آج اسکول میں جاؤں گی۔ ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
آج اسکول میں جاؤں گی۔
ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
آج اسکول میں جاؤں گی
جاکے واپس آؤں گی
چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے
من کے سب وہ سچے ہونگے
ان کے ساتھ میں کھیلوں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
پیاری پیاری آپا جان
ہونگی اسکول کی وہ شان
ان سے اردو سیکھوں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
کنڑ انگلش اردو ہندی
سب کچھ میں بھی سیکھوں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
کھیلوں کی استانی ہونگی
ہم کو کھیل کھلائیں گی
ان سے گھل مل جاؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
سرکاری اسکول میں بچو!
بچوں کی صحت کی خاطر
دودھ اور کیلے دیتے ہیں
میں بھی سب کچھ کھاؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
بھوک لگی تو کھانا کھانے
سب کے ساتھ میں بیٹھوں گی
دال اور کھانا کھاؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
کبھی کبھی دیتے ہیں کھانے
انڈے ، مونگ پھلی کی چِکّی
ان سب کو میں کھاؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
مفت کتابیں دی جاتی ہیں
دیتے ہیں پوشاک بھی مفت
فائدہ ان کا اٹھاؤں گی
پڑھ لکھ کر میں آؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
مہروؔ ٹیچر کی طرح میں
اک دن نام کماؤں گی
آج اسکول میں جاؤں گی
ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
Comments
Post a Comment