سعودی عرب کے 65 فیصد بچے نامناسب ڈیجیٹل مواد تک رسائی رکھتے ہیں - سروے۔
کے این واصف : نو عمر بچوں کا سوشیل میڈیا کے مختلف پلاٹ فاومس سے رابطہ اب ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔ اسلامی مملکت سعودی عرب بھی اس بچا نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں کچھ عرصہ قبل ایک سروے بھی منعقد کیا گیا تھا۔ شاہ خالد فاؤنڈیشن کے تعاون سے جاری ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مملکت سعودی عرب میں 15 برس سے کم عمر 65 فیصد بچے اپنی عمر سے مناسبت نہ رکھنے والے ڈیجیٹل مواد تک رسائی رکھتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس سعودی سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ کی جانب سے ایک سروے منعقد کیا گیا جس میں سعودی معاشرے کے حوالے سے سوالات ترتیب دیئے گئے، سروے کی معاونت شاہ خالد فاؤنڈیشن، صالح کامل ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن اور المھیدب فاؤنڈیشن فار کمیونٹی سروس نے مشترکہ طور پر کی ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق آن لائن گیمز کھیلنے والے بچوں کو مختلف عمروں کے افراد سے رابطے، نامناسب زبان اور ایسے موضوعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی ذہنی نشوونما کے لیے موزوں نہیں۔
تحقیق میں مزید کہا گیا کہ بعض والدین اپنے بچوں کے لیے ڈیجیٹل دوستوں کے تصور کو قبول کرنے لگے ہیں اور ان کی انٹرنیٹ پر ہونے والی دوستیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی اسکولز میں دین، قرآن کی تعلیم لازمی ہے اور بچون اور بڑون میں مذہبی احکام کی پابندی خصوصاٗ صوم و صلاۃ کی پابندی بھی عام نظر آتی ہے۔
Comments
Post a Comment