منقبت ۔۔۔۔یاد حسین۔۔۔۔۔کربلا کا منظر ۔ قلم کار۔۔۔۔۔ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا۔
منقبت ۔۔۔۔یاد حسین۔۔۔۔۔کربلا کا منظر ۔
قلم کار۔۔۔۔۔ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا۔
صبرورضا کے پیکر حضرت حسین عالی
خود میں تھے ایک لشکر حضرت حسین عالی
سر کو کٹا دۓ تھے حضرت حسین عالی
باطل مٹادۓ تھےحضرت حسین عالی
کیا کچھ نہیں ہوا تھا میدان کربلا میں
ظلم وستم کیا تھا میدان کربلا میں
تن سے کیا قلم سر میدان کربلا میں
لبریز خون سے خنجر میدان کربلا میں
معصوم اور ننھے آنسو بہا رہے تھے
راہ خدا میں اپنی وہ جاں لٹا رہے تھے
بے رحم قاتلوں نے ایسا ستم کیا تھا
اک خون کا سمندر ایسا بہا دیا تھا
حضرت حسین بےشک اسلام کے جہادی
اک شر پسند جاہل یزید تھا فسادی
وہ بےگناہ کم سن اصغر امام اکبر
مجبور بےبسی میں عباس اور جعفر
سرکار کے نواسے اس دین کے تھے غازی
ہاں وہ شہیداعظم اللہ ان سے راضی
تھا خاندان ان کا تھی ذات ان کی حاضر
قربان جان کی ہے اسلام کی ہی خاطر
مشہور معتبر ہے اک آپ کی شہادت
کربوبلا کا قصہ ہے واقعی صداقت
اللہ رکھ سلامت آل رسول کا گھر
میدان حشر تک تو چمکا حسین کا در
اللہ کے کرم سے یہ منقبت ہوئی ہے
یہ بزم خوبصورت فیضی یہاں سجی ہے
Comments
Post a Comment