مصائب اور حالات کب آتے ہیں۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
مصائب اور حالات کب آتے ہیں۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
حضرت ابن عباس فرماتے ھیکہ جس قوم نے مال غنیمت میں خیانت کی تو اللہ تعالی انکے دلوں میں انکے دشمنوں کا رعب ڈال دیتا ہے اور جس قوم میں زنا کی برائی پھیلی ان میں موت بہت ہوتی ہے اور جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی ہے تو انکا رزق تنگ ہوجاتا ہے اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خونریزی اور قتل عام ہوجاتا ہے اور جو قوم عہد کو توڑتی ہے ان پر دشمن کو غالب کردیا جاتا ہے ( موئطا امام مالک)
دنیا میں تبدیلیاں اور انقلابات اللہ تعالی کی مشیت اور اسکے ارادے سے ہوتے ہیں لیکن انسان کے اعمال اسکے لئے سبب بنتے ہیں جیساکہ قرآن مجید میں اسکو واضح فرمایا گیا ہے مذکورہ بالا حدیث شریف میں خصوصا ان بعض گناہوں کا تذکرہ ہے جو حالات و مصائب کے آنے کا سبب بنتے ہیں
اعمال اور حالات و مصائب بظاہر عقلی طورپر ان کا کوئی جوڑ و تعلق نظر نہیں آتا لیکن نبئ کریم کے زبان اقدس سے نکلی ہوئی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی اسی طرح جب تک مسلمان اپنی خواہشات اور چاہتوں کو نبئ کریم کی لائی ہوئی تعلیمات کے تابع نہ کریں تب تک ان کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا
قرآن کریم کی سورہ البقرہ میں متقین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان میں سب سے پہلی صفت ایمان بالغیب بیان کی گئی ہے یعنی جو بن دیکھی چیزوں کا یقین کرتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے رسول کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات سے کچھ نہیں بولتے جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی کردہ ہوتا ہے
تو اعمال اور حالات و مصائب انکا یقینی طورپر تعلق ہے چاہے ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے
تو سب سے پہلی چیز جو ارشاد فرمائی وہ دلوں میں دشمنوں کا رعب بیٹھ جانا ہے اور رعب ڈر و دہشت وہ چیزیں ہیں جو انسان کو نکما اور بے کار بنادیتی ہے نبئ کریم کی ایک ماہ کی مسافت کی دوری پر سے رعب کے ذریعے دشمنوں کے خلاف مدد کی گئی جیساکہ حدیث شریف میں اسکا تذکرہ ہے اور یہ بات نبئ کریم کی مخصوص خصوصیت میں داخل ہے
حضرات صحابہ کرام کے حالات سے کون ناواقف ہے بظاہر تو سیدھے سادھے اور معمولی نظر آتے تھے لیکن بڑے بڑے ظالم و جابر بادشاہوں کے کلیجے ان کے نام سنتے ہی کانپتے تھے تو دشمنوں کے دلوں میں رعب کا طاری ہونا یہ بھی اللہ تعالی کا ایک انعام ہے لیکن جب مال غنیمت میں خیانت کی جاتی ہے تو دشمنوں کا رعب دلوں میں ڈالا جاتا ہے
مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ فرماتے ھیکہ آج کے دور میں مدارس دینیہ مساجد تعلیمی و رفاہی ادارے یتیم خانے اوقاف اور سرائے وغیرہ کے مال میں خیانت کرنا بھی مال غنیمت اور قومی مال میں خیانت کرنیکی طرح ہے
آج ذرا معاشرے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ھیکہ مختلف حیلوں و بہانے کبھی تو ھدیہ اور تحفے کے نام سے تو کبھی وظیفے اور تنخواہ کے نام سے ان اداروں کا مال اپنے اور اپنے متعلقین اور دوست و احبابوں پر بے دریغ خرچ کیا جاتا ہے بولنے اور پوچھنے والا کوئی نہیں
گویا من ترا حاجی بگویم ___ تومرا حاجی بگو یعنی توبھی چپ میں بھی چپ
بڑے افسوس کی بات ہے قیامت کے روز تو حساب دینا ہی پڑیگا
دوسری چیز زنا اور بدکاری کی وجہ سے کثرت سے اموات کا واقع ہونا آج ذرا دنیا کا ماحول دیکھیں کہ زنا اور بدکاری کو گناہ ہی تصور نہیں کیا جاتا بلکہ بعض ممالک میں تو اسکو قانونی جواز بھی حاصل ہے اور جہاں ممنوع ہے تو اگر زور و زبردستی سے ہوتو ممنوع ہے لیکن اگر آپسی رضامندی سے ہوتو کوئی جرم نہیں
لیکن دین اسلام کے نزدیک یہ بہت ہی گھناونا جرم ہے اسلئے کہ اس سے معاشرہ بے راہروی کا شکار ہوجاتا ہے آپس میں نسب کی کوئی پہچان باقی نہیں رہتی اسلئے شریعت نے اسکی سزا بھی اتنی سخت مقرر کی ہے تاکہ کوئی اسکا ارتکاب نہ کرے بلکہ شریعت نے یہ حکم دیا ھیکہ کوئی اسکے قریب بھی نہ جائے ارتکاب تو دور کی بات ہے اسلئے سد ذرائع کے طورپر بھی ان تمام چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے جو اسکے قریب لے جانے والے ہیں آج پوری دنیا میں دیکھیں کس کثرت سے اموات واقع ہورہے ہیں یہ اسی گناہ کا نتیجہ ہے
تیسری چیز جو ارشاد فرمائی وہ ناپ تول کی کمی کی وجہ سے رزق میں تنگی کا واقع ہوجانا ہے آج ہر ایک آدمی روزی روٹی اور مالداری حاصل ہونے کے لئے بڑا فکر مند اور پریشان ہے اور اسکے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنا رہا ہے خصوصا خرید و فروخت میں دھوکہ دہی ناپ تول میں کمی بیشی کہ اسطرح مالداری حاصل ہوگی لیکن نبئ کریم ارشاد فرماتے ھیکہ ناپ تول میں کمی کرنیکی وجہ سے اللہ تعالی رزق اور روزی کو تنگ کردیتے ہیں
قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام نے اس بارے میں اپنی قوم کو جو نصیحت فرمائی ہے اسکا تذکرہ ہے
حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا
اے میری قوم تم ناپ اور تول پوری پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کا ان چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے حد سے مت نکلو ( سورہ ھود)
اسطرح سورہ المطففین میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کے لئے ہلاکت بیان فرمائی ہے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں دوسرے سے تو اپنا حق پورا وصول کرتے ہیں لیکن دوسرے کے لئے تولتے اور ناپتے وقت کمی کرتے ہیں
چوتھی چیز جو ارشاد فرمائی وہ ناحق فیصلہ کرنیکی وجہ سے آپس میں خونریزی اور قتل و غارتگری کا واقع ہونا
اسلام نے ہمیشہ عدل و انصاف کو قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ دشمنوں کیساتھ بھی عدل و انصاف کیساتھ فیصلہ کرنیکا حکم فرمایا ہے اگر اپنے تعلقات والوں اور رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینے کی ضرورت پڑے تب بھی انکے خلاف گواہی دینی چاہئے یہ اسلامی تعلیمات ہیں
اسلئے کہ ناانصافی اور ظلم و زیادتی ہی آپس میں لڑائی جھگڑے اور خون خرابے کا سبب بنتے ہیں ذرا آج دنیا کے حالات اور عدالتوں پر نظر ڈالیں تو صاف واضح ہوتا ھیکہ فیصلہ اور تصفیہ کرنے میں عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ اپنے اور اپنے متعلقین کے لئے کسوٹی کچھ اور ہوتی ہے اور دوسروں کے لئے کچھ اور ہوتی ہے اسی لئے پوری دنیا میں قتل و غارت گری عام ہوچکی ہے
پانچویں چیز جو ارشاد فرمائی وہ عہد و معاہدے کا پاس و لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے دشمنوں کو غلبہ دیا جانا ہے نبئ کریم نے وعدہ خلافی کرنا یہ منافقین کی علامت بتلائی ہے مسلمان تو اپنے عہد و پیمان کا پابند ہوتا ہے
اس حدیث مبارکہ میں پانچ قسم کے حالات اور مصائب کا تذکرہ ہے جو پانچ قسم کے مختلف گنایوں کے ارتکاب کرنے پر ڈالے جاتے ہیں
بظایر صرف عقل کے زاویے سے دیکھا جائے تو ان گناہوں کے ارتکاب اور مصائب و حالات کے آنے میں کوئی تعلق اور مناسبت نظر نہیں آتی لیکن جو بات نبئ کریم کی زبان اقدس سے نکلی ہے وہ کبھی غلط نہیں ہوسکتی اسلئے حالات و مصائب کے آنے پر سب سے پہلے ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہئے اور توبہ و استغفار کے ساتھ اپنے زندگی کی اصلاح اور درستگی کی فکر کرنی چاہئے
اللہ تعالی ہماری گناہوں سے حفاظت فرمائے اور ہمیں شریعت کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے
Comments
Post a Comment