سہ ماہی چراغِ نور کا خصوصی شمارہ: پروفیسر حمید سہروردی کی شخصیت و فن کا آئینہ - مدیر :مبین احمد زخم - مدیر اعزازی :ڈاکٹر انیس صدیقی - مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ (کرناٹک)۔
سہ ماہی چراغِ نور کا خصوصی شمارہ: پروفیسر حمید سہروردی کی شخصیت و فن کا آئینہ -
مدیر :مبین احمد زخم -
مدیر اعزازی :ڈاکٹر انیس صدیقی -
مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ (کرناٹک)۔
اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد کی نمائندہ آواز بن جاتی ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نہ صرف اپنے زمانے کو متاثر کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا چراغ روشن کرتی ہیں۔ پروفیسر حمید سہروردی ایسی ہی ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں جنہوں نے افسانہ، شاعری، تنقید اور تدریس کے میدان میں اپنی انفرادی شناخت قائم کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں شائع ہونے والا سہ ماہی چراغِ نور کا خصوصی شمارہ دراصل ایک عہد ساز ادبی شخصیت کو پیش کیا گیا خراجِ تحسین ہے، جو مدیران کی ادبی بصیرت اور صاحبِ گوشہ سے ان کی والہانہ عقیدت کا مظہر ہے۔
پروفیسر حمید سہروردی جدید اردو فسانے کے حوالے سے ملکی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، تنقید نگار اور ادیب ہیں۔ بہ حیثیت اردو پروفیسر انھوں نے اردو طلبہ کو سنوارنے کا کام طویل عرصے تک کیا اور بہ حیثیت صدر شعبۂ اردو جامعہ گلبرگہ سے سبکدوش ہوئے۔ ان کے زیر نگرانی سیکڑوں طلبہ اور تشنگانِ علم و ادب نے فیض حاصل کیا۔ اردو افسانہ اور شعر و ادب پر ان کی کئی کتابیں منصۂ شہود پر آئیں اور مقبول ہوئیں۔ علاوہ ازیں ان کی شخصیت اور فن پر کئی تحقیقی و تنقیدی مقالے لکھے گئے اور متعدد کتابوں کی اشاعت بھی عمل میں آئی۔ صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو پروفیسر حمید صاحب صرف دکن ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے ادبی حلقوں کی آن، بان اور شان ہیں۔ ملک کے مختلف ادبی مراکز میں ان کی علمی و ادبی گونج سنائی دیتی ہے۔ جدید اردو افسانے کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، حمید سہروردی کا نام صفِ اوّل میں نظر آئے گا۔
سہ ماہی چراغِ نور یادگیر، کرناٹک سے شائع ہونے والا ایک معتبر رسالہ ہے جس کی چند اشاعتیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ یکم جون 2025ء کے شمارے کو مبین احمد زخم نے بہ مناسبتِ سالگرۂ پروفیسر حمید سہروردی خصوصی نمبر کے طور پر شائع کیا ہے۔ اس خاص شمارے کے مدیر مبین احمد زخم ہیں جبکہ مدیرِ اعزازی ڈاکٹر انیس صدیقی ہیں۔ نائب مدیر کی حیثیت سے کیف حیدری کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مجلسِ مشاورت اور مجلسِ ادارت کے صدر نشین پروفیسر محمد اعظم شاہد ہیں، جن کے ساتھ دس دس اراکین کی شمولیت بھی ہے۔ یہ تمام احباب میدانِ ادب کے شہسوار ہیں اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں اپنی اپنی سطح پر نمایاں حصہ داری رکھتے ہیں۔
"خاموشی کا صداکار" کے عنوان سے ڈاکٹر انیس صدیقی نے حمید صاحب کی شخصیت کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے اس شمارے کی اشاعت کا یوں جواز پیش کیا ہے:
"حمید سہروردی کی تابندہ ادبی کاوشیں اور ان کا بلند پایہ فکر و فن ہمیشہ ہی اہلِ نظر اور اہلِ قلم کے لیے کشش کا باعث رہے ہیں۔ ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں اور ان پر لکھی گئی تحریروں کو محفوظ کرنے کے لیے مقبول سہ ماہی رسالہ چراغِ نور کے باذوق مدیر مبین احمد زخم نے ایک یادگار قدم اٹھایا۔ انھوں نے اپنے رسالے کا ایک خصوصی شمارہ 'حمید سہروردی نمبر' شائع کرنے کی مبارک تجویز پیش کی، جسے پروفیسر کے ہونہار فرزند ڈاکٹر غضنفر اقبال نے نہ صرف بخوشی قبول کیا بلکہ ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔"
اس خصوصی شمارے کے مشمولات پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مواد کو نہایت عمدگی، سلیقے اور فنی شعور کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ مبین احمد زخم نے "گل تر" کے عنوان سے زندگی نامہ مرتب کرکے پروفیسر حمید سہروردی کا جامع تعارف پیش کیا ہے۔ اس شمارے کی ترتیب و تہذیب میں غیر معمولی ذہانت اور ادبی ذوق سے کام لیا گیا ہے۔
240 صفحات پر مشتمل اس مختصر شمارے میں مدیران نے گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ حمید سہروردی کی شخصیت اور فن کا نہ صرف بھرپور احاطہ کیا گیا ہے بلکہ ان کی تخلیقات کے نمائندہ نمونے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس شمارے میں مختلف ابواب قائم کیے گئے ہیں جن کے عناوین میں لفظ "گل" کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ندرتِ ترتیب اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے۔
اس کتاب کا ایک خصوصی وصف یہ بھی ہے کہ بیشتر ابواب کے متن پر اردو کے معتبر قلمکاروں کے تاثرات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کتاب میں شامل ابواب کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: "گل تہنیت" (مبین احمد زخم کی جانب سے سالگرہ پر مبارکبادی کا پیغام)، "گل جرس" (اداریہ، ڈاکٹر انیس صدیقی کا مضمون)، "گل تر" (زندگی نامہ اور صاحبِ گوشہ کا تعارف)، "گل سخن" (معتبر شعرا کی منظوم تہنیت)، "گل دوستی" (انٹرویوز)، "گل رو" (شخصیت، مضامین اور تاثرات)، "گل آگہی" (افسانہ نگاری پر مضامین)، "گل رنگین" (نظم نگاری پر مضامین)، "گل مہتاب" (جوگندر پال: دید و نادیدہ پر مضامین)، "گل مضمون" (ادبِ اطفال اور غیر افسانوی تحریریں) اور "گل رخاں" (صاحبِ گوشہ کی منتخب تخلیقات) جس میں افسانے، نظمیں، مختصر نظمیں اور شخصی نظمیں شامل ہیں۔
بہرکیف، یہ خصوصی شمارہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد، انوکھا اور بھرپور ادبی دستاویز ہے جس میں پروفیسر حمید سہروردی کی شخصیت اور فن پر ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اردو کے نامور ادبا، شعرا، پروفیسرس، اسکالرس اور ناقدین نے اپنے قلم کو جنبش دی ہے۔ میری دانست میں پروفیسر حمید سہروردی دکن دیس کے ان خوش نصیب قلمکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت اور فن پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
چراغِ نور کا یہ خصوصی نمبر یقینا موصوف کی شخصیت اور خدمات کے لیے ایک خوب صورت، باوقار اور دیرپا خراجِ تحسین ہے جس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ اس قابلِ قدر ادبی کارنامے پر ڈاکٹر انیس صدیقی، مبین احمد زخم اور ان کے تمام رفقائے کار مبارکباد کے مستحق ہیں۔ علاوہ ازیں موصوف کے لائق فرزند ڈاکٹر غضنفر اقبال کا کردار بھی خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ آج کے دور میں کسی ادیب یا شاعر کے نام اور کام کو زندہ رکھنے میں اپنی نسل کا ایسا خلوص کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس اعتبار سے پروفیسر حمید سہروردی واقعی خوش نصیب ہیں کہ انھیں اہلِ خانہ، احباب اور قارئین سب کی محبتیں میسر ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایسے خصوصی شمارے محض شخصیات کی ستائش نہیں ہوتے بلکہ وہ ادب کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ چراغِ نور کا یہ شمارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستند حوالہ اور محققین کے لیے قیمتی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دعا ہے کہ پروفیسر حمید سہروردی کی علمی و ادبی خدمات کا یہ چراغ اسی طرح روشن رہے اور اردو ادب کی فضاؤں کو منور کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو صحت، عافیت اور مزید علمی و ادبی فیوض و برکات سے نوازے۔
Comments
Post a Comment