطن کی خوشبو کو یاد رکھتے ہوئے بھی اجنبی سرزمین پر پنپنے پر مجبور ہے۔
شکیب کی شاعری میں روایت کا احترام اور جدت کا شعور ایک دلچسپ امتزاج ہے۔ پروفیسر آلِ احمد سرور نے کہا تھا کہ بڑا شاعر وہ ہے جو زندگی کے بارے میں گہری اور بھرپور بصیرت عطا کرے، اور فیاض شکیب اسی بصیرت کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ مگر ان کی بصیرت کسی بڑی نظریاتی کتاب سے حاصل نہیں ہوئی، بلکہ صحرا کی تنہائی کی راتوں میں، تبوک کی بندرگاہوں پر بیٹھے ہوئے اور اپنے گاؤں کی یادوں کو سینے سے لگائے ہوئے وجود میں آئی ہے۔ راحت اندوری کا مصرع ہے: "جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو غزل کا نام دے، رات بھر کی کروٹوں کا ذائقہ منظوم کر"۔ فیاض شکیب نے بالکل یہی کیا ہے۔ ان کی غزل رات بھر کی کروٹوں کا ذائقہ ہے؛ وہ محض "خواب" نہیں، بلکہ خوابوں کی موت اور پھر اسی موت سے شاعری کی تخلیق کا المیہ ہے۔
اس لب و لہجے کی ایک اور پہچان یہ ہے کہ شکیب نے روایتی غزل کی اصطلاحات یعنی شمع، پروانہ، گل، بلبل اور میخانے کی تمام تر تلمیحات کو برائے نام نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ان علامتوں پر تو ہر ممکن تغیر و تبدل کے ساتھ شعر کہے جا چکے ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے اپنے گرد و پیش کی جدید مادی چیزوں کو استعارے کا درجہ دیا ہے جن میں سگریٹ، انگارہ، سمندر، تکیہ، کھلونا اور سورج شامل ہیں۔ ان میں سے ہر شے جدید انسان کے روزمرہ کا حصہ ہے، مگر شکیب نے انہیں کلاسیکی علامتوں کا متبادل بنا کر ایک نیا شعری نظام تخلیق کیا ہے۔ ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید نے جب کہا کہ شکیب نے نئے انداز کی شاعری کی ہے مگر نئی شاعری کی کرتب بازیوں سے بچے رہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ شکیب نے جدت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اسے محض تماشا نہیں بننے دیا۔
اب اگر ہم ان کے لہجے کی چاشنی اور کڑواہٹ کا جائزہ لیں تو دیکھتے ہیں کہ شکیب کا لہجہ ایک ایسے شخص کا ہے جس نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہے۔
"دل کی دھرتی سونی دھرتی کون یہاں تک آتا ہے
بھولے بھٹکے آنے والا انگارہ ہو جاتا ہے"
اس شعر میں صحرا کی تپش، وطن کی خاموشی اور لوٹنے والے کی تباہی، تینوں ایک ساتھ سمٹ آئے ہیں۔ وطن کا "سونا" (ویران) ہونا اس کرب کی علامت ہے کہ جسمانی طور پر تو کوئی اپنے گاؤں جا سکتا ہے، مگر روحانی اور جذباتی طور پر وہ اب وہاں کا نہیں رہا۔ اس سفر میں جو بھولے بھٹکے آتا ہے، وہ "انگارہ" ہو جاتا ہے یعنی جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی جدید نفسیاتی حقیقت ہے جسے بہت کم شاعروں نے اتنی سادگی سے بیان کیا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ شکیب کی شاعری میں اگرچہ احتجاج ہے، شکوہ ہے اور تلخی ہے، مگر وہ کبھی بھی اپنے قاری کو مایوسی کی گہرائیوں میں دھکیل نہیں دیتے۔ ان کا لہجہ ایک آئینے کی مانند ہے جس میں زمانے کی بدقماشی تو جھلکتی ہے، مگر ساتھ ہی ایک خلوص کی چمک بھی ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"اس شخص کا خلوص ہے شفاف آئینہ
کیا کیجئے کہ وقت بڑا بد قماش ہے"
یہاں آئینہ روایت کا حصہ تو ہے، مگر شکیب نے اسے ایک جدید تناظر عطا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے اندر کا خلوص تو آئینے کی طرح صاف ہے، مگر زمانہ خود اتنا خراب ہے کہ اس آئینے کو بھی قبول نہیں کرتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شکیب کا انفرادی کرب ایک اجتماعی شکایت میں ڈھل جاتا ہے۔
اس پہلے حصے کے اختتام پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیاض شکیب کا نیا لب و لہجہ محض الفاظ کا نیا پیکر نہیں، بلکہ ایک نئی حسیات کا نام ہے؛ وہ حسیات جو صحرا کی تنہائی، تارکینِ وطن کی بے سکونی اور جدید معاشرے کی تلخ حقیقتوں سے وجود میں آئی ہے۔ ان کی شاعری کا استعاراتی نظام روایت کو تو توڑتا ہے مگر اس کی جڑوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فیاض شکیب نے اردو غزل کو ایک ایسی سمت دی ہے جہاں وہ پرانی تلمیحات کے بغیر بھی اپنے معنی پیدا کر سکتی ہے، اور یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
فیاض شکیب کی شاعری: استعارات کا نیا نظام۔ راکھ، انگارہ اور سمندر کا المیہ
شاعری کا حسن صرف موسیقی اور وزن میں نہیں، بلکہ اس کی معنوی گہرائی میں ہے، اور معنویت کا انحصار استعاراتی نظام پر ہے۔ روایتی اردو شاعری کی عمارت شمع و پروانہ، گل و بلبل، صیقلِ آئینہ اور ساقی و جام جیسی علامتوں پر استوار تھی۔ ان علامتوں نے صدیوں تک شاعروں کو ایک مشترکہ استعاراتی ذخیرہ فراہم کیا، جس کے بغیر کوئی شعر سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ مگر وقت بدلا، سماج بدلا، انسان کا مادی ماحول بدلا، اور شاعری کی علامتوں کا یہ قائم شدہ نظام بھی کمزور پڑنے لگا۔ فیاض شکیب نے اس تبدیلی کو نہ صرف محسوس کیا، بلکہ اسے اپنے شعری نظام میں برقرار رکھنے کی جرأت کی۔ انہوں نے مروجہ تلمیحات کو مکمل طور پر ترک کر دیا اور اپنے گرد کی جدید اشیاء کو استعارے کا درجہ دیا۔ یہی ان کے لب و لہجے کی سب سے بڑی جدت ہے۔
شکیب کے استعاراتی نظام کا مرکز "سگریٹ" ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"جلتا سگریٹ ہے لبوں پر میرے، 
اور سگریٹ کی راکھ پر دنیا"
یہ شعر ایک مکمل فلسفہ ہے۔ روایتی شاعری میں "شمع" ایک محبوب علامت تھی جو رات بھر جلتی رہتی تھی اور پروانے کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ مگر شکیب کا سگریٹ شمع نہیں ہے۔ یہ کوئی روشنی نہیں دیتا، نہ کسی کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ یہ صرف جل کر راکھ ہو رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جدید انسان اپنی زندگی کو صرف استعمال اور فنا کے لیے جی رہا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ "سگریٹ کی راکھ پر دنیا" یعنی پوری دنیا اسی فنا ہوتی ہوئی راکھ پر قائم ہے۔ یہ کتنا بڑا صدمہ ہے کہ شاعر اپنے ہونٹوں پر ایک جلتا ہوا سگریٹ رکھتا ہے اور اس کی راکھ کو دیکھ کر اسے پوری کائنات کی بے ثباتی نظر آتی ہے۔ یہ استعارہ جدیدیت کے اس المیے کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان اپنی ہی تخلیق کردہ چیزوں (جیسے سگریٹ، مشینری، آلودگی) کا شکار ہو کر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سگریٹ کے بعد دوسرا اہم اور بار بار آنے والا استعارہ شکیب کے ہاں "انگارہ" ہے۔ اس کا استعمال اتنا کثیر اور متنوع ہے کہ انگارہ شکیب کی شاعری کا ایک اہم محور بن جاتا ہے۔ دیکھیے:
"ہاتھ پھیلا کر ضرورت جل گئی میری شکیب
بھیک کا کاسہ مری مٹھی میں انگارہ ہوا"
یہاں شاعر کہہ رہا ہے کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہاتھ پھیلایا (بھیک مانگی)، مگر اسے جو ملا وہ انگارہ تھا، جس نے اس کی مٹھی جلا کر رکھ دی۔ یہ معاشی استحصال اور مزدوروں کی بدترین حالت کی علامت ہے۔ تبوک جیسے شہر میں جہاں لاکھوں تارکینِ وطن محنت کرتے ہیں، وہاں مزدور کو اپنی محنت کا پورا صلہ نہیں ملتا، اور اگر ملتا ہے تو اس قدر تلخ کہ جیسے انگارے ہوں۔ "بھیک کا کاسہ" کہہ کر شاعر نے اپنی عزتِ نفس کے ساتھ ساتھ اس سماجی رویے پر بھی طنز کیا ہے جو مزدور کو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر اسے انگارہ تھما دیتا ہے۔
انگارے کا ایک اور اہم استعمال وطن واپسی کے سیاق میں ملتا ہے:
"بھولے بھٹکے آنے والا انگارہ ہو جاتا ہے"
یعنی جب کوئی اپنے وطن واپس آتا ہے تو اسے بھی کوئی سکون نہیں ملتا، بلکہ وہاں بھی وہ انگارہ ہو جاتا ہے۔ یہ جلاوطنی کی دوسری منزل ہے۔ پہلی منزل جلاوطنی کا کرب ہے، دوسری منزل واپسی پر مایوسی۔ شکیب نے اس ایک استعارے میں پوری تارکینِ وطن نسل کی نفسیاتی الجھن کو سمیٹ دیا ہے۔
شکیب کے استعاراتی نظام کا تیسرا بڑا ستون "سمندر" اور "ساحل" ہیں۔ یہاں وہ معمولی ذاتی کرب سے نکل کر عالمگیر تباہی کی طرف بڑھتے ہیں:
"سورج کا قتل کس نے سرِ شام کر دیا
ساحل لہو لہو ہے سمندر لہو لہو"
یہ شعر شکیب کی شاعری کا ایک منفرد اور بلند مقام ہے۔ سورج کا قتل ایک کائناتی سانحہ ہے۔ سورج جیسی عظیم ہستی کو قتل کر دینا، وہ بھی سرِ شام جب سورج غروب ہوتا ہے اور منظر انتہائی پراسرار ہو جاتا ہے، ایک گہرا المیہ ہے۔ اس قتل کے نتیجے میں ساحل اور سمندر دونوں لہو لہو ہیں۔ یعنی پوری کائنات اس قتل کا سوگ منا رہی ہے۔ اس استعارے کے کئی ممکنہ مفہوم ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ شاید شاعر کسی عظیم اصول یا اخلاقی قدر کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جدید جنگیں اور خونریزیاں پوری دنیا کو خون کی ندی بنا رہی ہیں۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ سورج (جو علم و آگہی کی علامت ہے) کے مر جانے کے بعد جہالت اور تاریکی پھیل گئی ہے، اور اس کا نتیجہ ہر طرف خونریزی ہے۔ یہ استعارہ روایتی "ماہ و خورشید" سے بالکل مختلف اور زیادہ گہرا ہے۔
استعارات کا یہ سلسلہ "تکیہ" اور "کھلونا" جیسے الفاظ تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"جن کا بیس کھلیوں پہ تھا تکیہ
وہ بونے بھی سر بلند ہوئے"
یہاں تکیہ ایک ایسی چیز ہے جو سہارا دیتی ہے، مگر "کھلیوں پر تکیہ" کا مطلب ہے کہ جن لوگوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، جن کا سہارا بہت کمزور تھا، وہ بھی اپنی حالت کے خلاف بغاوت کر کے سربلند ہو گئے۔ یہ ایک سیاسی اور طبقاتی استعارہ ہے جو مظلوموں کی جیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسی طرح "کھلونا" کا استعارہ دیکھیے:
"مری آنکھوں نے جوانی میں بڑھاپا دیکھا
عہدِ طفلی میں کھلونوں سے بغاوت کر کے"
کھلونا بچپن کی معصومیت کی علامت ہے، مگر شاعر نے بچپن ہی میں کھلونوں سے بغاوت کر کے جوانی کا تجربہ کر لیا۔ یہ اس جدید دور کے بچوں کی ذہنی پختگی اور ان پر سماجی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جہاں بچے جلدی بڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنا بچپن یاد نہیں رہتا۔
ان تمام استعارات کو دیکھنے کے بعد ایک بات واضح ہوتی ہے کہ شکیب نے اپنی شاعری کو شعریت (poetic beauty) اور معنویت (meaningfulness) دونوں سے ہمکنار کیا ہے۔ جیسا کہ شاعری کے اصولوں میں کہا جاتا ہے کہ شعر کی جان آہنگ اور معنی ہیں، شکیب نے اس کا پورا خیال رکھا۔ ان کے استعارات روزمرہ کے ہیں مگر ان میں گہری بصیرت ہے۔ وہ جدید اشیاء کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ وہ محض مادی اشیاء نہیں رہتیں، بلکہ روح اور جذبے کی علامت بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید نے جب کہا کہ شکیب نے نئی شاعری کی کرتب بازیوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ادبی و تہذیبی اقدار کا پاس رکھا ہے، تو ان کا مطلب شاید یہی تھا کہ شکیب نے نئے استعارات تو وضع کیے، مگر وہ بے ہنگم یا بے معنی نہیں تھے۔ ان کا ہر استعارہ اپنی جگہ پر معنی خیز اور برمحل ہے۔ کوئی لفظ بے کار نہیں، ہر لفظ اپنا پورا کام کر رہا ہے۔ شاعری کی اس خوبی کو ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی نے بھی سراہا ہے کہ شکیب کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ مطلب کہہ دیتے ہیں۔
یہاں ہم ایک اہم نکتے کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں کہ شکیب نے روایتی استعارات کو مکمل ترک کرنے کے باوجود غزل کی ہیئت کو نہیں توڑا۔ انہوں نے وزن، قافیہ، ردیف اور بحر کی پابندی کی ہے۔ یہ ان کی فنی دیانتداری ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جدت کا مطلب ہیئت کو تباہ کرنا نہیں، بلکہ اس میں نئی روح پھونکنا ہے، اور انہوں نے بالکل یہی کیا۔ ان کی غزلیں روایتی ڈول میں ڈھلی ہوئی ہیں، مگر ان کا خون نیا ہے۔
اس حصے کے اختتام پر یہ کہنا ضروری ہے کہ شکیب کے استعارات محض ادبی چال نہیں، بلکہ ان کا استعاراتی نظام ان کی ذات کا آئینہ ہے۔ جو شاعر ستائیس سال صحرا کی تنہائی میں گزارتا ہے، اسے سگریٹ اور انگارہ جیسی چیزوں سے گہری وابستگی ہو جاتی ہے۔ ان کی شاعری ان کے مادی تجربات کو روحانی تجربات میں بدل دیتی ہے۔ ان کا استعاراتی نظام جدید اردو شاعری کو ایک نیا راستہ دیتا ہے؛ ایک ایسا راستہ جو روایت کی نفی نہیں، بلکہ اس کی توسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیاض شکیب کا شمار ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے استعارات کی دنیا کو وسعت دی، اسے نئے امکانات سے آشنا کیا، اور ثابت کیا کہ شاعری شمع و پروانے کے بغیر بھی روشن ہو سکتی ہے۔

فیاض شکیب کی شاعری: موضوعاتی تنوع۔ جلاوطنی، احتجاج اور اخلاقی بیداری
شاعری کے استعاراتی نظام کے بعد اگر ہم فیاض شکیب کے موضوعاتی افق کو دیکھیں تو یہ منظر ہمیں ایک ایسے شاعر کا پتا دیتا ہے جو اپنے گرد و پیش کی تمام حقیقتوں کو بے لاگ قبول کرتا ہے۔ شکیب کی شاعری محض ذاتی کرب کی داستان نہیں، بلکہ وہ اس دور کی ایک مکمل سماجی و نفسیاتی دستاویز ہے جس میں وہ جی رہے تھے۔ ان کے موضوعات تین بڑی جہتوں میں تقسیم ہوتے ہیں: جلاوطنی اور تنہائی کا وجودی بحران، معاشرتی ناانصافی اور طبقاتی استحصال کے خلاف احتجاج، اور آخر میں اخلاقی ترغیب و روحانی بیداری۔ یہ تینوں موضوعات ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور شکیب کی شاعری کو ایک مکمل فلسفہ عطا کرتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بنیادی موضوع جلاوطنی کا ہے۔ شکیب کی جلاوطنی صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی اور ذہنی بھی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:
"عین راضی بہ رضا اپنے وطن سے تھا شکیب
کھینچ کر دور مجھے لے گئے دانے میرے"
تو اس میں دو المیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے وطن میں خوش تھا، اسے کوئی شکایت نہیں تھی، مگر پھر بھی تقدیر نے اسے دور کھینچ لیا۔ دوسرا یہ کہ اسے "دانے" کی مانند اکھاڑ پھینکا گیا۔ دانہ جب مٹی سے اکھڑتا ہے تو وہ مر جاتا ہے، یا اگر زندہ رہے تو بے جان ہو جاتا ہے۔ شکیب نے اس ایک شعر میں پوری تارکینِ وطن نسل کی بے بسی کو بیان کر دیا ہے۔
اس جلاوطنی کا نتیجہ تنہائی ہے، اور شکیب نے تنہائی کو جس شدت سے محسوس کیا ہے، شاید ہی کسی اور شاعر نے کیا ہو۔ وہ کہتے ہیں:
"اکیلا زندہ ہوں یادوں کا اک ہجوم لیے
چلوں تو ساتھ میں اک کارواں لگے ہے مجھے"
یہاں ایک دلچسپ تضاد ہے۔ وہ اکیلا ہے، مگر اس کے ساتھ یادوں کا ہجوم ہے۔ وہ چلتا ہے تو اسے لگتا ہے جیسے کوئی کارواں اس کے ساتھ ہے۔ یعنی اس کی تنہائی اتنی گہری ہے کہ اس نے اپنی یادوں کو بھی ایک الگ وجود دے دیا ہے جو اس کا ساتھ دیتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو طویل جلاوطنی کے بعد انسان کو لاحق ہوتی ہے، جب حقیقی دنیا خالی لگتی ہے تو انسان اپنے ماضی کی ساختہ دنیا میں جینے لگتا ہے۔
اور تنہائی کی انتہا یہ ہے:
"شکیب اداس فسردہ خموش ساکت سا
یہ سنگِ راہ مرا ہم زباں لگے ہے مجھے"
جب راستے کا ایک بے جان پتھر بھی شاعر کو ہم زبان لگتا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ تنہائی اپنے عروج پر ہے۔ شاعر کو اپنی ذات سے بھی زیادہ الفت اس پتھر سے ہے جو کم از کم خاموشی میں تو اس کا شریک ہے۔ یہ جدید انسان کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے پتھروں سے بات کرنے لگتا ہے۔
مگر شکیب کی شاعری صرف انفرادی کرب میں گھلنے والی شاعری نہیں ہے۔ اس کی جلاوطنی اسے معاشرتی مسائل کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ جب وہ واپس اپنے معاشرے میں آتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ مسئلہ صرف اس کا نہیں، پورا معاشرہ ایک بحران سے گزر رہا ہے، اور یہاں شکیب کا احتجاجی لہجہ وجود میں آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"لوگ مسرور ہیں رشتوں کی تجارت کر کے
خون کے رنگ کو شرمندۂ دولت کر کے"
یہ شعر سرمایہ دارانہ معاشرے کی اخلاقی پستی کا آئینہ ہے۔ رشتے اب محبت کے نہیں، تجارت کے ہو گئے ہیں۔ انسان اپنے رشتوں کو بیچ رہا ہے، خرید رہا ہے، اور دولت کے حصول کے لیے خون کی حرمت کو پامال کر رہا ہے۔ "شرمندۂ دولت" کہہ کر شاعر نے دولت کو بے عزت قرار دیا ہے، کیونکہ یہ خون سے حاصل کی گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سماجی طنز ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے:
"خود غرض دوست خود پسند ملے
دل کے دروازے سب کے بند ملے"
یہ جدید معاشرے کی خودغرضی کو بے نقاب کرتا ہے جہاں دوستی بھی مفاد پرستی کا نام ہے، اور ہر شخص اپنے دل کے دروازے بند کر کے بیٹھا ہے۔ کوئی کسی کو دل میں جگہ نہیں دیتا۔ یہ شاعری محض مشاہدہ نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے شاعر نے برملا بیان کیا ہے۔
مگر شکیب کا احتجاج یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ تشدد اور خونریزی کے خلاف بھی بولتے ہیں:
"اب تو سانسوں میں گھلی جاتی ہے بارود کی بو
اب لہو تھوکنے والے ہیں گلِ تر دیکھو"
یہاں شاعر کہتا ہے کہ اب تو سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ فضا بارود سے بھری ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لہو تھوکنے والے (یعنی ظالم و جابر) خود کو گلِ تر یعنی نرم اور خوبصورت دکھا رہے ہیں۔ یہ ایک گہرا طنز ہے کہ ظالم اپنی سفاکی کو حسن کا روپ دے رہے ہیں۔
اور احتجاج کی انتہا اس شعر پر ہوتی ہے:
"جس پر ظلم و ستم حد سے بڑھ جاتے ہیں
وہ اک خودکش بم بن جایا کرتا ہے"
یہ جدید دور کی انتہائی تلخ حقیقت ہے۔ جب مظلوم حد سے زیادہ دبایا جاتا ہے تو وہ خودکش بم بن جاتا ہے، یعنی اپنی جان قربان کر کے اپنے ظالموں کو تباہ کر دیتا ہے۔ شکیب نے اس شعر میں انقلابی جذبے اور مایوسی کے اس ملاپ کو بڑی باریک بینی سے دیکھا ہے جہاں انسان اپنی جان کی پروا کیے بغیر ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اس تمام احتجاج کے باوجود شکیب کی شاعری مایوس کن نہیں ہے۔ وہ ایک اخلاقی راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
"نرمی برت ملاحت و نرمی کے ساتھ چل
اللہ کی زمین پہ محبت کے ساتھ چل"
یہ ایک نرم اور مشفقانہ لہجہ ہے جو محبت اور نرمی کی تلقین کرتا ہے۔ شاعر اپنے قاری کو سختی اور تلخی کے بجائے محبت کا راستہ دکھاتا ہے۔ پھر وہ والدین کی دعا کا ذکر کرتا ہے:
"تجھ تک پہنچ نہ پائے گا کوئی بھی حادثہ
ماں باپ کی دعاؤں کی برکت کے ساتھ چل"
یہ روایتی اقدار کی طرف ایک واپسی ہے، مگر جدید زبان میں۔ شکیب جدیدیت کے اس دور میں بھی ماں باپ کی دعا اور اللہ پر بھروسے کی اہمیت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ ان کی شاعری کا ایک خوبصورت توازن ہے کہ وہ جدید فکر رکھنے کے باوجود اعلا اخلاقی قدروں کے حامل ہیں۔
بچوں کے لیے ان کا ایک خوبصورت شعر ہے:
"جو اچھوں کی صحبت پایا کرتا ہے
ایسا بچہ دھوپ میں سایہ کرتا ہے"
یعنی جو بچہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے، وہ خود بھی دوسروں کے لیے سایہ بن جاتا ہے اور لوگوں کو مشکلوں میں پناہ دیتا ہے۔
اور زندگی کے حتمی سفر کے بارے میں:
"مسکرانے سے قبل یہ سوچو
تلخیوں کے بھی گھونٹ پینا ہے"
یہ ایک فلسفیانہ نصیحت ہے کہ زندگی صرف خوشی کا نام نہیں، اس میں تلخیاں بھی ہیں، اور انہیں بھی قبول کرنا ہوگا۔
شکیب کی شاعری میں احتجاج اور اخلاقیات کا یہ ملاپ اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ وہ نہ تو خالص انقلابی شاعر ہیں جیسے فیض، نہ خالص رومانوی جیسے ناصر کاظمی، بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جہاں وہ معاشرے کے نقصانات کے خلاف بولتے ہیں مگر مایوسی نہیں پھیلاتے، احتجاج کرتے ہیں مگر محبت کی اہمیت بھی جتاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید نے انہیں ایک "نمائندہ شاعر" قرار دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ شکیب اپنے عہد کی آواز ہیں۔ وہ اس دور کے انسان کے کرب، اس کے غصے، اس کی تنہائی اور اس کی اخلاقی الجھنوں کو اپنی شاعری میں سموتے ہیں۔ یہ شاعری صرف پڑھی نہیں جاتی، بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔
اس حصے کے اختتام پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ فیاض شکیب کی شاعری کا موضوعاتی نظام ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جدید انسان کی تمام خامیاں، المیے، خواب اور امیدیں جھلکتی ہیں۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں، بلکہ ایک مؤرخ بھی ہیں جو اپنے دور کی نفسیات کو قلم بند کر رہے ہیں، اور یہی ان کی شاعری کو عالمگیر اور دائمی بناتا ہے۔

فیاض شکیب کی شاعری: جمالیات، مصوری اور حسن و عشق کا نیا اسلوب شاعری کے کرب، احتجاج اور جلاوطنی کے المیے کو بیان کرنے کے بعد اگر ہم فیاض شکیب کی شاعری کے حسن اور جمالیاتی پہلو کو دیکھیں تو یہ منظر ہمیں ایک ایسے شاعر کا روپ دکھاتا ہے جو سختی اور نرمی، تلخی اور مٹھاس، احتجاج اور محبت کو بیک وقت اپنے شعری کینوس پر اتارتا ہے۔ شکیب کی شاعری محض ایک چیخ و پکار نہیں، بلکہ اس میں زندگی کے وہ رنگ بھی ہیں جو اسے ایک مکمل اور متوازن فنکار بناتے ہیں۔ جہاں وہ سماجی ناانصافی پر طنز کرتے ہیں، وہیں وہ حسن و عشق کے موضوعات کو بھی پوری شائستگی اور شاعرانہ نفاست کے ساتھ برتتے ہیں۔ روایت اور جدت کا یہ امتزاج ہی ان کی شاعری کو ایک منفرد مقام دیتا ہے۔
شکیب کے ہاں حسن کا اظہار روایتی شاعروں کی طرح نہیں ہے۔ وہ محبوب کی تعریف کرتے ہیں، مگر اس کے لیے نہ تو شمع و پروانہ کا سہارا لیتے ہیں اور نہ ہی زلف و رخسار کی مروجہ تشبیہات کو دہراتے ہیں، بلکہ ان کی تشبیہات جدید اور بصری طور پر متاثر کن ہیں۔ ملاحظہ ہو:
"چاند سا روپ گھٹا روپ سمندر آنکھیں
تیری ہر شے کو میں آنکھوں میں چھپا کر رکھ لوں"
یہاں محبوب کا روپ چاند جیسا روشن ہے، اس کی زلفیں بادل کی مانند ہیں، اور اس کی آنکھیں سمندر کی طرح گہری اور وسیع ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ اس کی ہر شے کو اپنی آنکھوں میں چھپا کر رکھنا چاہتا ہے، یعنی اسے ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہتا ہے اور اس کے حسن کو کبھی بھولنا نہیں چاہتا۔ یہ محبت کا ایک ایسا اظہار ہے جو روایتی تشبیہات سے تو واقف ہے مگر ان سے آگے بڑھ کر ایک نئی بصری زبان تخلیق کرتا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور خوبصورت کڑی ہے:
"لیتے تھے سانس ہم تیری زلفوں کی چھاؤں میں
راتیں کہاں گئیں وہ حسیں دن کدھر گئے"
یہاں شاعر ماضی کی محبوب یادوں کو تازہ کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک وقت تھا جب وہ محبوب کی زلفوں کے سائے میں سانس لیتے تھے، یعنی اس کی قربت اور اس کی موجودگی میں سکون محسوس کرتے تھے۔ مگر وہ حسین راتیں اور دن کہاں گئے؟ یہ ایک نہایت پر اثر نوستالجیا (Nostalgia) ہے جو وقت کے بیت جانے کا دکھ اور محبوب کی جدائی کے کرب کو بیک وقت بیان کرتا ہے۔
شکیب کی شاعری میں حسن کا اظہار صرف محبوب کے چہرے تک محدود نہیں، بلکہ وہ فضا، منظر اور فطرت کو بھی اسی حسن کے ساتھ بیان کرتے ہیں:
"یوں ترے رخ کی چاندنی بکھری
ہر طرف جیسے روشنی بکھری"
یہاں محبوب کے چہرے کی چاندنی پوری کائنات میں بکھر جاتی ہے، جس سے ہر طرف روشنی پھیل جاتی ہے۔ یہ ایک شاعرانہ تصویر ہے جو محبوب کے حسن کو کائناتی سطح پر بلند کرتی ہے۔
اور:
"کیسی مہکی ہے فضا کیسا ہے منظر دیکھو
اس کی یادوں سے ہوئی روح معطر دیکھو"
شاعر کہتا ہے کہ فضا کتنی مہکی ہوئی ہے اور منظر کتنا حسین ہے، اور یہ سب اس کی یادوں کی وجہ سے ہے جس نے روح کو معطر کر دیا ہے۔ یہاں محبوب کی یاد بھی ایک خوشبو بن جاتی ہے جو پوری فضا کو مہکا دیتی ہے۔
شکیب کے ہاں عشق کا اظہار کبھی نرمی اور لطافت سے ہوتا ہے، تو کبھی ایک گہری اذیت سے بھی:
"تیرے ہونٹوں پہ کیا ہنسی بکھری
گھل گیا روح میں ترنم سا"
محبوب کی ہنسی ایک ترنم بن کر شاعر کی روح میں گھل جاتی ہے۔ یہ نہایت نرم اور لطیف اظہار ہے جو عشق کی روحانی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مگر شکیب کا عشق صرف محبوب سے وابستہ نہیں، وہ محبت کو ایک وسیع تر انسانی قدر کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری میں ترغیبی اور اخلاقی اشعار بھی موجود ہیں جو

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔