اعلیٰ پولس آفیسر کا سنگھ پریم اور کانگریس کے دستوری سوال۔محمد مسلم کبیر، لاتور۔


اعلیٰ پولس آفیسر کا سنگھ پریم اور کانگریس کے دستوری سوال۔
محمد مسلم کبیر، لاتور۔
8208435414

ایک جمہوری اور آئینی نظام میں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کی غیر جانب داری ریاست کی بنیادی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستانی آئین کے تحت ہر آئی پی ایس افسر اپنے عہدے کا حلف لیتے وقت اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے گا، تمام شہریوں کے ساتھ مذہب، ذات، زبان یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مساوی سلوک کرے گا اور اپنی ذمہ داریاں مکمل غیر جانب داری سے ادا کرے گا۔ اسی لیے کسی بھی اعلیٰ پولیس افسر کے طرزِ عمل پر عوام کی نظر رہتی ہے۔
حال ہی میں مہاراشٹر کے سینئر آئی پی ایس افسر وشواس نانگرے پاٹل کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک پروگرام میں شرکت اور وہاں سنگھ، ہندوتوا اور ڈاکٹر ہیڈگیوار کی تعریف پر مبنی خطاب کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس نے ریاستی حکومت سے کئی آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔ بحث کا اصل محور کسی فرد کی شخصیت نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ایک حاضر سروس آئی پی ایس افسر کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس کی کھلے عام ستائش کر سکتا ہے یا نہیں۔
کانگریس نے سب سے پہلے All India Services (Conduct) Rules, 1968 کے Rule 13 کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا اس پروگرام میں شرکت کے لیے حکومت مہاراشٹر یا محکمۂ داخلہ سے پیشگی اجازت حاصل کی گئی تھی؟ اگر اجازت دی گئی تھی تو وہ کس قانونی بنیاد پر دی گئی اور کیا اس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی؟ اگر اجازت حاصل نہیں کی گئی تو کیا اس کی تحقیقات ہوں گی؟
دوسرا اہم سوال Rule 3(1) سے متعلق ہے، جس کے مطابق ہر سرکاری افسر پر لازم ہے کہ وہ ایسا کوئی طرزِ عمل اختیار نہ کرے جو اس کے منصب کے وقار کے منافی ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی خاص نظریاتی تنظیم کے اسٹیج پر جا کر اس کی تعریف کرنا ایک عام شہری کا حق ہو سکتا ہے، لیکن ایک حاضر سروس پولیس افسر کے لیے اس سے غیر جانب داری پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح Rule 3(1A)(ii) سرکاری افسروں کو Political Neutrality یعنی سیاسی غیر جانب داری برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ کانگریس کا استدلال ہے کہ اگر کوئی افسر ایک مخصوص نظریاتی یا سیاسی طور پر بااثر تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس کی تعریف کرتا ہے تو اس سے عوام کے ذہن میں اس کی غیر جانب داری کے بارے میں شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر کل کوئی دوسرا افسر کسی اور مذہبی یا سیاسی تنظیم کے حق میں اسی طرح تقریر کرے تو کیا حکومت کا رویہ بھی یکساں ہوگا؟
مزید یہ کہ Rule 3(2B) آئین کی بالادستی اور سرکاری افسر کی غیر جانبدار آئینی وابستگی پر زور دیتا ہے۔ اسی تناظر میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک ایسے افسر کی بنیادی وفاداری آئین سے ہونی چاہیے یا کسی مخصوص نظریاتی تنظیم سے؟
کانگریس نے Rule 3(2B)(vi) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی افسر کسی خاص نظریاتی تنظیم کے ساتھ کھلے عام قربت کا اظہار کرے تو عوام میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کے سرکاری فیصلے مستقبل میں کسی نظریاتی اثر سے آزاد نہیں رہیں گے۔
سب سے اہم سوال Rule 5(1) سے متعلق اٹھایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حاضر سروس افسر کسی ایسی تنظیم سے وابستہ نہیں ہو سکتا جو سیاست میں حصہ لیتی ہو۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہاں صرف باقاعدہ رکنیت کا سوال نہیں بلکہ "Associated with" یعنی وابستگی کی نوعیت بھی اہم ہے۔ اسی لیے حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آیا اس قسم کی عوامی شرکت اور تعریف اس ضابطے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔
یہ تمام سوالات اب براہِ راست ریاستی وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس کی طرف متوجہ کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے واضح مؤقف اختیار کرے، اگر کوئی اجازت دی گئی ہے تو اسے منظر عام پر لایا جائے، اور اگر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب اس معاملے میں یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف کسی ضابطے کی خلاف ورزی کا تعین مجاز حکام کی جانچ اور متعلقہ حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ محض عوامی یا سیاسی اعتراضات بذاتِ خود قانونی خلاف ورزی ثابت نہیں کرتے۔ اسی لیے اس معاملے میں حتمی نتیجہ کسی باقاعدہ سرکاری جانچ یا قانونی تشریح کے بعد ہی سامنے آ سکتا ہے۔
ہندوستان میں ایک آئی پی ایس افسر کسی جماعت، تنظیم یا نظریے کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ آئینِ ہند کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کی وفاداری کسی سیاسی یا نظریاتی تنظیم کے ساتھ نہیں بلکہ صرف اور صرف آئین کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی حاضر سروس پولیس افسر کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اس کے افکار کی تعریف کرتا ہے تو سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔
اگر ایک پولیس افسر سنگھ کے پروگرام میں جا کر اس کی تعریف کرے تو کیا یہی حق ملک کے ہر دوسرے نظریاتی، مذہبی یا سیاسی گروہ کے لیے بھی تسلیم کیا جائے گا؟ اگر کل کوئی دوسرا افسر کسی اور تنظیم کے پلیٹ فارم پر جا کر اسی انداز میں اظہارِ عقیدت کرے تو کیا حکومت اس پر بھی خاموش رہے گی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یکساں معیار کہاں ہے؟
آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز 1968 واضح طور پر سرکاری افسران کو سیاسی غیر جانب داری اختیار کرنے کا پابند بناتے ہیں۔ یہی قواعد افسران کو ایسے طرزِ عمل سے بھی روکتے ہیں جس سے ان کی غیر جانبداری مشکوک ہو۔ ایسے میں عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ مذکورہ پروگرام میں شرکت کے لیے سرکاری اجازت لی گئی تھی یا نہیں، اور اگر لی گئی تھی تو کس بنیاد پر دی گئی تھی؟
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو عوامی اعتماد ہے۔ ایک عام شہری پولیس افسر کے پاس اس یقین کے ساتھ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ مذہب، ذات، زبان یا نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ لیکن جب ایک اعلیٰ افسر کسی مخصوص نظریاتی پلیٹ فارم سے وابستگی کا تاثر دیتا ہے تو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
یہاں اصل سوال سنگھ یا کسی اور تنظیم کی حمایت یا مخالفت کا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک حاضر سروس پولیس افسر کو اپنے آئینی منصب سے بالاتر ہو کر کسی مخصوص نظریے کی مدح سرائی کرنی چاہیے؟ کیا ریاستی اداروں کے ذمہ دار افسران کو اپنی غیر جانب داری صرف عمل میں ہی نہیں بلکہ اپنے عوامی رویّے میں بھی ثابت نہیں کرنی چاہیے؟
جمہوریت میں شخصیات نہیں بلکہ ادارے اہم ہوتے ہیں، اور اداروں کی طاقت آئین سے آتی ہے۔ اس لیے یہ سوال آج بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز افسر کی اولین وفاداری آئینِ ہند کے ساتھ ہونی چاہیے یا کسی نظریاتی تنظیم کے ساتھ؟
اس پورے تنازعے کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں آئین سب سے بالاتر ہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ریاستی ادارے نہ صرف غیر جانب دار ہوں بلکہ ان کا طرزِ عمل بھی عوام میں اسی غیر جانب داری کا یقین پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر اٹھنے والے سوالات صرف ایک افسر تک محدود نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کی ساکھ، پولیس کی غیر جانب داری اور آئینی اقدار سے متعلق سمجھے جا رہے ہیں۔

محمد مسلم کبیر، لاتور۔
 8208435414

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔