ماہِ محرم میں شادیاں کرنا، ولیمہ کرنا یا کوئی خوشی کا کام کرنا یعنی جشن منانا۔۔ ازقلم : مرزا چشتی صابری نظامی۔
ماہِ محرم میں شادیاں کرنا، ولیمہ کرنا یا کوئ خوشی کا کام کرنا یعنے جشن منانا۔
ازقلم : مرزا چشتی صابری نظامی۔
اللہ نیک توفیق دے۔
ہدایت دے۔ مذھب اسلام فِطرت سے ہٹ کر نہیں ہے۔۔۔ماہ محرم میں، واقعہ شہادت امام حسین علیہ السلام سے پہلے کے واقعات کو اکثر پیش کیا جاتا ہے ۔۔رہا سوال وسعتِ دسترخوان اہل و عیال پر جو کہا گیا ( یہ بھی واقعہ شہادت سے پہلے کی بات ہے۔ شہادتیں تو بہت سی ہُویں مگر شہادتِ اِمام حسین و جانثارانِ حُسین وہ شہادت ہے جِسکی مطلق کوئ نظیر آدم علیہ السلام سے تادم عالم نہیں۔ یہ وہ شہادت ہے جِسکی خبر نبئ کریم ﷺ کو حضرت جبریل نے بہت پہلے ہی دی اور تاریخِ اسلام گواہ ہے آپ نے جبریل سے چہیتے نواسہ کی شہادت کی خبر سن کر تا دمِ زیست غم کِیا ، آنکھوں سے آنسُو رواں ہوتے تھے۔ یہ وہ شہادت ہے جِسکی اطلاع حضرتِ علی کرم اللہ وجہ کو تھی چنانچہ وہ اپنی شہادت سے پہلے روتے ہوے اظہار فرمایا کہ بیٹے حُسین میرے بعد تم پر مصایب کے پہاڑ ٹوٹیں گے مگر یاد رکھو صبر کرنا، یہ وہ شہادت ہے جِسکی اطلاع سیدنا امام حسن علیہ السلام کو تھی اور اُنہوں نے بھی اپنی شہادت سے پہلے سیّدنا امام حُسین علیہ السلام کو یہی نصیحت کی تھی کہ چاہے جِتنا بھی ظلم و ستم ہو صبر کرلینا۔
اُمتّ کواہلِ بیتِ اطہار سے محبّت کرنے کے لیےء، ایک دو نہیں کئ صحیح احادیث۔۔ اور قُرآن پاک کے آیات ، بیاناتِ صحابہ کرام۔۔ تابعین۔۔ تبع تابعین و اولیاء اللہ کے بیشمار فرمودات موجُود ہین۔ ۔ حُسین مِنِی و انا مِن الحُسین ،( حُسین مُجھ سے ہین اور میںء ﷺ حُسین سے) کی حدیث پر خواجہ غریب نواز رح کی مشہُور رباعی کہ
شاہ است حُسین بادشاہ است حُسین۔
دین است حُسین دین پناہ است حُسین۔
سرداد نہ داد دست در دستِ یزید۔
حقّا کہ بِناءِ لآ الہ است حُسین۔
جو کہ مذکورہ حدیثِ پاک کا خُلاصہ ہے۔ موجود ہے۔
آپ ﷺ کا مُتواتر اِظہار کہ، جو اہلِ بیتِ اطہار ( جن میں آپﷺ خُود ، علی، فاطمہ، حسن و حسین ہین) سے محبت رکھتا ہے وہ مُجھ سے محبت رکھتا ہے، جو مُجھ سے محبّت رکھتا ہے وہ خُدا سے محبت رکھتا ہے۔ جو انکا دشمن ہے وہ میرا اور خدا کا دشمن ہے۔
مُختصر یہ کہ جنکا کلمہ پڑھا جارہا ہے اُن سے محبت اور اللہ سے محبت کا دارومدار محبّتِ اہل بیت (یعنی علی، فاطمہ، حسن و حُسین ) پر ہے۔ صحابہ کرام ان سے کیسی محبت فرماتے تھے تاریخِ اسلام اٹھا کر دیکھ لیجیے۔
بات طویل ہورہی ہے ، بتانا محض اس قدر ہے، گو کہ شریعت ، ماہِ محرم ہی کِیا، سال کے کِسی بھی دن شادی نہیں کرنا، ولیمہ نہیں کرنا، سالگرہ یا کوئ بھی از روےء شریعت کام کو روکا نہیں گیا۔۔
مگر :
بعد از وصالِ رسول اللہ ﷺ، شہادتِ حضرت علی کرم اللہ وجہ، شہادتِ حضرت امام حسن علیہ السلام ، اور خاص طور پر ماہِ محرم میں واقعہ شہادتِ سیّد الشہدا سیّدنا امام حُسین علیہ السلام رُونما ہُوا اور امامِ حسین علیہ السلام اور پاک و مطہر گھرانہء رسولِ خُدا ﷺ اور جانِثارانِ سید الشّہداء امام حسین علیہ السلام کو، کئ دِن تپتی دُھوپ میں بُھوکا پیاسا رکھ کر، میدانِ کربلا میں انتہائ بیدردی سے شہید کیا گیا، یہاں تک کہ ظالموں نے انکے چھ ۶ مہینے کے معصوم فرزند حضرت علی اصغر ع کے ساتھ تک کوئ رعایت نہیں کیا، انکے مقدس اجساد کو پامال کیا گیا، انکا سرِ مبارک نیزہ پر رکھ کر جلوس نکالا گیا، بچے ہوے گھرانہء رسول پاکﷺ کے پاکباز عورتوں اور بچوں پر ظلم ڈھایا گیا، انہیں قیدی بناکر رسّیوں اور لوہے کی زنجیروں میں گرفتار کیا گیا اور سرِ بازار رسوا کرنے کی کوششین کیا ۔۔ کہاں تک کہوں ۔۔
اِتنا سب ظلم و ستم کرنے والے بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے،اذان دیتے تھے، پابندِ نماز بھی تھے، خود کو محافطِ شریعت بھی کہتے تھے۔۔
یہ مُختصر سا مضمُون جو بھی پڑھے میرا اُن سے سوال ہے کہ کیا یہ دُشمنانِ اہلِ بیتِ اطہار جو کُھلے طور پر رسول خُدا کے اور اللہ کے احکام (جو کہ اہلِ بیتِ اطہار کے تعلق سے ہین، اُن پر عمل تو کُجا ، اُن احکام کا مذاق اڑایا؟ اہل بیت اطہار پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، کیا پھر بھی ہم ان کو مُسلمان کہیں گے؟
ہر گِز نہین۔ اولیاء اللہ میں سے کُچھ نے اُنہین مُنافقِین،اور کُچھ نے اُنہیں کافر کہا۔ ناطرینِ مضمون سے،
میرا دُوسرا سوال یہ ہے کہ، کِیا اُن لعینوں بد بختوں جو کہ خود کو مسلمان کہنے والے تھے دُشمنانِ اہلِ بیت تھے ( جو کہ بظاہر شریعت کے پابند تھے)۔۔
کیا اللہ رسولﷺ خُوش ہوُنگے؟
ہرگِز نہین۔اور جن سے رسول ناراض ان سے بلا شبہ خدا ناراض۔
چُونکہ مقدّس گھرانہء رسول اللہﷺ اور خاص طور پر آپ ﷺ کے راج دُلارے، آنکھوں کے تارے، دل کا چین، سیّدنا امام حُسین علیہ السلام اور انکے جانثاران ظلم و ستم سہتے ہوے محض دین اسلام کو بچانے کے لیےء اپنی جانیں اسی مہینے میں قربان کردیےء ، یہی بات و وجوہات ہین کہ بزرگوں نے اسِ ماہِ محرم میں انکی حرمت، انکے مصایب و شہادتوں (جِنکے غم میں خُود رسولِ خداﷺ بھی شامِل ہین) کو پیشِ نظر رکھ کر کوئ بھی خُوشی کا کام جیسے شادی، ولیمہ۔ سالگرہ، وغیرہ کرنے اور ان محافِل جشن میں شرکت کرنے سے سخت احتراز کیا اور بلا شُبہ اِسی میں اللہ رسولُ ﷺ کی خُوشنودی ہے۔
باوجُود اِن حقایق کے اگر کوئ جان بُوجھ کر اور آلِ رسول و اہلِ بیت کا بغض دل میں رکھ کر خُوشیاں مناتا ہے تو، کیا وہ اللہ رسولﷺ کو منھ بتانے کے قابل بھی رہے گا؟
مِرزا چِشتی صابری نِظامی۔
Comments
Post a Comment