مومن ایک سادہ انسان ہوتا ہے - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔


مومن ایک سادہ انسان ہوتا ہے - 
 تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
 9881826729 

 مومن وہ انسان ہوتا ہے جس میں سادگی بردباری اور فراست پائ جاتی ہو، ظاہری اعتبار سے بھی وہ سیدھا سادہ اور ہر اعتبار سے سوجھ بوجھ اور فراست کا مالک ہو. اور اپنے دوسرے مومن بھائ کا آئینہ دار ہو۔ ( Externally he hshould be bound by dealing both riligiously and worldly) اور اندرونی اعتبار سے وہ معاملات کا پاپند ہو، چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی، خشیت الہی اور خدا کا ڈر، ہو ۔ چاہے خلوت میں ہو چاہے لوگوں میں ہو، تواضع عاجزی انکساری سے پیش آتا ہو عجز مومن کی علامت ہے کہ وہ ہر ایک سے مودت ،محبت عاجزی انکساری سے پیش آتا ہے۔ حدیث میں ہے ،من عاجز للہ رفعہ اللہ۔ جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے۔ لوگوں سے انکساری سے ملتا ہے، اللہ اس کو دنیا اور آخرت میں بلند کرتے ہیں۔ پھل دار درخت ہمیشہ جھکا ہوا رہتا ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ نفع رسانی کی چیز موجود ہے۔ اس لیے جھکا رہنا اس کی اعلی صفت ہے۔ اور جو درخت پھلدار نہ ہو اور سوکھا ہوا ہو وہ یمیشہ (Tight) اور خار دار ہوتا ہے۔ مومن کی مثال پھل دار درخت جیسی ہے جس میں ( Modesty) عجز، عاجزی ،اور جھکاو موجود ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنا ہو تو آپ کو جھک کر چڑھنا پڑیگا، ( Ego) سے اور اکڑ کر آپ پہاڑ کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ ایک حدیث میں ہے ،جس کا مفہوم ہے ۔مومن کی فراست سے بچو ،کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، سیدھے سادے مومنوں پر مصیبتیں اور پریشانیاں آتی ہیں۔ یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائشیں اور امتحان ہوتا ہے۔ مومن تکالیف اور مصائب سے کبھی نہیں گھبراتا،اور نہ وہ اپنے شعار اسلام پر کوئ آنچ آنے دیتا، اور نہ اسلامی تعلیمات پر، اور نہ اپنی تہذیب و تمدن پر، وہ ہمیشہ اخلاقی اقدار پر، انسانیت و اخوت پر، عاجزی وانکساری پر قائم رہتا ہے۔ خدا اور رسول کی تعلیمات کو اپنا مقصد حیات سمجھتا ہے۔ اور اپنے امور کو اللہ کے لیے چھوڑتا ہے۔ اللہ اور اسکے رسول نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے کہ ذراسے فائدہ پر اپنی مذہبی ،سماجی، اور ملی تشخص کو یوں سر عام مجروح نہ کریں۔ بلکہ اعلاے کلمت اللہ کو بلند و بالا رکھیں، جو ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے۔ چاہے وہ قیادت ہو،چاہے سیاست ہو، اور چاہے عہدہ اور منصب کے حصول کا مقصد ہو۔ ہم اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوگی کہ اللہ نے یہ دنیا اسلام کے ماننے والوں کے عوض اس کرہ ارض پر پھیلادیا۔ اور فرمایا ۔ میں زمین پر خلیفہ بنانے جارہا ہوں۔ اور وہ خلیفہ ،بادشاہت مومنوں اور مسلمانوں کے سبب ( Created) تخلیق پائ ۔ اور اسکے ساتھ سب سے پہلے علم کا بھی سلسلہ قرآن کریم نے انسانوں پر واضح اور آشکارہ کیا ہے کہ علم سیکھو۔ علم سیکھو ۔ اور علم نے ہی یہ درس دیا ہے کہ بادشاہت خلافت، جسے ہم آج کی زبان میں وزیر اعظم کہتے ہیں۔ قرآن نے یہ علم دیا ،اور علم نے فراست عطا کی قیادت جس میں محبت ،مودت ،بھائ چارہ، انسانیت، عدل و انصاف ، ہمدردی پر منحصر ہو۔ مومن اور مسلمان کی شان یہ کہ وہ ایک بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا،یا یوں کہیے کہ ظلم کا شکار نہیں ہوتا۔ لیکن آج ہم اگر جائزہ لیں تو یمیں معلوم ہوگا کہ ہم علم ،سیاست،قیادت ،اور طاقت میں کتنے پیچھے ہیں۔ کیونکہ ہم میں مومنانہ صفات کا فقدان ہے۔ "لفظ" مومن میں وہ تمام اوصاف موجود ہیں جس سے ہم خدا کو راضی کرسکتے ہیں۔ لیکن آج ہم خدا کو چھوڑکر عملا کسی اور کو راضی کر رہے ہیں۔ آج ہم ذاتی مفاد کے تحت کن لوگوں پیچھے پھر رہے ہیں۔ یہی نہیں ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہم ذراسے مفاد کے خاطر اپنی تہذیب،اور اپنے مذہبی تشخص کو مجروح و پامال کررہے ہیں۔ حدیث میں ہے، جو جس قوم کی مشابہت اختیار کریگا، وہ اسی قوم سے اٹھایا جائیگا۔ دنیا میں اکثیریتی فارمولہ پر عمل کیا جاتا ہے، اسلام اور اللہ کے پاس ( Minority and majority) اکثیریتی اور اقلیتی کا کوئ تصور نہیں۔ چند لوگ بھی اگر مومنانہ صفات اور اللہ کے دستور پر عمل پیراء ہوں تو وہ دنیا اور آخرت کے کامیاب ترین انسان ہیں۔ اور دنیا کے اکثیریتی فارمولے کے انسان اگر وہ غلط پر مبنی ہیں تو آخرت کے ناکامیاب انسان ہیں۔ آج کے دور میں ہمیں یہ سوشل میڈیا اور دیگر مواصلات کے ذریعہ دید کو ملتا ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر بڑا دکھ و درد محسوس ہوتا ہے۔ سابقہ میں ہمارے ( Emperors ) حکمرانو نے بادشاہوں نے سلطنت اور حکومت کی لیکن ایسی نہیں جو آج دید کو ملتا ہے۔ روپیہ اور پیسوں کو اہمیت نہیں دی۔ قیادت میں اللہ کا ڈر ہونا ایک عظیم اسلامی وصف ہے ،جس سے حکمراں انصاف ، عوام الناس سے ہمدردی اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی تشکیل کو صاف و شفاف اور یقینی بناتا ہے۔ اور یہ اوصاف مومنوں میں بدرجہ اتم پاے جاتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اللہ کی رسی کو ( unity) مضبوطی سے تھامیں رہیں۔ اور نا اتفاقیوں کا شکار نہ بنیں۔ لیکن آج ہماری اکثر شکست کا سبب نا اتفاقیاں ( Disunity trapped) ہے ۔ لہذا ہم اتحاد کے ساتھ اپنی ملی مذہبی شناخت کو کبھی بھی کمزور نہ پڑھنے دیں۔ ہمیں حق اور سچ کو ظاہر کرنا ہے ، اگرچہ کہ وقت کا ظالم بادشاہ کیوں نہ ہو۔ آج حالات نہایت ہی سنگین ہیں، نفرت کا بازار گرم ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے میں اپنے آپ کو بچاو، گھر دار کو بچاو، اور کوئ کہتا ہے اپنی کرسی اور عہدہ کو بچاو،اور کوئ کہتا ہے اپنے مال وزر کو بچاو، ہر گز نہیں بلکہ ہمیں آج کے دور میں جس چیز کو بچانا ہے،جس چیز کا تحفظ کرنا ہے، وہ ایمان ہے، جس کو آج کے دور میں بچانا انتہائ ضروری ہے۔ جب ہم ایمان کا اپنے ملی تشخص اور تہذیب ( Religious civilization) و تمدن کا اور اسلامی شعار کا تحفظ کریں گے، تو ( creator of univers ) خالق کائنات ہمیں اس دنیا میں اپنے مذہبی اور ملی تشخص کے ساتھ زندہ اور تابندہ رکھیگا۔ اور اس کرہ ارض پر آپ ہی بلند اور کامیاب رہوگے گرچہ کہ تم مومن بن کر زندگی گذاریں۔اور مومن بن کر اس فانی دنیا کو الوداع کہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔