مولانا سید سلمان حسینی ندوی کاروانِ علم کا ایک سالار رخصت ہوا - از قلم : محمود علی لیکچرر۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کاروانِ علم کا ایک سالار رخصت ہوا -
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
8055402819
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال کی خبر علمی دینی اور فکری حلقوں کے لیے گہرے رنج و غم کا باعث ہے۔
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو یاد میں آؤں گا!
وہ برصغیر کے ممتاز علماء خطباء اور مصنفین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے حدیث دعوت تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور ملتِ اسلامیہ کے مسائل پر اپنی تحریروں اور تقاریر کے ذریعے گراں قدر خدمات انجام دی
مولانا سید سلمان حسینی ندوی برصغیر کے ممتاز اسلامی عالم اور عصری علوم ہر بھی سبقت حاصل تھی وہ مصنف خطیب اور مفکر تھے۔ ان کی علمی و دعوتی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان کے انتقال سے علمی دنیا ایک مؤثر آواز سے محروم ہو گئی ہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب 1954 لکھنو اتر پردیش میں پیدا ہوئے
خاندان ایک معروف علمی و دینی سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ، مشہور اسلامی مفکر مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی (علی میاں) کی بھانجی تھیں، جن سے انہوں نے خصوصی علمی استفادہ کیا۔
تعلیم ابتدائی تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں حاصل کی، قرآن مجید حفظ کیا پھر شریعت، اصولِ دین اور حدیث میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں سعودی عرب کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں بھی حدیث کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
خدمات: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں شعبۂ دعوت کے ڈین رہے، متعدد دینی، تعلیمی اور سماجی اداروں کی سرپرستی کی عربی اور اردو میں درجنوں کتابیں تصنیف کیں اور دنیا بھر میں علمی و دعوتی خطابات کیے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی نے فقہ حدیث سیرت دعوت اور ملتِ اسلامیہ کے معاصر مسائل پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی شخصیت اور دینی خدمات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
مولانا کی شخصیت علم، جرأتِ اظہار اور فکری وسعت کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی علمی تربیت کی متعدد اداروں کی سرپرستی کی اور امت کے اجتماعی مسائل پر ہمیشہ بے باک انداز میں اپنی رائے پیش کی۔ ان کی تصانیف خطبات اور دروس آنے والی نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ہیں۔
اگرچہ بعض مسائل میں ان کی آراء سے اختلاف بھی کیا گیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور امت کی رہنمائی میں صرف کی۔ علمی دنیا میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے اور ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
Comments
Post a Comment