انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڈپہ کے اردو خدمات قابل تحسین....40 روزہ سمر کورس آؤ اردو سیکھیں کا کامیاب اختامی اجلاس۔
انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڈپہ کے اردو خدمات قابل تحسین....
40 روزہ سمر کورس آؤ اردو سیکھیں کا کامیاب اختامی اجلاس۔
ڈاکٹر انور ہادی جنیدی ،کڈپہ۔
زبانوں کی قسمت کا فیصلہ عمارتیں، بینر اور تصویری تقریبات نہیں کرتیں، بلکہ وہ خاموش محنت کرتی ہے جو نسلوں کے ذہنوں میں علم کے چراغ روشن کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ادارہ محدود وسائل کے باوجود زبان کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھاتا ہے تو اس کی کاوش محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک مثال بن جاتی ہے.
کڈپہ کی قدیم اور فعال ادبی تنظیم انجمن ترقی اردو نے حال ہی میں آؤ اردو سیکھیں کے عنوان سے چالیس روزہ سمر کورس منعقد کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اردو کے فروغ کے لیے اخلاص اور منصوبہ بندی درکار ہے، نہ کہ محض نمائشی سرگرمیاں.اس کورس کے اختتام پر جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر سنجیدگی ہو تو محدود وسائل بھی بڑے مقاصد کی طرف لے جاتے ہیں.. انجمن کے صدر جناب ستار فیضی کے مطابق اس کورس کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ جماعتیں قائم کی گئیں، اردو اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا گیااور ان کے اعزازئے کا انتظام بھی انجمن نے اپنی جانب سے کیا. مجموعی طور پر بارہ ہزار روپے خرچ کرکے انجمن نے جو کام انجام دیا ہے اسے زبان کی حقیقی خدمت کہا جاسکتا ہے. یہ رقم بظاہر معمولی سہی، مگر اس کے پس منظر میں موجود جذبہ اور مقصد بے حد اہم ہے. زبانوں کی تاریخ میں ایسے ہی چھوٹے اقدامات بڑے نقوش چھوڑتے ہیں.
ریاست آندھرا پردیش میں اردو سمر کورس کے نام پر مختلف سرگرمیوں کی خبریں سامنے آئیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کڈپہ کا یہ پروگرام اپنے نتائج اور افادیت کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتا ہے. یہاں بچوں نے اردو رسم الخط سے واقفیت حاصل کی، بنیادی خواندگی سیکھی اور اپنی زبان اور تہذیب سے ایک نیا رشتہ استوار کیا. یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے ایسے پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں. دوسری جانب اردو اکادمی آندھرا پردیش کی حالیہ سرگرمیوں نے اردو حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے. ماضی میں سمر کورس کے لیے اردو انسٹرکٹرز مقرر کیے جاتے تھے، انہیں اعزازیہ دیا جاتا تھا اور تدریسی عمل کو باقاعدہ نگرانی کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا تھا. اس مرتبہ معاملہ زیادہ تر کتابچوں کی تقسیم تک محدود دکھائی دیا. سوال یہ ہے کہ کیا زبانوں کی ترویج صرف کتابچے بانٹ دینے سے ممکن ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو شاید دنیا کی کوئی بھی زبان زوال کا شکار نہ ہوتی. اردو کے فروغ کا تعلق براہ راست تعلیم، تدریس اور مطالعے سے ہے. زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اساتذہ درکار ہوتے ہیں، طلبہ درکار ہوتے ہیں اور وہ ادارے درکار ہوتے ہیں جو ان دونوں کے درمیان علمی رشتہ قائم کریں. محض رسمی کارروائیاں نہ تو نئی نسل کو اردو سے جوڑ سکتی ہیں اور نہ ہی زبان کے مستقبل کو محفوظ کر سکتی ہیں. اردو اکادمی کی جانب سے تقسیم کیے گئے سرٹیفکیٹس پر بھی اہل اردو نے حیرت کا اظہار کیا ہے. سرٹیفکیٹ کسی بھی طالب علم کی محنت کا اعتراف ہوتا ہے، اس کی یادگار دستاویز ہوتی ہے، مگر جب وہ اپنی ہیئت میں اشتہار کا گمان دلانے لگے تو اس کی وقعت متاثر ہوتی ہے.ایک باوقار ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہر اقدام میں معیار، وقار اور سنجیدگی کو ملحوظ رکھے.
اہل اردو کے ذہنوں میں آج ایک بنیادی سوال گردش کررہا ہے کہ آیا یہ تمام سرگرمیاں واقعی اردو کے فروغ کے لیے ہیں یا محض سرکاری فائلوں میں کارکردگی کا اندراج کرنے کے لیے؟ یہ سوال اس وقت تک باقی رہے گا جب تک زبان کے لیے دیرپا منصوبے سامنے نہیں آتے۔ اردو کو کتابچوں سے زیادہ کتابوں کی ضرورت ہے، تصویروں سے زیادہ اساتذہ کی ضرورت ہے اور تقریبات سے زیادہ تعلیمی مراکز کی ضرورت ہے.ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اکادمی ریاست بھر کے ادباء، شعراء، اساتذہ، صحافیوں اور دانشوروں کو اعتماد میں لے کر ایک جامع حکمت عملی مرتب کرے. اردو آنگن واڑی مراکز، اسکولی لائبریریاں، ادبی انجمنوں کی سرپرستی، معیاری کتابوں کی اشاعت اور اردو اساتذہ کی تربیت جیسے منصوبے وقت کی پکار ہیں...
کڈپہ کی انجمن ترقی اردو نے اپنے محدود وسائل کے باوجود ایک مثال قائم کی ہے. یہ مثال اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زبانوں کی خدمت بجٹ کی فراوانی سے نہیں بلکہ عزم کی دولت سے ہوتی ہے. امید ہے کہ یہ پیغام ان اداروں تک بھی پہنچے گا جن کے پاس وسائل تو بہت ہیں مگر جن کے اقدامات کے اثرات ابھی تک زمین پر دکھائی نہیں دیتے...
Comments
Post a Comment