زمین بھی امانت، ماحول بھی ذمہ داری - جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی اپیل پر ریاست بھر میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کی منفرد عوامی مہم۔ - تحریر : محمد طلحہ سیدی باپا۔


زمین بھی امانت، ماحول بھی ذمہ داری - 
جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی اپیل پر ریاست بھر میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کی منفرد عوامی مہم۔ -  
تحریر : محمد طلحہ سیدی باپا۔ 
 9901442543

جمعہ کی ایک گرم دوپہر تھی۔ کرناٹک کی مختلف مساجد سے نمازی جب نمازِ جمعہ ادا کرکے باہر نکلے تو منظر کچھ مختلف تھا۔ کہیں نمازی مسجد کے صحن میں پودے لگا رہے تھے، کہیں نوجوان ماحولیاتی تحفظ سے متعلق کتابچے تقسیم کر رہے تھے، تو کہیں بچے خوشی خوشی ”سیڈ بال“ (بیج والے مٹی کے گولے) لے کر شجرکاری مہم میں شریک تھے۔ اسکولوں، کمیونٹی ہالوں اور عوامی مقامات پر پانی کی قلت، ماحولیاتی تبدیلی، پلاسٹک کی آلودگی اور زمین کے مستقبل پر گفتگو جاری تھی۔ بیدر سے بیلگاوی، Hassan سے کوپّل، کاپو سے کلبُرگی تک عالمی یومِ ماحولیات اس سال محض ایک رسمی دن نہ رہا بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک میں بدلتا نظر آیا جس میں مسلمانوں نے اپنی دینی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے سرگرم حصہ لیا۔
 اس مربوط مہم کے پسِ منظر میں جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی بروقت منصوبہ بندی نمایاں رہی۔ ماحولیات کے بڑھتے ہوئے بحران اور روز بروز بگڑتے قدرتی توازن کو محسوس کرتے ہوئے امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بلگامی نے کافی پہلے ہی ریاست کی مقامی جماعتوں کو تفصیلی ہدایات جاری کیں کہ یومِ ماحولیات کو محض رسمی طور پر نہ منایا جائے بلکہ اسے بیداری، سماجی خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کے ایک مؤثر موقع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ہدایت دی گئی کہ مقامی جماعتیں ماحولیات پر خطباتِ جمعہ، بیداری ریلیاں، شجرکاری مہمات، اسکولوں میں خصوصی پروگرام، راؤنڈ ٹیبل نشستیں، غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ مشترکہ سرگرمیاں اور عوامی بیداری مہمات منعقد کریں۔ کئی مقامات پر جہاں 5 جون کو پروگرام ممکن نہ ہوسکے، وہاں 6 اور 7 جون کو سرگرمیاں جاری رہیں، جس سے اس مہم کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔اس مہم کو علمی بنیاد فراہم کرنے کے لیے شانتی پرکاشنا کی جانب سے ماحولیات کے تحفظ پر ایک خصوصی کتاب شائع کی گئی تاکہ مساجد، محلوں اور عوامی اجتماعات میں ماحولیات پر سنجیدہ اور بامقصد گفتگو ہوسکے۔ حلقہ کی جانب سے ایک جامع ویڈیو پیغام بھی جاری کیا گیا جس نے ریاست بھر کی مقامی جماعتوں کی رہنمائی کی۔
 مہم کے سیکریٹری انچارج محمد کنہی نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں ماحولیاتی بحران پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ”سبز انقلاب کے سفیر“ بنیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ درخت لگانا، پانی کی حفاظت کرنا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنانا صرف سماجی ضرورت ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا تقاضا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ماحول کے ساتھ ہماری بے احتیاطی آنے والی نسلوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے۔اس مہم کا سب سے مؤثر پہلو شاید ریاست بھر کی مساجد میں ماحولیات پر خطباتِ جمعہ تھے۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی اپیل پر ریاست کی بڑی تعداد میں مساجد میں ائمہ اور خطباء نے پانی کے تحفظ، شجرکاری، ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اور پلاسٹک کے نقصانات پر گفتگو کی۔ بہت سے نمازیوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ ماحولیات جیسے مسئلے کو مسجد کے منبر سے اتنی سنجیدگی اور مربوط انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ماحولیات کے بارے میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی اور عام لوگوں میں اس موضوع پر گفتگو شروع ہوئی۔جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی اس مہم کو مقامی جماعتوں نے صرف تنظیمی سرگرمی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملت کے مختلف طبقات کو شریک کرکے اسے ایک وسیع ملّی بیداری مہم کی شکل دینے کی سنجیدہ کوشش کی۔یہ کوشش صرف مسلم سماج تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد ایک وسیع تر سماجی شعور پیدا کرنا بھی تھا۔ کئی مقامات پر غیر مسلم برادران، مقامی سماجی کارکنان اور سرکاری اہلکار بھی ان پروگراموں میں شریک ہوئے، جس سے یہ پیغام گیا کہ ماحولیات کا تحفظ کسی ایک مذہب یا طبقے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
 ریاست بھر میں جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سیکریٹریز، اسسٹنٹ سیکریٹریز، نظمائے علاقہ، ضلعی ذمہ داران اور وابستگان بھی میدان میں متحرک نظر آئے۔ وہ شجرکاری مہمات، بیداری پروگراموں اور عوامی اجتماعات میں شریک ہوئے اور مختلف مقامات پر خطاب کرکے لوگوں کو ماحول دوست عادات اپنانے کی ترغیب دیتے رہے۔سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کی بھرپور جھلک دیکھی گئی۔ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر سبز رنگ کے دلکش پوسٹرز، مختصر ویڈیوز اور بیداری پیغامات بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے۔ کئی علاقوں میں یہ مہم گفتگو کا موضوع بن گئی اور ماحولیات سے متعلق شعور عام لوگوں تک پہنچنے لگا۔ریاست کے مختلف شہروں میں ان سرگرمیوں کی نوعیت بھی خاصی منفرد اور مقامی ضرورتوں کے مطابق رہی۔کوپّل میں متعدد مساجد نے ماحولیات پر خصوصی خطب? جمعہ کا اہتمام کیا، جہاں اس بات پر زور دیا گیا کہ زمین، پانی اور درختوں کی حفاظت محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی امانت بھی ہے۔بیدر میں جماعت کے وفد نے سٹی کارپوریشن کمشنر سے ملاقات کرکے ماحولیات کے سلسلے میں ایک یادداشت پیش کی، تاکہ عوامی بیداری اور شہری تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔Hassan میں ماحولیات مہم نے خاص جوش و خروش اختیار کیا۔ ہیماؤتی مجسمہ کے قریب پودے تقسیم کیے گئے، بچوں نے ”سیڈ بال“ کے ذریعے شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور ماحولیات کے تحفظ پر کتاب جاری کی گئی۔ سالیڈیرٹی یوتھ موومنٹ کے اشتراک سے شجرکاری مہم بھی چلائی گئی جس کا پیغام تھا: ”صحت مند ماحول، صحت مند قوم“۔نونگر (Navnagar) میں نمازِ جمعہ کے بعد مسجد الانصار میں ماحولیات سے متعلق کتاب کی رسمِ اجرا منعقد ہوئی، جبکہ باگلکوٹ اور تالی کوٹ میں ماحولیات کو اسلامی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک درخت لگانا آنے والی نسلوں کے لیے صدق? جاریہ کے مترادف ہے۔کاپو (ضلع اُڈپی) میں مہم کا مرکزی سوال تھا: ”میں فطرت کو کیا دے سکتا ہوں؟“ لوگوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ پانی بچانے، پلاسٹک کم کرنے، صفائی برقرار رکھنے اور کم از کم ایک درخت لگانے کا عزم کریں۔بیلگاوی میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات—بے وقت بارش، بڑھتا درجہ حرارت، سیلاب، قحط اور آلودگی—پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جب کہ کولار میں طلبہ کے لیے ماحولیات پر خصوصی کیمپس لیکچر منعقد کیا گیا۔ارے ہلی میں وابستگان نے مسجد کے احاطے میں خاموشی سے پودے لگائے، جب کہ میسور، کلبُرگی، ایلکل اور بلاری میں شجرکاری اور بیداری پروگرام ہفتہ بھر جاری رہے۔تقریباً ہر پروگرام میں دو باتیں مشترک رہیں: پانی کی حفاظت اور پلاسٹک سے نجات۔ مقررین نے توجہ دلائی کہ زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور بے وقت بارشیں ہمارے مستقبل کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہیں۔ اسی طرح پلاسٹک کو ماحول کا ایک بڑا دشمن قرار دیا گیا جو زمین، پانی اور انسانی صحت تینوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مقررین نے یاد دلایا کہ انسان زمین کا نگہبان ہے، مالک نہیں۔ اسلام اسراف سے روکتا ہے؛ یہاں تک کہ پانی جیسی نعمت کے استعمال میں بھی میانہ روی اور ذمہ داری سکھاتا ہے، جبکہ درخت لگانے جیسے اعمال کو باعثِ اجر قرار دیتا ہے۔
 اس پوری مہم نے شاید ایک سادہ مگر گہرا پیغام دیا: ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں۔ عام شہری، دینی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ کرناٹک بھر کے مسلمانوں نے خاموش مگر مؤثر انداز میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ درخت لگانا، پانی بچانا اور زمین کی حفاظت کرنا صرف سماجی خدمت نہیں بلکہ ایمان، ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کے حق کی حفاظت بھی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔