ادارہ ادبِ اسلامی ہند (کرناٹک) کا ریاستی اجلاس بنگلور میں منعقد۔


بنگلور، 21 جون: موجودہ فکری، تہذیبی اور سماجی چیلنجز کے دور میں اہلِ قلم اور اہلِ فکر کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے اور اسلامی ادب کو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک، ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے ادارہ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک کے زیرِ اہتمام منعقدہ ریاستی اجلاس سے اختتامی خطاب میں کیا۔
ادارہ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک کے زیرِ اہتمام مقامی ذمہ داران کا ریاستی اجلاس ’’نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر‘‘ کے عنوان سے بروز اتوار 21 جون 2026ء کو ڈاکٹر ممتاز احمد خان میموریل ہال، شواجی نگر، بنگلور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران اور کارکنان نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے مولانا عبداللہ نادر عمری، سکریٹری ادارہ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک، کی تذکیر بالقرآن سے ہوا۔ افتتاحی و استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے جنرل سکریٹری جناب عبدالقدیر ساحل نے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور ادارے کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
مولانا لئیق اللہ خاں منصوری، نائب صدر ادارۂ ادب اسلامی ہند کرناٹک نے ’’ادب کا اسلامی تناظر‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ادب کا مقصد غیر اخلاقی اقدار کا خاتمہ اور صالح و اخلاقی اقدار کا فروغ اور قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شعراء اور ادباء اپنی زندگی کو اسلام کے غلبہ کے مقصد سے ہم آہنگ کرلیں گے تو جو ادب وہ تخلیق کریں گے وہ اسلامی ادب ہی ہوگا۔
صدرِ اجلاس اور نائب صدر ادارہ ادبِ اسلامی ہند جناب خواجہ مسیح الدین، حیدرآباد نے ’’ادارہ ادبِ اسلامی ہند: قیام سے اب تک‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے ادارے کی خدمات اور ارتقائی سفر کا جائزہ پیش کیا بعد ازاں ریاستی صدر جناب محمد عابداللہ اطہر شیموگوی نے ادارہ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک کے مقاصد، منصوبوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر روشنی ڈالی۔
پہلے سیشن کے اختتام پر شیموگہ کے معروف ادیب و محقق جناب محمد عابداللہ اطہر کی تازہ تصنیف ’’کلامِ اقبال (اردو) میں مذہبی شخصیات کا تذکرہ‘‘ کی رسمِ اجراء انجام دی گئی۔ سابق چیئرمین کرناٹک اردو اکادمی جناب مبین منور نے کتاب کا اجراء کیا۔ پہلے سیشن کی نظامت جناب محمد مرزا عارف مرزا نے کی۔
دوسرا سیشن دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوا جس کا آغاز مولانا عبدالغفار حامد عمری، نگرانِ کار ادارہ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک، کی تذکیر بالحدیث سے ہوا۔ انہوں نے حدیث ’’إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ‘‘ کی روشنی میں قلم و زبان کی اہمیت پر گفتگو کی۔
اس کے بعد جناب خواجہ مسیح الدین نے ’’ادبِ اسلامی کی علمبردار شخصیات‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا۔ جناب عبدالقدیر ساحل نے ادارہ ادبِ اسلامی ہند کے دستور کے اہم نکات کی تفصیل اور تفہیم پیش کی، جبکہ مولانا لئیق اللہ خاں منصوری نے تعارفی و رکنیت سازی مہم کے طریقۂ کار پر تفصیلی گفتگو کی۔
اجلاس میں نصف گھنٹے پر مشتمل تبادلۂ خیال نشست بھی منعقد ہوئی جس میں مختلف مقامی ذمہ داران نے اپنے علاقوں کی سرگرمیوں، مسائل، تجاویز اور تجربات پیش کیے۔بعد ازاں ریاستی صدر جناب محمد عابداللہ اطہر نے ’’زادِ راہ‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال کے مصرع ’’اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے‘‘ کی روشنی میں کارکنان کو نئے حالات کے مطابق اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی تلقین کی۔
اختتامی خطاب امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک، ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے ’’چلو چلیں کہ ہواؤں کا رخ بدلنا ہے‘‘ کے عنوان پر پیش کیا۔ انہوں نے موجودہ حالات میں اہلِ قلم اور اہلِ فکر کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور اسلامی ادب کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کی کارروائی شام پانچ بجے اختتام پذیر ہوئی۔
بعد ازاں شام ساڑھے پانچ بجے اسی ہال میں ایک ادبی اجلاس و مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت ریاستی صدر جناب محمد عابداللہ اطہر نے کی۔ معروف نعت گو شاعر جناب مبین منور اور جناب خواجہ مسیح الدین خصوصی مہمانان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر مقامی اور بیرونِ ریاست شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی نظامت جناب عظمت اللہ عظمت، سکریٹری ادارہ ادبِ اسلامی نے انجام دی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔