منظم مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت۔۔ از قلم : ہاشم تماپوری۔


منظم مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت۔
از قلم : ہاشم تماپوری۔
7760914168

تعلیم اک ایسا زیور ہے جس سے قوموں میں انقلاب پیدا کیا جاسکتا ہے ۔تعلیم ہی سے انسان اپنی زندگی و آخرت دونوں سنوار سکتا ہے تعلیم یافتہ شخص سماج ومعاشرے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کی ابتداء اقرأ سے کی جس کے معنیٰ پڑھو کے ہوتے ہیں

جس طرح ہمیں زندگی گزارنے کے لیے دنیاوی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے اور اک حد تک انسان عصری علوم کو حاصل کرنے میں کامیاب بھی نظر آتا ہے اچھی بات ہے دنیا میں ہمارے بچے کامیاب ہوجائیں گے بہتر زندگی گزار سکیں گے اور روشن مستقبل ہوگا لیکن جب بات دینی تعلیم پر آتی ہے تو والدین بڑے آسانی سے اللہ بڑا غفور الرحیم ہے کہہ کر ٹال دیتے ہیں اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بچوں کی اسلامی تربیت اور آخرت والی زندگی کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں جبکہ عقبیٰ کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی ہے ۔

جبکہ احادیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے
 
سماج معاشرہ ایسے ہی نہیں بدلتے اصلاح کی شروعات خود سے کرنی پڑتی اپنے گھر سے محلہ سے کرنی ہوگی اپنے محلہ کی مسجد کو مرکز بنایا جائے مسجد کی کمیٹیاں مکاتبِ فکر حضرات ملکر علماء اکرام کی سرپرستی میں
منظم مکاتب کا جال بچھانا چاہیے اور یہ کام سب کو ملکر مشن کے تحت کام کرنا ہوگا جو وقت کا شدید تقاضہ بھی ہے ۔

  دورِحاضر میں جیسے حالات ہم پر صادر ہورہے ہیں اس سے ہمارے عقیدے اور آنے والے نسل کی ایمان کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ۔شہر ہو یا پھر دیہات حالات کہنے جیسے نہیں ‌ہے ہماری بچیاں مرتد ہورہی ہے ۔

محلہ کی مسجد کو مرکز بنا کر ہی معاشرے کے دینی تقاضے کو پورا کیا جاسکتا ہے مساجد سے بچوں کا جڑاؤ بڑھانے کے لئے اصلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے ہوئے بچوں کی اسلامی تربیت کرنی چاہیے جس سے بچے بھی راہِ حق کی طرف گامزن ہوتے ہوئے گھر کے ماحول میں بھی گہرا اثر و رسوخ چھوڑ سکتے ہیں ۔ کہنے کو یہ معمولی بات لگتی جب یہی بچے بگڑنے لگے تو ماں باپ کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں ۔

اس سے پہلے کہ بچے ہاتھ سے نکل جاںٔے ہمیں اِن بچوں کا ہاتھ تھام کر ان کے دینی تعلیم وتربیت کی فکر کرنی چاہیے ۔ بگڑتے معاشرے میں حالات کی سنگینی سے سبق لیتے ہو سنجیدہ طور پر ہمیں محنت کرنی کی ضرورت ہے ۔ بے شک دنیا دار الاسباب ہے دنیا میں جینا تو ہے لیکن قرآن وحدیث پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے احکام مانتے ہوئے اور نبی کی اطاعت کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے تب ہی ہماری دنیا و آخرت کی زندگی کامیاب بن سکتی ہے۔ کںٔی اک معاملات ہمارے سامنے معاشرے کی منہ بولتی تصویر کو اُجاگر کرتے ہیں‌۔ جس سے حالات کس حد تک خراب ہوچکے ہیں اس بات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بات بچے کی عصری تعلیم کی آجائے تو انسان سرگرم دکھائی دیتا اور جب بات دینی تعلیم پر آجائے تو کاہلی اور سستی سے کام لیتا ہے جس سے ہمارے بچوں کی دینی و عصری تعلیم میں کھلا فرق نظر آرہا ہے ۔ جس سے نتیجتاً بچے نہ عبادت صحیح سے کرپاتے ہیں نہ ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات جان پاتے ہیں نہ ہی حضور صلی االلہ علیہ وسلم کے تعلیمات سمجھ پاتے ہیں آج ہمیں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنا اور سیکھنا آسان فرمائے اور دین کی اہمیت ہمارے دلوں میں اجاگر فرمائے ۔ آمین 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔