یکم جنوری کو یومِ 371 (جے) اتسو کا فیصلہ - گلبرگہ یونیورسٹی کو ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عمل آوری کی توجہ - بسواراج دیشمکھ، لکشمن دستی، ششیل نموشی، بی جی پاٹل، اسد علی انصاری، ڈاکٹر ماجد داغی و دیگر کا خطاب۔
کلبرگی 14 / جون. آرٹیکل 371 (جے) کی منظوری ایک تاریخی دن ہے، جو دہائیوں کی مسلسل جدوجہد اور مضبوط، منظم اور ایک کامیاب و موثر نمائندگی کا خوشگوار نتیجہ ہے۔ جسے ایک یادگار دن "371 (جے) اتسو" کے طور پر ہر سال یکم جنوری کو کلیان کرناٹک کے سات اضلاع میں جشن منانا طے پایا ۔ یہ فیصلہ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے اعزازی صدر بسواراج دیشمکھ کی صدارت میں تعلیمی اداروں کے سربراہان، پرنسپلز، ماہرینِ تعلیم، دانشوران اور ممتاز شخصیات کی موجودگی میں ایس بی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اتفاق آراء سے لیا گیا ۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر لکشمن دستی نے کہا کہ آرٹیکل 371 (جے) کے نفاذ کا دن نہ صرف تاریخی ہے بلکہ کلیان کرناٹک علاقے کے بے روزگار طلباء کے روشن مستقبل کے لئے مراعات کے ایک اہم اعلان کا دن بھی ہے۔ چونکہ صدر جمہوریہ نے اس علاقے کے لئے خصوصی مراعات پر اپنے دستخط کئے تھے ۔ اس لیے اسے ہر سال یکم جنوری کو منانے کی تجویز دی گئی تھی۔ رکن قانون ساز کونسل ششیل جی۔ نموشی نے کہاکہ ہم آرٹیکل 371 (جے) کے مؤثر نفاذ کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کلیان کرناٹک اتسوا ڈے کی تقریب خطے میں آگاہی کی علامت ہے اور اس سے پہلے کمیٹی نے آرٹیکل 371 (جے) کی کامیابیوں اور امنگوں پر سیمینارز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رکن قانون ساز کونسل بی جی۔ پٹیل نے کہا کہ اس خصوص میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہر یونیورسٹی اور کالج میں سیمینارز منعقد کرنی چاہیے ۔ جناب اسد علی انصاری صدر القمر کالج آف نرسنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 371 (جے) کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کالجوں میں داخلوں کے ساتھ ساتھ ملازمتوں میں حاصل تحفظات سے استفادہ کو یقینی بنانا بھی لازمی ہے ۔ ڈاکٹر ماجد داغی نائب صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے گلبرگہ یونیورسٹی کی حالتِ زار پر روشنی ڈالتے ہوئے گلبرگہ یونیورسٹی کے انتہائی سنگین مالی بحران اور کئی طرح کی بےقاعدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس علاقے کی منتخبہ نمائندوں پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے اپروڈ پوسٹ پر کلیان کرناٹک کے اہل اساتذہ کی خدمات کو ریگولر کئے جانے ہائی کورٹ کے فیصلوں کے باوجود ہنوز انہیں ریگولر نہیں کیا گیا جو 371 (جے) کے تحت حاصل ملازمتوں میں مراعات کے حصول میں اس علاقے کے قائدین کی مجرمان غفلت اور مایوس کن رویہ ہے انہوں نے قائدین کو ہائی کورٹ کے احکامات پر بعجلتِ ممکنہ عمل آوری کے موثر اقدامات پر توجہ دلائی تاکہ 371 (جے) کے دستوری جواز کے ساتھ ساتھ مذکورہ تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذۂے کرام کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں حد درجہ تاخیر و کوتاہی کی وجہ توہینِ عدالت پر بھی یونیورسٹی کی خموشی کو معنی خیز بتایا ۔ جناب قاضی رضوان الرحمن مشہود نے اجلاس کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف محکموں کی تمام تر سرگرمیوں کی روئداد کو اردو زبان میں بھی شائع کیا جانا چاہئے ۔ اس موقع پر پروفیسر بسواراج کمنور، پروفیسر آر کے ہوڑگی، پروفیسر منظور احمد دکنی شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی ، ڈاکٹر ثناء اللہ پرنسپال لقمان کاج آف فارمیسی ، جناب عبدالحمید صدر فاران ایجوکیشن ٹرسٹ، ریٹائرڈ وائس چانسلر پرتاپ سنگھ تیواری ، جناب سید راؤف قادری صدر کل ہند اردو منچ ، سینٹ میری ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کے سربراہ ، کے کے سی سی کے صدر شرنو ، کیلاش ناتھ دکشت اور کالجوں کے پرنسپلز، اساتذہ، ماہرین، اور مختلف شعبوں کے سینکڑوں معززین نے شرکت کی۔
Comments
Post a Comment