ماں باپ کی قربانیاں جو دکھائی نہیں دیتیں - تحریر: سید فاروق احمد قادری۔
ماں باپ کی قربانیاں جو دکھائی نہیں دیتیں -
تحریر: سید فاروق احمد قادری۔
ہمارے بزرگ انصاف، ایثار اور قربانی کی روشن مثال تھے۔ ہمارے دادا کے پاس اُس زمانے میں تقریباً 120 ایکڑ زمین تھی، جو اُس دور میں بہت بڑی جائیداد سمجھی جاتی تھی۔ ہمارے دادا نے دو شادیاں کی تھیں اور دونوں خاندانوں میں اولاد تھی، لیکن انہوں نے ہمیشہ عدل و انصاف کو مقدم رکھا۔ ان کی وفات کے بعد ہمارے والد، جو سب سے بڑے بیٹے تھے، چاہتے تو ساری جائیداد اپنے قبضے میں رکھ لیتے، مگر انہوں نے اپنے بھائیوں، بہنوں اور خصوصاً ضرورت مند اور بیوہ بہنوں کے حقوق کو ترجیح دی۔ ان کی شادیاں کروائیں، ان کی کفالت کی اور خاندان کو جوڑ کر رکھا۔
آج بعض اولاد یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ والدین نے گھر، زمین یا جائیداد ہمارے نام کر دی ہے، اب ہمیں کسی کی پرواہ نہیں۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ مال اور جائیداد انسان کو والدین کے حقوق سے آزاد نہیں کر سکتے۔ بعض فقہی آراء کے مطابق باپ کو اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لینے کی گنجائش بھی حاصل ہے۔ لہٰذا اولاد کو کبھی یہ غرور نہیں کرنا چاہیے کہ اب سب کچھ ہمارے قبضے میں آ گیا ہے۔ یاد رکھو! ماں باپ کی دعائیں دولت سے زیادہ قیمتی ہیں اور ان کی ناراضی سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس علم کم ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ علم بہت ہے مگر عمل کم ہے۔ موبائل ہاتھ میں ہے، انٹرنیٹ موجود ہے، قرآن و حدیث کا علم ہر وقت دستیاب ہے، لیکن پھر بھی والدین کی نافرمانی، رشتہ داریوں کا ٹوٹنا، بھائیوں میں نفرت اور بزرگوں کی بے قدری بڑھتی جا رہی ہے۔
اسلام نے ماں کو ایسا بلند مقام عطا فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ ماں کا حق بیان فرمایا اور چوتھی مرتبہ باپ کا۔ قرآن کریم نے والدین کے بارے میں یہاں تک فرمایا کہ انہیں "اُف" تک نہ کہو۔ لیکن افسوس! آج بعض اولاد والدین کی زندگی بھر کی قربانیوں کو چند لمحوں میں بھلا دیتی ہے۔
ماں نے راتوں کو جاگ کر پرورش کی، اپنی خوشیاں اولاد پر قربان کیں، اپنی نیندیں اور آرام چھوڑ دیے۔ باپ نے اپنی جوانی، اپنی طاقت اور اپنی کمائی اولاد کے مستقبل کے لیے صرف کر دی۔ لیکن جب والدین کمزور اور بوڑھے ہو جاتے ہیں تو بعض اولاد انہیں بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ یہ صرف اخلاقی زوال نہیں بلکہ دینی کمزوری کی علامت بھی ہے۔
موبائل اور جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری چیز نہیں۔ یہی موبائل دین سیکھنے، قرآن سننے اور علم حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن جب یہی موبائل انسان کو والدین سے دور، رشتہ داروں سے بے خبر اور اللہ کی یاد سے غافل کر دے تو پھر یہ نعمت آزمائش بن جاتی ہے۔
ہر نوجوان کو سوچنا چاہیے کہ آج وہ اپنے والدین کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے، کل اس کی اولاد بھی اس کے ساتھ ویسا ہی س
Comments
Post a Comment