ملاڈ_مالونی: ممبئی کے مغرب میں اردو کی ایک بستی۔(قمر صدیقی، ممبئی)


ملاڈ_مالونی: ممبئی کے مغرب میں اردو کی ایک بستی۔
(قمر صدیقی، ممبئی)

ممبئی کی ادبی تاریخ بھی شاید لوکل ٹرین کی طرح ہے۔
ہر دور میں اس کا ایک نیا اسٹیشن رہا ہے۔
ترقی پسندی کے دور میں مالبار ہل۔
اور مدن پورہ۔
پھر وزیر ہوٹل۔
مکتبہ جامعہ۔
یعقوب گلی۔
کیفے استبول۔
کرلا اور وکھرولی۔
اور پھر ایک وقت آیا جب یہ قافلہ مغربی مضافات کی طرف روانہ ہو گیا۔
ملاڈ، مالونی بھی اس قافلے کا اہم پڑاؤ تھا۔
آج کا ملاڈ دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل ہے کہ کبھی یہاں ناریل کے درخت تھے، کھیت تھے، کچی سڑکیں تھیں اور شام ڈھلے سمندر کی ہوا دور دور تک محسوس کی جا سکتی تھی۔ اب شاپنگ مال ہیں، فلائی اوور ہیں، میٹرو ہے اور انسانوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ہجوم ہے۔ مگر ان عمارتوں اور سڑکوں سے چند برس پیچھے ایک اور دنیا بھی آباد تھی۔
شاعروں کی دنیا۔
مشاعروں کی دنیا۔
اور ادبی نشستوں کی دنیا۔
یعنی.... ملاڈ، پشپا پارک اور مالونی. 
آج اسے یاد کرنے بیٹھیں تو چند نام خود بخود سامنے آ جاتے ہیں۔
راجا مہدی علی خاں، نوا لکھنوی، قیصر عثمانی، محمود ایوبی، تاجدار تاج، ایم اے تشنہ، رفیق جعفر، پنچھی جالونوی یہ صرف افراد نہیں تھے، اس بستی کے تہذیبی ستون تھے۔
نوا لکھنوی کا گھر ان دنوں ملاڈ، مالونی کی ادبی دنیا کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ہر ماہ دبستانِ آرزو کی طرحی نشست منعقد ہوتی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شاعری موبائل فون کے اسکرین پر منتقل نہیں ہوئی تھی۔ شعر سنانے کے لیے شاعر کو مشاعرہ گاہ میں حاضر ہونا پڑتا تھا اور داد لینے کے لیے سامع کی آنکھوں میں جھانکنا پڑتا تھا۔
دبستانِ آرزو کے صدر پرتو لکھنوی تھے۔ ان کے علاوہ احسن رضوی شریک ہوتے تھے. مہدی اعظمی، ڈاکٹر شعور اعظمی، مشہود داناپوری، زوار اعظمی، صادق رضوی، شمیم عباس، محسن زیدی، فانوس بروانی، رفیق جعفر، رؤف صادق، شجاع الدین شاہد، اطہر اعظمی، منان بجنوری، شائق بجنوری، جمیل مجاہد، حبیب اللہ آبادی، مصطفیٰ دلکش، نقی امروہوی اور دوسرے مقامی شعرا پابندی سے حاضر رہتے تھے۔ کبھی کبھی پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی بھی تشریف لاتیں تو محفل کی سنجیدگی اور بڑھ جاتی۔
یہ صرف نشستیں نہیں تھیں۔
یہ شاعری کی درسگاہیں تھیں۔
عروض و بلاغت پر گفتگو ہوتی تھی۔
اصلاح ہوتی تھی۔
اور بعض اوقات ایک مصرعے پر آدھی رات بیت جاتی تھی۔
نوا صاحب کی شاعری اور شخصیت لکھنوی تہذیب کا پرتو تھی. شائستگی ان کی گفتگو سے ٹپکتی تھی۔ وجاہت چہرے اور نفاست لباس سے جھلکتی تھی. قول کے اتنے پابند کہ آج کے زمانے میں اس کا تصور بھی محال ہے۔
ایک بار رسالہ "تکمیل" کے مدیر مظہر سلیم ان کی نشست میں شریک ہوئے، نشست کے بعد ان سے "تکمیل" کے لیے تخلیقات کی فرمائش کی۔ نوا صاحب نے وعدہ کیا کہ کل غزلیں بھجوا دوں گا۔
اگلی صبح سات بجے وہ خود شجاع الدین شاہد کے گھر پہنچے۔
چند غزلیں ان کے حوالے کیں اور فرمایا:
"کل رات مظہر سلیم سے وعدہ کیا تھا، یہ ان تک پہنچا دیجیے۔ میں آپ کو اپنے گھر بلا کر زحمت نہیں دینا چاہتا تھا۔"
اب سوچیں تو محسوس ہوتا ہے کہ نوا صاحب صرف شعر نہیں کہتے تھے، شعر کی طرح جیتے بھی تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ان کے تحریر کردہ ٹی وی سیریل "سورڈ آف ٹیپو سلطان" کی دھوم تھی۔
ان کا ایک شعر آج بھی یاد آتا ہے:
زندگی ایسے تشنج میں گزاری ہے نوا
جیسے بھیگے ہوئے کپڑے کو نچوڑا جائے
اسی زمانے میں رفیق جعفر کا یہ شعر بھی زبان زدِ عام تھا:
پھر زندگی کی فلم ادھوری ہی رہ گئی
وہ سین کٹ گئے جو کہانی کی جان تھے
رفیق جعفر بعد میں پونہ منتقل ہو گئے، مگر ان کے اشعار آج بھی ملاڈ کی ادبی یادداشت کا حصہ ہیں۔
اگر نوا لکھنوی نے ملاڈ کو ادبی وقار عطا کیا تو قیصر عثمانی نے اسے عوامی شناخت دی۔
پشپا پارک، ملاڈ میں ان کی نگرانی میں "ادبی سنگ" کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مشاعرے ممبئی کی ادبی دنیا کا اہم واقعہ سمجھے جاتے تھے۔
مجروح سلطان پوری۔
علی سردار جعفری۔
جاں نثار اختر۔
ظ. انصاری۔
کمال امروہوی۔
ندا فاضلی۔
عزیز قیسی۔
قیصر الجعفری۔
ظفر گورکھپوری۔
ایک سے ایک بڑا شاعر وہاں آ چکا تھا۔
اور شہر کے تقریباً تمام سرکردہ شعرا بھی ان مشاعروں میں شریک ہوتے تھے۔
ارتضیٰ نشاط، نظام الدین نظام، شفیق عباس، شمیم عباس، کلیم حیدر شرر، ندیم صدیقی، فاروق آشنا، اعجاز ہندی، یوسف خلش، محبوب عالم غازی، احمد منظور، سید ریاض رحیم، قاسم امام اور دیگر شعرا۔
ان مشاعروں کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں صرف شاعری نہیں ہوتی تھی، بلکہ ممبئی کی ادبی دنیا ایک دوسرے کے خیالات، تجربات اور تخلیقی رویّوں سے آشنا بھی ہوتی تھی۔
قیصر عثمانی کے بعد یہ روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
بعد کے برسوں میں اطہر اعظمی کی قیادت میں "بزمِ نگارِ سخن" کے بینر تلے مالونی میں کئی آل انڈیا مشاعرے ہوئے. جن میں راحت اندوری اور منور رانا کے علاوہ کئی نامور اور قدآور شعرا بھی رونقِ مشاعرہ رہے۔ بیس پچیس برس قبل منعقد ہونے والے وہاں کے کل ہند مشاعروں میں مجھے اور عبید اعظم اعظمی کو بھی بارہا شرکت کا شرف نصیب ہوا۔ اس دور تک بہت کچھ بدل جانے کے باوجود وہاں کی ادبی فضا میں پرانی بمبئی کی خوشبو ہنوز رچی بسی ہوئی تھی۔

پھر وقت نے اور کروٹ لی۔ گزشتہ بیس پچیس برسوں سے انتخابی جلسوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوام کو جمع کرنے کے لیے سستے جذباتی مشاعروں کا سہارا لینے لگیں، جن میں شاعری کم اور تماشہ زیادہ ہوتا تھا۔ ابتدا میں انہی مشاعروں میں چند معیاری شعرا بھی مدعو کر لیے جاتے تھے، مگر رفتہ رفتہ یہ محفلیں متشاعروں کی آماجگاہ بن گئیں اور انہی کے حوالے سے پہچانی جانے لگیں۔ یوں عوامی مشاعرہ زوال کی انتہا کو جا پہنچا اور عوام بھی شاعر و متشاعر کی تمیز بھلا بیٹھے۔ متشاعر یا شاعری کی معمولی شد بُد رکھنے والے شاعر سیاسی سرپرستی میں آگئے، اور بیشتر مراعات کے حقدار قرار پائے۔

شاذ رمزی کی "بزمِ شمس رمزی" مالونی میں شعر و ادب کے حوالے سے ایک فعال تنظیم تھی. اب بھی گاہے گاہے اس کی نشستیں ہوجاتی ہیں. 

پچھلے کچھ برسوں میں شکیل اعظمی، شجاع الدین شاہد، یوسف یلغار، یوسف دیوان، منور اعظمی، اسحاق دانش، یوسف رانا اور دوسرے شعرا نے ملاڈ، مالونی کی شعری محفلوں کو کسی حد تک زندہ رکھا۔

آج نوا لکھنوی کا گھر خاموش ہے۔
قیصر عثمانی کے مشاعرے قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔
نگارِ سخن کی رونقیں مدھم ہیں۔
اور بزمِ شمس رمزی کی محفلیں بھی پہلے جیسی نہیں رہیں۔
لیکن ادب کی روایت اپنے ڈھنگ سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہ عمارتوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایک شاعر سے دوسرے شاعر تک، ایک نشست سے دوسری نشست تک، ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
ملاڈ اور مالونی کی ادبی تاریخ دراصل اسی تسلسل کی تاریخ ہے۔ یہاں بڑے ادبی ادارے نہیں تھے، نہ سرکاری سرپرستی تھی، نہ وسائل کی فراوانی۔ صرف چند لوگ تھے جنہیں شعر سے محبت تھی اور جو اپنی مصروف زندگی میں سے ادب کے لیے کچھ وقت چرا لیتے تھے۔ انہی لوگوں نے مغربی مضافات کی اس بستی کو اردو شاعری کے نقشے پر ایک مقام عطا کیا۔
آج اگر ملاڈ اور مالونی کی گلیوں میں اردو شاعری کی کوئی مدھم سی بازگشت سنائی دیتی ہے تو اس میں نوا لکھنوی کی شائستگی، قیصر عثمانی کی تنظیمی صلاحیت، رفیق جعفر کی گفتگو اور ان گنت گمنام شاعروں کی محنت شامل ہے۔
ممبئی کی ادبی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس کے صفحات میں ملاڈ اور مالونی کا ذکر ایک ایسی بستی کے طور پر آئے گا جس نے شہر کے مغربی کنارے پر اردو ادب کا چراغ برسوں روشن رکھا۔
(قمر صدیقی، ممبئی)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔