معماران کعبہ کی آرزوئیں - محمد ناظم ملی جامعہ اکل کنواں۔


معماران کعبہ کی آرزوئیں -  
محمد ناظم ملی جامعہ اکل کنواں۔
 
مفسرین نے لکھا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات مبارکہ میں داعیین اسلام کے لیے بے شمار درس عبر کی باتیں موجود ہیں 
جب سیدنا حضرت ابراہیم کو تعمیر مرکز کا حکم مل گیا تو انہوں نے اپنے عزیز اور عظیم لخت جگر سیدنا اسماعیل کو جنہیں ائیندہ اس بیت اللہ الحرام کا امین بننا تھا اور کعبے کی تولیت اور امامت کرنی تھی ساتھ لیا اور اس بیت اللہ کی تعمیر شروع کی یہ دونوں نیک صالح باپ بیٹے ایک تو پیغمبر تھے ۔اور ایک ائندہ زندگی میں ایک عظیم پیغمبر کے جد امجد اور مورث اعلی بننے والے تھے۔ دونوں عظیم تھے ظاہر بات ہے کہ ان عظیم شخصیتوں کی تمنائیں ارزوئیں بھی کتنی عظیم ہوگی چنانچہ قران مجید میں اس کو بڑے واضح انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کرتے کرتے وہ دعائیں کر رہے تھے اس دعا کے ایک ایک لفظ سے بڑی جامع اور معنی خیز تمنائیں اور ارزو ٹپک رہی تھی چنانچہ قران مجید نے کہا 
"واذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت واسماعيل ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم". البقره
اور یاد کرو جب حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے"اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے تو سب کی سننے اور جاننے والا ہے"
یعنی یہ جو خدمت ہم تعمیر بیت اللہ کی انجام دے رہے ہیں یہ صرف اور صرف مولا تیری رضا کے لیے ہے اور تیرے ہی حکم کی تعمیل میں ہیں یہ نذرانہ خدمت قبول فرما لے ہم جس نیت سے یہ کام بجا لائے ہیں اس کو تو سب سے بہتر جانتا ہے ۔کہ تو ہی زبانوں کی پکار اور دلوں کی دھڑکنوں کو سنتا اور جانتا بھی ہے پھر اپنے اور اپنی اولاد کے لیے دعا کرتے ہوئے عرض کیا۔
ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امه مسلمه لك وارنا مناسكنا وتب علينا انك انت التواب الرحيم. البقره
"اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری فرمانبردار ہو ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سے بتا اور ہماری لغزشوں سے کوتاہیوں سے درگزر فرما تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا
 ہے"
داعیانہ صفات 
اس دعا میں ان کی وہ داعیانہ صفات بھی چھلکتی ہیں جن سے ان کی پوری زندگی معمور و منور رہی ایک داعی کی (١)پہلی صفت یہ ہے کہ وہ خود اس دعوت میں پوری طرح رنگا ہوا ہو جس کی طرف وہ دوسروں کو بلا رہاہے(صرف زبانی جمع خرچ نہ ہو) ایک داعی کی دوسری طلب اور تڑپ یہ ہونا چاہیے کہ جس دعوت کو اس نے قبول کیا ہے اور اس کی نشر و اشاعت کر رہا ہے وہ اس کی ذات تک سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ وہ چار سو پھیلے اور اللہ کے بندے اس میں جوق در جوق شامل ہوں اور اس کو معاونین کی ایک ایسی جماعت حاصل ہو جو اس کی نشر و اشاعت اور فروغ کے لیے ہر وقت ہر ان کوشا وساعی رہے(اور یہ معاونین کی جماعت مخلصین عاملین کے لیے اللہ کی طرف سے متعین ہوتی ہے)
داعی کی تیسری سب سے بڑی ارزو اور خواہش یہ ہونا چاہیے کہ جس دعوت کو پیش کرنے اور اگے بڑھانے میں جو بھی لغزشیں دانستہ وہ نادانستہ ہو گئی ہوں ان سب کو رب قدیر کی بارگاہ میں عاجزی انکساری کر کے معاف کرائی جائے یعنی دعوت دین کے پیش کرنے کے بعد استغفار کیا جائے تاکہ کل رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو اس حال میں پہنچے کہ اس کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو اس لیے ہر نیکی اورکار خیر کی دعوت دینے کے بعد ہر داعی کو استغفار کا اہتمام ضروری ہے 
سیدنا ابراہیم علیہ السلام اگر صرف ایک قوم یا ایک خطے یا ایک نسل کے لیے مبعوث کیے گئے ہوتے تو یہ دعا کافی تھی لیکن انہیں تو اللہ نے۔" للناس اماما" سارے انسانوں کے لیے امام بنایا تھا اس لیے انہوں نے ائندہ نسلوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے بارگاہ رب العالمین میں عرض کیا 
ربنا وبعد فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم اياتك ويعلمهم الكتاب والحكمه ويزكيهم انك انت العزيز الحكيم. البقره
یعنی اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا جو انہیں تیری ایات سنائے ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگی سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے 
سیدنا ابراہیم کو اپنی دعوت کے پھیلنے اور فروغ پانے کی جو فکر دامن گیر تھی اور وہ صرف اپنے زمانے ہی کی نسل کی نہیں بلکہ ائندہ نسلوں کی بھی ہدایت کے لیے جس طرح مضطرب بے چین تھے ان کے اضطراب اور بے چینی کی یہ دعا پوری طرح ائینہ دار ہے 
پتہ چلا داعی کا اپنی دعوت کے اعتبار سے مؤثر ہونے کے لیے اوپر تحریر کردہ صفات سے متصف ہونا لازمی ہے ورنہ حکیم امت مرحوم ڈاکٹر اقبال کی زبان میں کہا جا سکتا ہے 
زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل 
دل و نگاہ جو مسلمان نہیں کچھ بھی نہیں

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔