شادی سے قبل ہی لڑکوں اور لڑکیوں کو سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کی تربیت ضروری - برداشت اور احساس کا جذبہ پیدا کیا جائے_ اعظم فنکشن ہال میں پروفیسر مسعود احمد ،محمد حسام الدین ریاض اور محمد فاروق کا خطاب۔
حیدرآباد 21 جون( راست )موجودہ دور میں تعلیم ،روزگار اور رشتوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی ایسی تربیت کریں کہ شادی کے بعد رشتے انتہائی مضبوط و پائیدار ثابت ہوں موجودہ دور میں دیکھا یہ جا رہا ہے کہ شادیاں تو ہو رہی ہیں لیکن لڑکے اور لڑکیوں کی اسلامی نہج پر تربیت نہ ہونے کے باعث رشتے بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ افیسرر ینووا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نے اعظم فنکشن ہال مغل پورہ میں منعقدہ سرپرستوں کی ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کیا جو "روبرو" پروگرام کے عنوان سے منعقد ہوئی تھی پروفیسر مسعود احمد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ لڑکی کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ لڑکی کی شادی سے قبل اپنے شوہر کے علاوہ سسرالی رشتہ داروں بالخصوص ساس ،خسر، نندوں اور دیوروں کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ پیش آنے کی اپنی بیٹی کو تلقین کریں لڑکیاں تعلیم یافتہ تو نظر آتی ہیں لیکن ان میں اپنے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے احترام کے جذبے میں کمی عام ہوتی جا رہی ہے لڑکیاں چاہتی ہیں کہ شادی کے فوری بعد شوہر اور اس کے تمام گھر والے لڑکی کی ہر بات سنیں اور اس کی ہر خواہش پوری ہواس سے کشیدگیوں میں ہر روز اضافہ ہوتا رہتا ہے اور بات پھر طلاق یا خلع تک پہنچتی جا رہی ہے ایسے واقعات لڑکا اور لڑکی کے گھر والوں کے لیے ہی نہیں ان کے دیگرتمام رشتہ داروں اور خاندان والوں کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں پروفیسر مسعود احمد نے مزید کہا کہ لڑکے کے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے کوشادی کے بعد اپنی بیوی سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کی تربیت دیں اور نہ صرف اپنی بیوی بلکہ اپنی ساس اور خسر کے علاوہ بیوی کے تمام رشتہ داروں کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کی تربیت دیں جب تک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے والدین اوررشتہ داروں کا احترام کرتے رہیں گے رشتوں میں بہت ہی پائیداری بڑھتی رہے گی جناب محمد فاروق کنوینر پروگرام نے بتایا کہ "رو برو" پروگرام کے ذریعے بے شمار لڑکے اور لڑکیاں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی رہبری و رہنمائی کرتے ہیں یہ کام تقریبا 11 سال سے زائد عرصے سے اعظم فنکشن ہال مغل پورہ میں ہر اتوار کو جاری ہے انہوں نے بتایا کہ اب تک 23ہزار سے زائد شادیاں انجام پا چکی ہیں انہوں نے آج کے اس پروگرام میں شرکت کرنے پر پروفیسر مسعود احمد اور سابق کارپوریٹر جناب محمد ابراہیم قریشی کا خیر مقدم بھی کیا ممتاز ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے کہا کہ " قوت برداشت" اور "جذبہ احساس" یہ وہ عنصر ہیں جو شادی کے بعد ایک لڑکا اور لڑکی اور اس کے دونوں خاندانوں کو مضبوط و مستحکم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں آج کل لڑکا اور لڑکی میں قوت برداشت اور احساس کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے رشتے بہت جلد بکھرتے جا رہے ہیں حسام الدین ریاض نے مزید کہا کہ لڑکی کے والدین اپنی لڑکی کی شادی سے پہلے اور لڑکے کے والدین اپنے لڑکے کی شادی سے پہلے ان کی ضرور کونسلنگ کریں کہ انہیں شادی کے بعد کس طرح زندگی گزارنی چاہیے لڑکا اور لڑکی کافی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود شادی کے بعدچھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جاتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو درگزر کرنے کی کوشش کریں جب ہی ہمارا معاشرہ پرسکون اور صحت مند ہو سکتا ہے جناب محمد ابراہیم قریشی نے جناب محمد فاروق کو مبارکباد دی کہ وہ اپنے پروگرام کے ذریعہ اعظم فنکشن بغل پورہ میں ہر اتوار کو ایک بہت بڑی خدمت انجام دیتے ہوئے رشتوں کی تلاش کے کام کو آسان بنا رہے ہیں آخر میں جناب محمد فاروق نے شکریہ ادا کیا جناب محمد فاروق نے پروفیسر مسعود احمد اور جناب محمد ابراہیم قریشی نے جناب محمد حسام الدین ریاض کی شال پوشی کی اس موقع پر محمد اعجاز عرفان،سید محمد حسین ہاشمی ،محترمہ سیدہ واجدہ مسکان, مریم سلطانہ, فرح یوسف،عبداللطیف،محمد محی الدین،تقی انجینئر اور دوسرے موجود تھے
Comments
Post a Comment