کربلا کا پیغام - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔ )
کربلا کا پیغام -
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔ )
تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا
دنیا کی تاریخ میں بہت سی درسگاہیں علم، فلسفے اور تہذیب کی امین رہی ہیں، مگر کربلا کی درسگاہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور بے مثال ہے، یہ وہ درسگاہ ہے جس کی بنیاد کسی عالی شان عمارت میں نہیں بلکہ تپتے ہوئے صحرا میں رکھی گئی۔ یہاں نہ ظاہری وسائل تھے، نہ آرام و آسائش کے سامان مگر اس کے باوجود یہاں ایسا عظیم نصاب مرتب ہوا جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کی فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سامان فراہم کر دیا۔
کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عشق، وفا، صبر، رضا، استقامت اور قربانی کی عملی تفسیر ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن پر تصوف کی پوری عمارت قائم ہے۔ اہلِ تصوف کے نزدیک انسان کی معراج اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دینا ہے، اور کربلا اسی حقیقت کا سب سے روشن مظہر ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سیرت اور قربانی کے ذریعے یہ ثابت فرمایا کہ جب حق اور باطل کا معرکہ برپا ہو جائے تو اہلِ حق کے لیے خاموشی یا مصلحت نہیں بلکہ استقامت اور قربانی کا راستہ اختیار کرنا ہی کامیابی ہے۔
تصوف انسان کو ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت، اخلاص، محبتِ الٰہی اور فنا فی اللہ کا درس دیتا ہے، کربلا کی سرزمین انہی روحانی منازل کی عملی تصویر پیش کرتی ہے زمین کربلا پر رضا بالقضا کا ایسا منظر دکھائی دیتا ہے جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں کم ہی ملتی ہے، یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام نے ہر دور میں کربلا کو عشقِ حقیقی، معرفتِ الٰہی اور تسلیم و رضا کی سب سے بڑی درسگاہ قرار دیا ہے۔
حضرت امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں شہید ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کی خاطر جان دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے گردن نہیں جھکائی جا سکتی۔حق شہید ہو کر بھی زندہ رہتا ہے اور باطل کامیاب ہو کر بھی مٹ جاتا ہے۔ مسلمانانِ عالم کو چاہیے کہ وہ بااصول زندگی گزاریں اور اصولوں کے خلاف کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔باطل کبھی مصلحت کے بھیس میں آتا ہے اور کبھی اقتدار کی لالچ دیتا ہے، مگر حق پرست کو چاہیے کہ وہ مصلحت کے شیطان اور اقتدار کے عفریت کا سر کچل دے اور حق کا بول بالا کرے۔ اسلام کی راہ میں حق کو بلند کرنے کے لیے اگر خاندان، اعزا و اقربا اور اولاد کی قربانی بھی دینی پڑے تو دریغ نہ کریں، کیونکہ
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد:
امام حسینؓ نے اپنی اور اپنی اولاد کی قربانی پیش کر کے ان اصولوں کو بچا لیا جنھیں یزید پامال کرنا چاہتا تھا اور جن کو بچانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ امام حسینؓ نے حدود شرعیہ کا تحفظ کیا، اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی اور کلمہ لا الٰہ الا اللہ کا تقاضہ پورا کیا ہے۔
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین :
امام حسینؓ نے اپنے اس عمل سے دنیائے اسلام کو یہ سبق دیا کہ کربلا ہر دور میں ہوگا، سینکڑوں یزید اسلام کو مٹانے کے لیے ابھریں گے، مگر مسلمانانِ عالم کو سنتِ حسینی کو اپناتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہوگا اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو بہتر ورنہ ان کی شہادت باطل کا چہرہ بے نقاب کردے گی اور پھر ظلم ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔
گرتے ہوئے نصیب کے ماروں کو تھام لے
اے دشتِ کربلا کے مجاہد سلام لے
تو کربلا کا پیغام اپنے مفادات سے بلند ہو کر حق، عدل اور اخلاقی اقدار کے لیے کھڑا ہونا ہے اور یہی وہ سبق ہے جو تصوف کے راستے کا مسافر اپنے دل میں بساتا ہے اور جس کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوارتا ہے۔اللہ کریم ہم سب کو یہ پیغام سمجھنے اوراِس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Comments
Post a Comment