جلگاؤں بنام ’’پیاسا گاؤں - "آبی ذخائر لبریز، مگر عوام بوند بوند صاف کو ترس گئے"
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)۔ یہ ایک تلخ حقیقت اور انتظامی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے کہ جس ضلع کا نام ہی ’’جلگاؤں‘‘ یعنی پانی کا گاؤں ، آج وہی ضلع پینے کے صاف پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ حالیہ برسوں میں اچھی بارشوں اور آبی ذخائر کے بھر جانے کے باوجود ضلع بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی قلت مسلسل سنگین شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں پانی کی طلب میں فطری اضافہ ہوتا ہے، مگر جلگاؤں میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ آبی ذخائر میں وافر مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس بحران کی اصل وجہ قدرتی عوامل نہیں بلکہ متعلقہ محکموں کی ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور باہمی رابطے کا فقدان ہے۔
جلگاؤں شہر میں شہریوں کو ہر تین دن بعد پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں کئی مقامات پر تین سے آٹھ دن کے وقفے سے پانی کی فراہمی ہوتی ہے۔ صورتحال اس قدر ابتر ہے کہ بیشتر علاقوں میں پانی آنے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا، جس کے باعث لوگ اپنی روزمرہ مصروفیات، ملازمتیں اور گھریلو ذمہ داریاں ترک کرکے گھنٹوں پانی کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین اور بچے روزانہ کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے پانی لاتے ہیں۔ بودوڑ تعلقہ کو ضلع کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ہر سال گرمیوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر لیتا ہے اور عوام کو ٹینکروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جلگاؤں شہر کے متعدد علاقوں میں ناقص معیار کا پانی فراہم کیے جانے کی شکایات عام ہیں، جبکہ راویر تعلقہ کے ویورا سمیت کئی دیہات میں پانی اس قدر آلودہ ہے کہ اسے پینے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ مقامی شہریوں کے مطابق بعض مقامات پر پانی میں ٹی ڈی ایس (TDS) کی مقدار 600 سے تجاوز کر چکی ہے، جو صحت عامہ کے لیے تشویش ناک اشارہ ہے۔
حال ہی میں پانی کے معیار کے سرکاری ٹیسٹ میں ضلع کے 13 دیہات میں آلودہ پینے کے پانی کی موجودگی کی تصدیق نے صورتحال کی سنگینی مزید واضح کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق آلودہ پانی مختلف متعدی اور معدے سے متعلق بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ بحران صرف گھریلو زندگی تک محدود نہیں بلکہ زرعی شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ کئی دیہات میں آبپاشی کے ذرائع متاثر ہونے کے باعث کسان آئندہ خریف سیزن کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ جلگاؤں، جو ریاست مہاراشٹر کا ایک اہم زرعی ضلع سمجھا جاتا ہے، وہاں پانی کی یہ صورتحال مستقبل میں زرعی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ضلع کی تقریباً 84 فیصد آبادی واٹر اسٹریس والے علاقوں میں رہتی ہے جبکہ تقریباً 29 فیصد آبادی شدید آبی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال، غیر متوازن بارشیں، پانی کے تحفظ کے ناکافی اقدامات اور زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے بڑھتے ہوئے رقبے نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مومینٹ فار پیس اینڈ جسٹس (ایم پی جے) مہاراشٹر کے ذمہ داران نے اس مسئلے کو عوامی مفاد اور انسانی حقوق کا اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے خازن عابد شیخ، ریاستی سیکریٹری محمود خان، ضلع صدر مستقیم خان، ضلع نائب صدر بی۔ڈی۔ مہالے اور ضلع نائب صدر احمد شیخ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبی ذخائر بھرے ہونے کے باوجود عوام پیاسے ہیں تو یہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہے۔
ایم پی جے نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں پینے کے پانی کے بحران کو ہنگامی صورتحال قرار دے کر فوری اقدامات کیے جائیں، پانی کی تقسیم کے نظام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ ٹینکر سپلائی اور متبادل آبی ذرائع فراہم کیے جائیں، آلودہ پانی والے دیہات کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی مہیا کیا جائے اور طویل مدتی بنیادوں پر پانی کے تحفظ اور زیر زمین پانی کی بحالی کے مؤثر منصوبے نافذ کیے جائیں۔ جلگاؤں ضلع کی موجودہ صورتحال ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے کہ جب وسائل موجود ہوں تو عوام بنیادی سہولتوں سے کیوں محروم رہیں؟ پانی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔
Comments
Post a Comment