اَنجنا اوم کشیپ اور’’ دو کوڑی کےٹیچر‘‘ - محسن رضا ضیائی، پونے۔


اَنجنا اوم کشیپ اور’’ دو کوڑی کےٹیچر‘‘ - 
محسن رضا ضیائی، پونے۔

 حال ہی میں ’’آج تک‘‘ ٹی وی چینل پرایک لائیوپروگرام کے دوران معروف نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ کی جانب سےآن لائن اور یوٹیوب پر تدریس کرنے والے اساتذہ کے بارے میں ’’دوکوڑی کے ٹیچر‘‘ جیسے تبصرے سامنے آئے جنہیں تدریسی حلقوں میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ پروگرام میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ اساتذہ کے وقار کے منافی محسوس ہوئے، جس کے باعث تعلیمی طبقے میں تشویش پیدا ہوئی اور کئی مشہور اساتذہ نے کھل کر انجنا اوم کشپ کا جواب بھی دیا۔دو تین دنوں سے سوشل میڈیا پر اساتذہ کے کردار اور گودی میڈیا کے حوالے سے بیان بازیوں اور جوابی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 
 اساتذہ کو ’’دو کوڑی کا‘‘ کہنے والی انجنا اوم کشیپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اساتذہ دو کوڑی کے نہیں، بلکہ قوم کے وہ انمول رتن ہیں جو نئی نسل کی تربیت کرکے ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا انجنا اوم کشیپ کو چاہیے کہ وہ اپنے اس بیان پر تمام اساتذہ اور طلبہ سے معافی مانگیں، کیوںاس سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
 یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ آن لائن اور یوٹیوب کے ذریعے تعلیم فراہم کرنے والے اساتذہ اسی تعلیم نظام کا حصہ ہیں، جس میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ شامل ہیں۔ انجنا کے اس طرح کے شنیع و فظیع الفاظ اساتذہ کی شان میں ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ معافی ہیں۔ ایک صحافی، جس کی پوری عمر حکومت کی چمچہ گری، تلوہ چاٹی اور خوشامد میں گزر رہی ہو، جس نے اپنا ضمیر حکومت کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہو، جس کا کام یہ ہے کہ وہ عوامی نمائندہ بن کر حکومتوں سے سوال کرے، ان کے سماجی، شہری، معاشی اور تعلیمی مسائل کے لیے آگے آئے اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرے، لیکن ایسا نہ کرکے کسی کا آلۂ کار بن جائے، اساتذہ کی کردار کشی کرے اور ان پر بے بنیاد الزامات لگائے، یقیناً یہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام اساتذہ کے لیے انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
 استاد محض ایک پیشہ ور فرد نہیں بلکہ قوم کے معمار کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی ترقی میں اس کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے، جو قوم کو جہالت سے نکال کر تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتا ہے اور کامیابی و ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ اگر کسی کے پیچھے استاذ کی محنت، جاں فشانی اور شفقت و کرم نوازی شامل نہ ہو تو وہ کبھی بھی ایک بڑا اور کامیاب انسان نہیں بن سکتا۔
 اس طور پر دیکھا جائے تو استاذ کے قوم اور سماج پر بے پناہ احسانات ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص اپنے استاذ کی نافرمانی اور احسان فراموشی کرے تو سمجھ لو کہ وہ سماج کا بدترین انسان ہے، جو ایسے شخص کے احسانات و نوازشات کو بھلا رہا ہے، جس نے قوم و ملت کی تعمیر میں شب و روز صرف کر دیے، ہزاروں نونہالوں کو پروان چڑھا کر باعزت عہدوں پر براجمان کیا اور اپنی پوری عمر قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں لگادیا۔
 دنیا، بالخصوص ہمارے ملکِ عزیز میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ طویل عرصے تک لاک ڈاؤن کی صورتِ حال رہی۔ ملک کا تمام نظم و نسق بگڑ چکا تھا، تعلیمی اداروں پر قفل لگے ہوئے تھے، طلبہ اپنی تعلیم کو لے کر اضطراب، بے چینی اور فکرمندی میں مبتلا تھے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے۔ ایسے نامساعد اور مشکل حالات میں ان دو کوڑی کے ٹیچروں ہی نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کی لاج رکھی اورجدید ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کرکے انہیں آن لائن تعلیم دے کر ان کا مستقبل تباہ و برباد ہونے سے بچایا۔ اگر یہ’’ دو کوڑی کے ٹیچر ‘‘نہ ہوتے تو آج ہمارے ملک کواِس تعلیمی بحران سے باہرنکلنے میں طویل عرصہ لگ جاتا ، تب تک نہ جانے کتنے ہی طلبہ کا مستقبل اور کیریئر تاریک ہوجاتا۔ 
 آج انہی آن لائن تدریس کرنے والے اساتذہ کی بدولت بے شمار طلبہ لاک ڈاؤن کے باوجود تعلیمی و ترقیاتی شعبوں میں بہت آگے نکل گئے۔ جس استاذ نے قوم و ملت کی تعمیر و ترقی میں اس قدر اہم کردار ادا کیا ہو، آج اسی کی شخصیت کو مجروح اور مخدوش کیا جا رہا ہے۔ صرف انجنا اوم کشپ ہی نہیں بلکہ تمام میڈیائی اداروں کے خلاف متحد اور منظم ہونے کی ضرورت ہے، جو قوم کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا کر قوم کے سربرآوردہ لوگوں کو ہی مسائل کا شکار بناتے آ رہے ہیں۔
 ان میڈیائی چینلوں اور اداروں نے دنیا بھر میں ہندوستان کا نام بدنام کر رکھا ہے۔ ان چینلوں پر شب و روز ہندو-مسلم عنوانات پر گرما گرم بحثیں ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ حالات پیدا ہوتے ہیں۔ آج ملک میں جو بدامنی، فساد اور خون ریزی کے حالات ہیں، ان میں حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی بہت بڑا کردار ہے، جس نے ہندوستانیوں کے دلوں میں تعصب و نفرت کا زہر گھولنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔
 آج عالمی سطح پر ہندوستانی میڈیا کی جو درگت بنی ہے، اس کا اندازہ ’’دی وائر نیوز‘‘ کی اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے:
 ’’صحافتی آزادی کے عالمی ادارے Reporters Without Borders کی جانب سے ۳۰ اپریل ۲۰۲۶ء کو جاری کیے گئے عالمی پریس آزادی اشاریہ ۲۰۲۶ء کے مطابق بھارت ۱۸۰ ممالک میں ۱۵۷ویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ سال ۲۰۲۵ء کے اشاریے میں بھارت ۱۵۱ویں مقام پر تھا، اس طرح اس سال اس کی درجہ بندی میں چھ درجے کی تنزلی واقع ہوئی ہے۔‘‘
 یہ حکومتی چاپلوسی اور ضمیر فروشی ہی کا شاخسانہ ہے کہ آج ہندوستانی میڈیا روبۂ زوال ہے، جس کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم نے ناروے کا دورہ کیا، جہاں ’’دگس اویسن‘‘ اخبار کی کالم نگار ہیلی لیونگ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ایک تلخ مگر غیر جانب دارانہ سوال کیا، جس کا مودی جی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
 ’’دگس اویسن‘‘ اخبار کی کالم نگار ہیلی لیونگ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا:
 ’’جن طاقتوں کے ساتھ ہم تعاون کرتے ہیں، ان سے سوال پوچھنا ہمارا کام ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے گلوبل پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے پہلے نمبر پر ہے، وہیں ہندوستان ۱۸۰ ممالک میں ۱۵۷ویں نمبر پر ہے۔
 یہ کس قدر باعثِ شرم بات ہے کہ دنیا بھر میں ہماری حکومت اور میڈیا کی تضحیک ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود نہ میڈیا اپنی حرکتوں سے باز آ رہا ہے اور نہ ہی حکومت اپنی متعصبانہ پالیسیوں سے دست بردارہو رہی ہے۔
 لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور میڈیا کو بھی یہ باور کرایا جائے کہ ملک اب تعلیم میں بے جا مداخلت برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی اساتذہ پر اس طرح کے بے ہودہ تبصرے۔
 اس کے لیے تمام اساتذہ، طلبہ اور عوام کو آگے آنا ہوگا اور گودی میڈیا کے نمک خواروں کو ان کی اصل اوقات یاد دلانی ہوگی۔ چند برسوں سے یہ زمینی مسائل کو چھوڑ کر جو ضمیر فروشی کا دھندا کر رہے ہیں، انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ اس ملک کا تعلیمی نظام اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک حکومت ذمہ دار نہ بنے اور جمہوریت کا یہ چوتھا ستون غیر جانب دار ہو کر طلبہ و اساتذہ کے حق میں آواز بلند نہ کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔