میرٹھ فسادمیں بشیربدرکی تمام کتابیں نذرآتش کی گئیں۔ وشال بھاردواج کو ان میں سے 4500 اشعار ازبر تھے جو انہوں نے بشیر بدر کو لکھ دیے : ہیم کرن پتکی - سولاپوراُردو گھرمیں "محفلِ یادِ بشیر بدر" کے تحت بشیربدرکی نظموں اور غزلوں کو پڑھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کی گئی۔


میرٹھ فسادمیں بشیربدرکی تمام کتابیں نذرآتش کی گئیں۔ وشال بھاردواج کو ان میں سے  4500 اشعار ازبر تھے جو انہوں نے بشیر بدر کو لکھ دیے   :   ہیم کرن پتکی -  

سولاپوراُردو گھرمیں   "محفلِ یادِ بشیر بدر"  کے تحت  بشیربدرکی  نظموں اور غزلوں کو پڑھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کی گئی۔

سولاپور (اقبال باغبان ) میرٹھ فسادمیں بشیربدرکی تمام کتابیں نذرآتش کی گئیں۔ وشال بھاردواج کو ان میں سے  4500 اشعار ازبر تھے جو انہوں نے بشیر بدر کو لکھ دیے ۔جہاں فرقہ پرستوں نے شر و نفاق کا مظاہرہ کیا وہیں وشال بھاردواج نے قومی یکجہتی اور انسان دوستی کی مثال قائم کی۔ ان خیالات کا اظہارسولاپورکے مراٹھی کے قداور شاعر، نقاد اور صحافی ہیم کرن پتکی نے سولاپوراردو گھر میں منعقد محفل ِ یادِ بشیر بدرمیں اپنی صدرارتی تقریر میں کیا۔ انہوں نے بشیر بدر کی ادبی شخصیت اور فکری جہات پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ  :  ان کا کلام زندگی کی سچائیوں، محبت کے لطیف جذبات اور سماجی شعور کا آئینہ دار ہے۔ ان کا ادبی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔

سولاپور اردو گھر، مہاراشٹر کے زیرِ اہتمام بروز سنیچر، 13 جون 2026 کو شام پانچ بجے  دورِ حاضرکےعظیم و عہد ساز شاعربشیر بدر کی یاد میں یادِ بشیر بدر کے تحت ان کی  "نظم وغزل خوانی" کی شاندارادبی و تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ رکنِ اردو گھر محترم عبدالمجید شیخ  تلاوت کلام ِ پاک سے اس تقریب کی ابتداءکی۔ بعدازاں رکن اردو گھرپروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوپدار نے سولاپور اردو گھر کا مختصر و جامع تعارف پیش کرتے ہوئے ادارے کی ادبی، تعلیمی اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ  28 اور 29 جون کو بشیر بدر کی یاد میں دو روزہ بین الاقوامی آن لائن سیمینار منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سیمینار کے لیےملک وبیرون ملک سے اب تک 91 مقالے اندارج ہوئے ہیں۔

تقریب کا تعارف رکن اردوگھر ڈاکٹر ہارون  رشیدباغبان نے پیش کیا، جبکہ صدرِ جلسہ محترم ہیم کرن پتکی صاحب کا تعارف ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے کیا۔ صدرِ جلسہ کی گلپوشی کارگزارناظم  اردو گھرو  ناظمِ کتب محترم ساحرنداف کے دست مبارک سے کی گئی۔ مہمانِ خصوصی  حاجی کے۔بی۔ نداف کی گلپوشی رکن اردو گھر ڈاکٹر آصف اقبال نے کی۔

محفلِ غزل خوانی  میں سولاپور اردو گھر کی  غیر اردو دان کے لیے لی جانے والی اردو کلاس کے طلبہ اور دیگر حاضرین نے عظیم شاعر بشیر بدر کے منتخب کلام کو نہایت دل نشیں انداز میں پیش کیا۔ ، محترم ہیمنت کلکرنی، محترم دھننجے گوڑبولے، محترمہ ریشماں جمعدار ، ڈاکٹر آصف اقبال، محترم عبدالمجید شیخ اور رکن اردو گھرمہا گایک محمد ایاز نے بشیر بدر کے منتخب اشعار سنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کی۔ اس طرح بشیر بدر کی فکروفن کی خوشبو سے معطر یہ محفل دیر تک حاضرین کے دل و دماغ کو معطر کرتی رہی۔

 ڈاکٹر محمد شفیع چوپدار نے رسمِ شکریہ ادا کیا اور رکن اردو ڈاکٹر سمیہ باغبان نے نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دے کر تقریب کو یادگار بنا دیا۔یہ محفل نہ صرف بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کے لیے ایک یادگار اور روح پرور ادبی اجتماع ثابت ہوئی۔


       اس با وقار تقریب ، راجا راجیش چندر، راجا باغبان، متین ولسنگکر، کریم شیخ، اسحاق باٹگھر، بشیر باغبان، سہیل شیخ، ڈراما آرٹسٹ اختر شیخ اور عاشقان بشیر بدرنے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ 









 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔