چدری کے سرکاری اردو ہائی اسکول میں ”اسکول کادوبارہ آغاز“ اور اولیائے طلبہ کا اجلاس - جناب سید فرقان پاشاہ اور محمدیوسف رحیم بیدری کاخطاب۔


بیدر۔ یکم جون (پریس ریلیز) 60دن کی تعطیلات کے بعد آج یکم جون سے چدری کے سرکاری اردوہائی اسکول (آرایم ایس اے) کا آج سے دوبارہ آغاز ہواہے۔ اس موقع پر کرناٹک حکومت اور محکمہ تعلیمات کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق اولیائے طلبہ سے ملاقات کے لئے اجلاس کا اہتمام بھی کیاگیاہے۔ تاکہ اسکول سے طلبہ کے والدین کا رابطہ بنا رہے۔ اسکول کی سرگرمیوں سے والدین بھی واقف رہیں۔ بچے گھر میں کیاکرتے ہیں ا س کی ہم ٹیچرس کو اطلاع ملتی رہے تو والدین اور ٹیچرس کے تال میل سے طلبہ کو علم کے حصول میں آسانی پید اکی جاسکے گی۔ اِ مسال اس اسکول کا دہم جماعت کا نتیجہ صدفیصد رہاہے۔ یہ باتیں جناب سید فرقان پاشاہ صدر معلم سرکاری اردو ہائی اسکول(آرایم ایس اے) چدری بید رنے بتائیں۔ وہ آج اولیائے طلبہ اور طلبہ کے ساتھ منعقد ہ آغاز ِ اسکول کی تقریب اور اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا”طلبہ کی غیرحاضری ہمارے لئے بڑا چیلنج ہے۔ عموماً20سے 25فیصد طلبہ روزنہ غیر حاضر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ہمارے لئے اہم بات یہ ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے اِمسال دہم جماعت میں طلبہ کی تعداد دگئی ہوگئی ہے۔ طلبہ کودہم جماعت میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہم نے ابھی سے منصوبہ بندی بھی کرلی ہے۔ ہمارے اسکول میں صدفیصد سہولیات طلبہ کے لئے ہیں۔ اچھاکھانا، یونیفارم، کتابیں وغیرہ سب کچھ مفت میں رہے گا۔ انھوں نے اسکول کے انفراسٹرکچر پر بھی بات کی۔ اور یہ اعلان کیاکہ آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے NEETاور JEEکی ایک گھنٹہ کی آن لائن تعلیم میں خود دوں گا۔ ان کے اس اعلان پر اولیائے طلبہ اور طلبہ نے تالیاں بجائیں۔انھوں نے چدری کے قریب کے قریہ جات (گاؤں) والوں سے بھی غائبانہ طورپر اپیل کی وہ ہمارے اسکول میں بچوں کاداخلہ کرائیں۔ ہم انھیں آپ کی توقع سے زیادہ تعلیم دیں گے ان شاء اللہ۔ لاکھوں روپئے خرچ کرنے پر بھی صد فیصد نتائج نہ لانے والے اسکولوں کی مثال پیش کرتے ہوئے سید فرقان پاشاہ نے طلبہ سے کہاکہ آپ روزانہ اسکول آئیں۔ دہم کے عمدہ نتائج دینے کی ذمہ داری ہم اپنے سرلیں گے۔ اسی طرح اولیائے طلبہ سے کہاکہ اپنے بچوں کو اسکول برابر بھیجیں۔ کلاس ٹیچر سے رابطہ میں رہیں۔ چھوٹی وجوہات کی بناپر طالبات ناغہ کردیتی ہیں ایسا نہ ہو۔ اردو شاعر وادیب اور صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ سرکاری اسکول دراصل غریب والدین کی طرح ہوتاہے۔ طلبہ اپنے اسکول کی قدروالدین کی طرح کریں۔خانگی اسکول اچھے ضرور لگتے ہیں، ان کے مسائل یہ ہیں کہ جن خانگی اسکولوں میں 6-6کلاسیس ہوتی ہیں وہ دہم جماعت تک پہنچتے پہنچتے 2کلاسوں تک محدود کردی جاتی ہیں تاکہ نتائج عمدہ پیش کئے جاسکیں۔اور کم نتائج سے خانگی اسکول بچ سکیں۔ خانگی اسکولوں کی طلبہ کے ساتھ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ جناب بیدری نے اولیائے طلبہ سے کہاکہ جناب رحیم خان صاحب دو دفعہ وزیر بنے، اور پورے بید راسمبلی حلقہ کو پتہ ہے کہ چدری ان کامستقر ہے۔چدری کے اس اسکول میں انھوں نے کون سے ترقیاتی کام انجام دئے ہیں،کبھی وہ اس اسکول کو دیکھنے کے لئے آئے؟ اگر نہیں تو ان سے مل کراسکول آنے کے لئے کہیں اور ان سے ضروری امداد طلب کریں۔ یہاں کھیل کامیدان ہے جو اہم بات ہے لیکن درخت نہیں لگائے گئے ہیں۔ درختوں کے ہونے سے ماحولیاتی آلودگی پر قابوپایا جاسکتاہے۔موصوف نے خواتین پرکام کے بوجھ سے متعلق بتاتے ہوئے کہاکہ ہم بیداررہیں۔ذمہ داریوں کوشوہر اور بیوی آپس میں تقسیم کرلیں۔ بچوں کو پڑھائیں ضرور لیکن اپنی صحت، اپنے پہننے اوڑھنے کابھی طلبہ کی مائیں خیال رکھیں۔ جناب یوسف رحیم بیدری نے بتایاکہ اس سے قبل وہ اس اسکول کو آچکے ہیں۔ یہ دوسری دفعہ حاضر ی دیناہے۔ جس کے لئے اسکول انتظامیہ کاشکر گذار ہوں۔پروگرام کاآغاز طالبات کی حمد اور نعت سے ہوا۔ مہمان خصوصی جناب محمدیوسف رحیم بیدری کی شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ اسکول میں ان کا استقبال کیاگیا۔شہ نشین پر ایس ڈی ایم سی صدر جناب ریاست علی اور دیگر موجودتھے۔ جناب محمدنظام الدین اسسٹنٹ ٹیچر نے پروگرام کی کارروائی خوبی سے چلائی۔دیگرٹیچر س بھی موجودتھے۔ بعدازاں اسکول کی جانب سے طلبہ وطالبات میں یونیفارم تقسیم کئے گئے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔