بیٹی — رحمت یا زحمت - ازقلم: رہبر تماپوری۔


بیٹی — رحمت یا زحمت
ازقلم: رہبر تماپوری۔

بچپن انسانی زندگی کا وہ نازک اور حسین دور ہے جہاں شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دل ہر قسم کی کدورت سے پاک اور ذہن ایک سفید کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ اسی دور کی تربیت انسان کے مستقبل کا رخ متعین کرتی ہے۔ اسی پس منظر میں بیٹی کے وجود کو سمجھنا ضروری ہے، جو محبت، حیا، وقار اور احساس کا حسین امتزاج ہے، مگر بعض اوقات غلط تربیت اور معاشرتی رویے اسے غلط انداز میں پیش کر دیتے ہیں۔
اسلام نے بیٹی کو بے مثال عزت دی اور اسے سراپا رحمت قرار دیا۔ حضورِ اکرم ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش اور حسنِ سلوک کو جنت کا ذریعہ بتایا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیٹی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ وہ گھر کی رونق، دلوں کا سکون اور خاندان کی عزت ہوتی ہے۔ اس کی موجودگی سے ماحول میں محبت اور نرمی پیدا ہوتی ہے۔ ایک بااخلاق بیٹی نہ صرف والدین کے لیے فخر کا باعث بنتی ہے بلکہ پورے خاندان کا وقار بھی بلند کرتی ہے۔ وہ اپنے کردار سے آنے والی نسلوں کے لیے روشن مثال بن جاتی ہے۔
اسی حقیقت کو شعری انداز میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
خدا کی ہے رحمت یہ بیٹی سراپا
حیا کا ہے پیکر، محبت کا دریا
تاہم آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین زیادہ تر توجہ صرف دنیاوی تعلیم پر دیتے ہیں اور اخلاقی تربیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بچہ علم تو حاصل کر لیتا ہے مگر کردار کی مضبوطی سے محروم رہ جاتا ہے۔ موجودہ دور نہایت نازک اور فکری الجھنوں سے بھرا ہوا ہے جہاں میڈیا، انٹرنیٹ اور غلط صحبت نوجوان ذہنوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ تربیت ناگزیر ہے کیونکہ تعلیم فرد کو سنوارتی ہے جبکہ تربیت نسلوں کی آبیاری کرتی ہے۔
بیٹی کو زحمت یا رحمت بنانے والا عنصر اس کی فطرت نہیں بلکہ اس کی تربیت ہے۔ اگر بچپن سے اسے محبت، اعتماد اور بہتر رہنمائی دی جائے تو وہ ایک باوقار اور مضبوط شخصیت بن کر ابھرتی ہے۔ اس کے برعکس رہنمائی کی کمی اس کی شخصیت میں بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ والد کا کردار رہنمائی اور نظم و ضبط میں جبکہ والدہ کا کردار محبت، حیا اور اخلاقی تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ سختی کے بجائے محبت اور دوستانہ رویہ اختیار کریں تاکہ بچے اعتماد کے ساتھ اپنی بات بیان کر سکیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد کی اصلاح ہی قوموں کی فلاح کا راز ہے۔ اگر گھر کی بنیاد درست ہو جائے تو معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اسی خیال کو مزید تقویت دیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے:
نہ زحمت سمجھنا کبھی اس کو رہبر
یہ روشن کرے گی تمہارا ہی فردا
آخر میں یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بیٹی اپنی اصل میں ہمیشہ رحمت ہے، زحمت نہیں۔ جب اسے صحیح تربیت، محبت اور شعور دیا جائے تو وہ ایک روشن، باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو فرد کو بھی سنوارتی ہے اور قوموں کو بھی عروج عطا کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔