معروف شاعر، افسانہ نگار اور تاریخ نویس کی تیسری کتاب منظرِ عام پر آگئی - حضرت راجی نور شاہؒ المعروف شاہ نور باباؒ اور خانوادۂ میراں پٹیل شاہ نوری کے 550 سالہ شجرۂ نسب پر مبنی تحقیقی کتاب کا رسمِ اجراء۔
معروف شاعر، افسانہ نگار اور تاریخ نویس کی تیسری کتاب منظرِ عام پر آگئی -
حضرت راجی نور شاہؒ المعروف شاہ نور باباؒ اور خانوادۂ میراں پٹیل شاہ نوری کے 550 سالہ شجرۂ نسب پر مبنی تحقیقی کتاب کا رسمِ اجراء۔
کروشی (ضلع بلگام، کرناٹک)، 14 جون 2026: ضلع بلگام کے تاریخی گاؤں کروشی میں بروز اتوار ایک باوقار علمی و ادبی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں معروف شاعر، افسانہ نگار اور تاریخ نویس آفتاب عالم شاہ نوری کی تیسری تصنیف، جو حضرت راجی نور شاہؒ المعروف شاہ نور باباؒ اور خانوادۂ میراں پٹیل شاہ نوری کے تقریباً 550 سالہ شجرۂ نسب، خاندانی تاریخ اور تاریخی معلومات پر مشتمل ہے، کی رسمِ اجراء انجام پائی۔تقریب میں علاقے کی ممتاز علمی، ادبی، سماجی اور دینی شخصیات نے شرکت کی اور اس اہم علمی و تحقیقی کاوش کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کی صدارت کروشی کی معروف سماجی و تعلیمی شخصیت، استادِ شاعر محبوب پاشا حیدر صاحب پٹیل شاہ نوری نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں جناب محمد حیات چاند پٹیل، اقبال پٹیل، فاروق پٹیل، شہاب الدین پٹیل، عبدالستار پٹیل، ایم۔ ایچ۔ پٹیل، حیدر پٹیل، عبداللطیف پٹیل، عرفان پٹیل شاہ نوری، ابا صاحب پٹیل، محمد زبیر پٹیل، جہانگیر پٹیل، ماجد پٹیل، محمد صدیق پٹیل، شاہد حسین پٹیل، توصیف حسین پٹیل، اسدالزماں پٹیل، ندیم احمد پٹیل اور عدیم احمد پٹیل شامل تھے۔ اس کے علاوہ معروف افسانہ نگار چراغ ہبلوی اور مولانا آصف انعامی نے بھی شرکت فرما کر تقریب کو رونق بخشی۔پروگرام کی نظامت عدیم احمد پٹیل نے انجام دی، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولانا محمد حیات پٹیل نے حاصل کی۔ ان کی پُرسوز قراءت نے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔ بعد ازاں معروف شاعر شاہد پٹیل شاہ نوری نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جسے حاضرین نے نہایت عقیدت سے سنا۔مہمانانِ گرامی کے استقبال اور گل پیشی کی رسم آفتاب عالم شاہ نوری نے انجام دی۔ اس کے فوراً بعد کتاب کی رسمِ اجراء عمل میں آئی، جس میں تمام مہمانانِ خصوصی نے شرکت کی۔رسمِ اجراء کے بعد شاہد پٹیل شاہ نوری نے کتاب پر ایک جامع اور تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ مقالہ اس قدر معلوماتی اور مؤثر تھا کہ حاضرین کے اذہان گویا ساڑھے پانچ سو برس ماضی کی تاریخ میں پہنچ گئے۔
تقاریر کے سلسلے میں سب سے پہلے عالمِ شہرت یافتہ شاعر عرفان پٹیل شاہ نوری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے صاحبِ کتاب کی محنت کو سراہا اور شجرۂ نسب کی تدوین و تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد شہاب الدین پٹیل نے، علیل ہونے کے باوجود، تقریب میں شرکت کی اور تاریخ دانی کی اہمیت کے ساتھ اولیائے کرام کی اولاد ہونے کی ذمہ داریوں پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اولیائے کرام کی اولاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور دینی و دنیوی دونوں میدانوں میں ترقی کی منازل طے کریں۔ انہوں نے آفتاب عالم شاہ نوری کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔بعد ازاں دھارواڑ سے تشریف لائے معروف افسانہ نگار چراغ ہبلوی نے علمی و ادبی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کتاب اور مصنف دونوں کی بھرپور پذیرائی کی۔گاؤں کے استاذ الاساتذہ محمد حیات چاند پٹیل نے اپنے خطاب میں ماضی کے ساتھ ساتھ مستقبل کی طرف توجہ دینے، اپنے کردار کو سنوارنے اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے کتاب کی افادیت، تاریخی اہمیت اور اس میں جمع کردہ نادر معلومات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں خاندانی تاریخ، شجرۂ نسب اور مقامی تاریخی ورثے کو محفوظ کرنا ایک عظیم علمی خدمت ہے، جس کے ذریعے نئی نسل اپنی شناخت، تہذیب اور بزرگوں کی خدمات سے آگاہ ہوتی ہے۔
حاضرینِ محفل نے کتاب کے مندرجات کو سراہتے ہوئے مصنف کو مبارک باد پیش کی اور اس علمی کاوش کو علاقے کی تاریخ کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔شرکائے مجلس نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ کتاب میں نہ صرف حضرت راجی نور شاہؒ کی شخصیت، خدمات اور روحانی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ کروشی گاؤں کی تاریخی جھلکیاں اور تقریباً 550 سالہ شجرۂ نسب بھی منظم اور تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو علمی و تحقیقی میدان میں ایک اہم اضافہ ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں محبوب پاشا حیدر صاحب پٹیل شاہ نوری نے مصنف کی علمی محنت، تاریخی شعور اور خاندانی ورثے کے تحفظ کی اس قابلِ قدر کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تصانیف آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں اور اپنے ماضی سے وابستگی کو مضبوط بناتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مصنف آفتاب عالم شاہ نوری نے تمام مہمانوں، معاونین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تصنیف کا مقصد اپنے اسلاف کی یادگار خدمات کو محفوظ کرنا اور نئی نسل کو اپنی تاریخ اور تہذیبی ورثے سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب اہلِ علم، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
دعائیہ کلمات اور نیک تمناؤں کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی، جبکہ شرکائے محفل نے مصنف کی مزید علمی، ادبی اور تحقیقی کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
8105493349
Comments
Post a Comment