گلبرگہ میں ادبی سرگرمیوں کا نیا سنگِ میل — چوتھا "اوپن مائک" کامیابی سے منعقد۔


گلبرگہ: (نامہ نگار: رہبر تماپوری جی رپورٹ) شہرِ گلبرگہ کی ادبی و ثقافتی فضا میں ایک اور خوش آئند باب اس وقت رقم ہوا جب یہاں چوتھے "اوپن مائک" پروگرام کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی محفل نے نوجوان شعراء، ادباء، مزاح نگاروں، مقررین اور فنکاروں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع فراہم کیا، جبکہ حاضرین کو معیاری ادب، مثبت تفریح اور عمدہ فن سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملا۔
چند برس قبل تک اس نوعیت کے پروگرام زیادہ تر بنگلور، دہلی، ممبئی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں منعقد ہوتے تھے، لیکن اب گلبرگہ میں بھی اس روایت نے مضبوط بنیادیں حاصل کر لی ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی غماز ہے کہ شہر میں ادب اور فن کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور مخلص افراد مسلسل عملی کوششیں کر رہے ہیں۔
اس کامیاب سلسلے کے روحِ رواں محمد مزمل احمد زماں اور ان کی پوری ٹیم Reson 8 خصوصی مبارکباد کی مستحق ہے، جنہوں نے نہایت محنت، خلوص اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ اس سلسلے کا چوتھا اوپن مائک تھا، جبکہ ان کیReson 8ٹیم اب تک گلبرگہ میں مجموعی طور پر سات کامیاب ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کر چکی ہے۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شہر میں صحت مند ادبی ماحول قائم کرنے اور نوجوان صلاحیتوں کو ایک باوقار پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ ان کی یہ کوشش بلاشبہ قابلِ ستائش ہے اور مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کے انعقاد کی امید کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
اوپن مائک ایک ایسا آزاد ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں شعراء، ادباء، مزاح نگار، مقررین اور فنکار بلا جھجھک اپنی تخلیقات اور صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے پروگرام نئی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی، تخلیقی سوچ کے فروغ اور ادبی ذوق کی آبیاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس پروگرام میں ذیشان شاد، سیدہ فلزہ تسکین، عبداللہ یاسین، سید عمران، انڈین باشا، عرفان احمد، محین خان، عمران سوداگر، اطہر رہبر تماپوری، جی۔ ایم۔ آدتیہ، اویناش اور جنید خیردی سمیت متعدد شعراء، ادباء، مزاح نگاروں اور فنکاروں نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے نہایت اعتماد، وقار اور خوبصورت انداز میں اپنی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف موضوعات اور منفرد اسلوب کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا۔ ہر پیشکش اپنی انفرادیت لیے ہوئے تھی، جسے سامعین نے بھرپور توجہ سے سنا اور دل کھول کر داد و تحسین سے نوازا۔ شرکاء کی عمدہ کارکردگی نے اس ادبی محفل کو کامیاب، باوقار اور یادگار بنا دیا۔
پروگرام کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی رہی کہ یہاں مقابلے کے بجائے باہمی احترام، مثبت سوچ، تخلیقی اظہار اور حوصلہ افزائی کی فضا قائم رہی۔ ہر فنکار نے اپنے فن کے ذریعے محفل کو مزید مؤثر اور دلکش بنایا، جبکہ حاضرین نے بھی ہر پیشکش کو کشادہ دلی سے سراہتے ہوئے اس بات کا ثبوت دیا کہ گلبرگہ میں ادب اور فن سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں۔
پروگرام کے اختتام پر حاضرین نے محمد مزمل احمد زماں اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اسی معیار کی ادبی و ثقافتی محفلیں منعقد ہوتی رہیں گی۔ شرکاء اور سامعین خوشی، اطمینان اور خوبصورت یادوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ بلاشبہ یہ کامیاب تقریب گلبرگہ کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ایک مثبت، امید افزا اور قابلِ تقلید اضافہ ثابت ہوئی۔


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔