اردو اساتذہ کی نظریں ضلع پریشد بیڑ کے سی ای او جتن رحمان صاحب پر — کیا برسوں سے زیرِ التوا مسائل حل ہوں گے؟ - سید فاروق احمد قادری۔
اردو اساتذہ کی نظریں ضلع پریشد بیڑ کے سی ای او جتن رحمان صاحب پر — کیا برسوں سے زیرِ التوا مسائل حل ہوں گے؟ -
سید فاروق احمد قادری۔
3 جون کو ممبئی کے سہیادری گیسٹ ہاؤس میں نائب وزیر اعلیٰ سنترا پوار کی صدارت میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں اقلیتی برادری، اردو تعلیم، اردو اکیڈمی، خالی آسامیوں کی بھرتی، اردو اساتذہ کی ترقی اور دیگر تعلیمی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی تھی۔ اجلاس میں مختلف عوامی نمائندوں اور ذمہ داران نے اردو میڈیم اسکولوں اور اردو اساتذہ کو درپیش مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کیا اور ان کے حل کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے مثبت یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں۔
تاہم زمینی سطح پر صورتحال اب بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ضلع پریشد بیڑ میں اردو میڈیم کے تقریباً 98 اسکول موجود ہیں، لیکن ان اسکولوں سے متعلق خالی آسامیوں، ترقیاتی معاملات اور انتظامی مسائل کو وہ توجہ نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ اردو اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اردو شعبے کی ضروریات اور مسائل کو رپورٹوں اور سرکاری معلومات میں مناسب انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔
اردو اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں یہ سوال مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ضلع میں درجنوں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں اور متعدد آسامیاں خالی ہیں تو پھر ان خالی آسامیوں کو بروقت پُر کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر حکومت اور محکمۂ تعلیم کو بھیجی جانے والی رپورٹوں میں دیگر شعبوں کی تفصیلات شامل کی جا سکتی ہیں تو اردو شعبے کی مکمل اور درست معلومات فراہم کرنے میں کوتاہی کیوں برتی جاتی ہے؟ تعلیمی انصاف کا تقاضا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں کی ضروریات، خالی آسامیوں اور ترقیاتی معاملات کو بھی حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا جائے تاکہ پالیسی سازی اور تقرریوں کے عمل میں کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی کا تاثر پیدا نہ ہو۔
اسی طرح ناظر تعلیمات کے عہدوں کے لیے بھی کئی اردو اساتذہ مطلوبہ قابلیت، تجربہ اور امتحانات کی شرائط پوری کرنے کے باوجود ترقی کے منتظر ہیں۔ متعدد اساتذہ کا کہنا ہے کہ کیندر پرمکھ کی ترقیوں میں اردو شعبے کو مناسب نمائندگی نہیں مل رہی، جس کے باعث اہل اور مستحق اساتذہ برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب اردو میڈیم کے تقریباً 98 اسکول موجود ہیں تو پھر ناظر تعلیم کے عہدوں پر اردو اساتذہ کی نمائندگی محدود کیوں ہے اور ان کی ترقی کے معاملات میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
حال ہی میں حکومت کو ترقیوں اور خالی آسامیوں کے سلسلے میں جو معلومات ارسال کی گئیں، ان میں اردو میڈیم اسکولوں اور اردو اساتذہ کی ضروریات کا مکمل عکس نظر نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ جب ضلع میں بڑی تعداد میں اردو اسکول موجود ہیں تو پھر اردو شعبے کی خالی آسامیوں کو بروقت پُر کرنے اور ترقیاتی معاملات کو آگے بڑھانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ اگر دیگر شعبوں کے لیے مکمل معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں تو اردو شعبے کے سلسلے میں نامکمل یا ناکافی معلومات کیوں پیش کی جاتی ہیں؟ یہ سوالات آج اردو اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔
چند روز قبل اردو اساتذہ کے ایک وفد نے ضلع پریشد بیڑ کے سی ای او جناب رتن رحمان صاحب سے ملاقات کرکے ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی تھی۔ وفد نے خالی آسامیوں کی فوری بھرتی، اردو اساتذہ کی ترقی ناظر تعلیم 1 کے عہدوں پر مناسب نمائندگی، زیرِ التوا فائلوں، پنشن کے معاملات اور دیگر انتظامی مسائل کی جانب توجہ دلائی۔ اس موقع پر سی ای او صاحب نے مسائل کے حل اور جائز مطالبات پر مثبت غور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
اردو اساتذہ کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ صرف مساوی مواقع، شفاف طریقۂ کار اور میرٹ کی بنیاد پر انصاف چاہتے ہیں۔ تعلیمی انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام میڈیم کے اساتذہ کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور اردو میڈیم اسکولوں کی ضروریات، خالی آسامیوں اور ترقیاتی معاملات کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔
اب ضلع پریشد بیڑ کے سی ای او رتن رحمان صاحب اور محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے اردو اساتذہ کے برسوں سے زیرِ التوا مسائل کے معاہدے طے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں گے تاکہ تعلیمی نظام میں اعتماد، شفافیت اور مساوات کو فروغ مل سکے۔تو
Comments
Post a Comment