ریاستی حکومت تحتانوی جماعتوں سے ہی اخلاقی تعلیم پر زورمضمون نگار..... ستار فیضی۔(یس سی ی آر ٹی مترجم و اسٹیٹ ریسورس پرسن، کڈپوی آندھراپردیش انڈیا )
ریاستی حکومت تحتانوی جماعتوں سے ہی اخلاقی تعلیم پر زور
مضمون نگار..... ستار فیضی۔
(یس سی ی آر ٹی مترجم و اسٹیٹ ریسورس پرسن، کڈپوی آندھراپردیش انڈیا )
آندھرا پردیش ریاستی حکومت شعبہ تعلیم میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانے کے لیے محکمہ تعلیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی جماعتوں سے ہی اخلاقی اقدار کا فروغ ہو. والدین اوراساتذہ کی کس طرح تعظیم کرنا ہے؟ خاندان کے افراد سے کس طرح برتاؤ کرنا ہے؟ بات کرنے کا لہجہ کس طرح سے ہونا چاہیے ؟ ماحول کو کس طرح صاف ستھرا رکھنا ہے؟ ملنساری، نظم وضبط ،صبروتحمل دوستی ، عزم، محنت شجر کاری اور پانی کی قدر کس طرح کرنا ہے؟ ، اظہار مافی الضمیر کی تعمیر، یکسوئی اور کس طرح غصہ پر قابو پاناہے؟ ، قدرتی اقدار اور ماحول کا تحفظ جیسے موضوعات پر مشتمل اسباق پر اسی سال سے عمل آوری کرتے ہوئے امتحانات میں نشانات مقرر کرچکی ہے.معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ میں اخلاق بڑھانےکے مقصد سے اخلاقی اقدار پر اہمیت دے رہی ہے. گذشتہ سال 6 تا 10 ویں جماعتوں تک اخلاقی تعلیم کے منصوبے کو عمل کیا گیا.
27 - 2026 تعلیمی سال کے آغاز سے ہی پہلی تا پانچویں جماعتوں تک اخلاقی تعلیم عمل کرنے کا بہترین فیصلہ کی ہے.
فارمیٹیو اسسمینٹ میں چار نشانات اور سمیٹیو اسسمینٹ میں آٹھ نشانات کے سوالات ہوں گے. زبان پڑھانے میں تعلیمی اقدار کو حصہ بنایا گیا ہے. حکومت موجود حالات میں مدرسوں میں ہر ہفتہ نو بیاگ ڈے عمل کررہی ہے.
طلبہ میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے لیے محکمہ تعلیم کے وزیر نارا لوکیس کا یہ نظریہ قابل ستائش ہے. جب سے یہ ذمہ داری سنبھالے ہیں عام تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم پر زور دے رہے ہیں. اسی سلسلے میں مناسبت رکھنے والے اسباق کو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے. بدلتے حالات میں اصلاحات لانے کی سخت ضرورت ہے.
Comments
Post a Comment