غریب آخر کہاں جائے؟"غریب کی روزی چھیننا، اس کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے برابر ہے۔ "۔ - سید فاروق احمد قادری۔
غریب آخر کہاں جائے؟
"غریب کی روزی چھیننا، اس کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے برابر ہے۔ "۔ -
سید فاروق احمد قادری۔
دنیا میں سب سے زیادہ بے بس وہ شخص ہوتا ہے جس کی محنت ہی اس کی واحد پونجی ہو۔ ایک مزدور، ریڑھی یا ٹپری لگانے والا صبح سے شام تک اس امید کے ساتھ محنت کرتا ہے کہ شام کو اس کے بچوں کے چولہے میں آگ جل سکے گی۔
بیڑ ضلع کے نگر روڈ پر ٹپری لگانے والے غریب لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کسی کے پھل سڑک پر بکھر گئے، کسی کی برسوں کی محنت لمحوں میں مٹی میں مل گئی۔ شاید یہ سب صرف چند لمحوں کا منظر تھا، مگر اس غریب کے لیے یہ اس کی پوری زندگی کی کمائی تھی۔
یہ سوال ہر انصاف پسند انسان کے دل میں اٹھتا ہے کہ جب کسی غریب کی روزی چھین لی جاتی ہے تو اس کے معصوم بچوں کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ ان کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ ان کی بھوک کا جواب کون دے گا؟ ترقی اور قانون اپنی جگہ اہم ہیں، مگر انسانیت، رحم اور انصاف بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر طاقتور کے لیے الگ پیمانہ اور غریب کے لیے الگ معیار نظر آتا ہے۔ غریب کی فریاد کم سنائی دیتی ہے، اس کے آنسو کم دکھائی دیتے ہیں اور اس کی محنت کی قدر بھی کم کی جاتی ہے۔
اگر معاشرے میں انصاف صرف صاحبِ اختیار کے لیے ہو اور غریب کی عزتِ نفس محفوظ نہ رہے، تو پھر یہ سوال بار بار گونجتا ہے:
غریب آخر کہاں جائے؟
قطعہ
زندگی میں بھی غریب آزمائشوں میں رہا،
موت کے بعد بھی سکون نہ پا سکا۔
کیسا زمانہ آ گیا، قبرستان میں بھی
عزت کا معیار دولت سے ناپا جا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment