یومِ عالمی ماحولیات: زمین کی پکار اور ہماری ذمہ داری ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج،دھارواڑ،کرناٹک.


 5 جون کو دنیا بھر میں یومِ عالمی ماحولیات منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک عالمی تقریب نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور فطرت کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آج جب زمین ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے.ماحولیات کا تحفظ ہماری بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔
قدرت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ سرسبز جنگلات، بہتے دریا، بلند پہاڑ، مہکتے پھول اور چہچہاتے پرندے نہ صرف زمین کی خوبصورتی کا مظہر ہیں بلکہ حیاتِ انسانی کے تسلسل کے ضامن بھی ہیں۔ افسوس کہ ترقی کے نام پر انسان نے فطرت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صنعتی آلودگی، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال اور قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ مصرف زمین کے حسن اور صحت دونوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
اردو شاعری میں بھی فطرت اور ماحول سے محبت کا گہرا شعور ملتا ہے۔ شاعر میرتقی میرؔ فطرت کے حسن کو یوں بیان کرتے ہیں :
پتہ پتہ ، بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
ایک اور معروف شعر ہے:
ہوا کے دوش پہ خوشبو کا سفر جاری رہے
زمین سبز ر ہے اور شجر جا ر ی ر ہے
درخت زندگی کی علامت ہیں۔ ایک درخت صرف سایہ ہی نہیں دیتا بلکہ آکسیجن، بارش اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اس لیے ہر فرد کو چاہیے کہ کم از کم ایک درخت ضرور لگائے۔شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے مٹی کی زرخیزی اور امیدِ نو کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا تھا :
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے سا قی
یہ شعر ہمیں امید دلاتا ہے کہ اگر ہم سنجیدگی سے کوشش کریں تو ماحول کو درپیش خطرات کا تدارک ممکن ہے۔
ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا فرض ہے۔ ایک درخت لگانا، پانی کے ضیاع سے بچنا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا، کچرے کو مناسب طریقےسے جمع کرنے کاذمہ دارانہ انتظام کرنا اور اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھنا ایسے اقدامات ہیں جو اجتماعی طور پر بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
یومِ عالمی ماحولیات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین ہمارے آباءواجداد کی میراث نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ اگر ہم آج اس امانت کی حفاظت نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو ازسرِنو استوار کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کے معاون ہوں، مخالف نہیں۔
آئیے اس عہد کے ساتھ یومِ عالمی ماحولیات منائیں کہ ہم زمین کو سرسبز، صاف اور محفوظ بنانے میں اپنا حصہ ضرور ادا کریں گے، کیونکہ یہی ہماری بقا، ہماری خوش حالی اور ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔
"درخت لگائیں، ماحول بچائیں، مستقبل سنواریں۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔