ممتاز مؤرخ ثروت صولت - (29/ویں برسی پر) محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک۔


ممتاز مؤرخ ثروت صولت - 
(29/ویں برسی پر) 
محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک۔

26/جون 1997؁ئ کو ممتاز مؤرخ جناب ثروت صولت اس دارِ فانی سے دارالبقاکوچ کرگئے۔ آج26/جون ہے لہٰذا جناب ثروت صولت صاحب کی 29/ویں برسی ہے۔ثروت صولت دراصل اپنی کتاب ’’ملت ِ اسلامیہ کی مختصر تارےخ ‘‘ اول دوم سے مشہور ہیں۔ اور کم ازکم میرے نزدیک وہ اسی کتاب سے جانے جاتے ہیں ۔حالانکہ اس کتاب کے مزید کئی حصے شائع ہوچکے ہیں۔  
اگست 1976؁ئ کو ماہنامہ ’’ترجمان القرآن ‘‘ لاہور میںثروت صولت کاایک مضمون ’’بدیع الزماں سعید نورسی کاکردار عالمگیر جنگ ِ اوّل میں ‘‘ عنوان سے شائع ہواتھا۔ اس کے بعدوالے ماہ یعنی ستمبر 1976؁ئ کو ان ہی کا ایک اور مضمون ’’ترکی کی تحریک آزادی اور سعید نُورسی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعدازاں ’’بدیع الزماں سعید نورسی ‘‘ کے عنوان سے 283صفحات کی ایک کتاب منظر ِ عام پر آئی۔ جس کا ناشر ادارہ معارف اسلامی کراچی تھا۔  
جناب ثروت صولت نے ’’عثمانی ترکوں کی بحریہ‘‘ عنوان سے لکھے اپنے ایک مضمون میں دلچسپ واقعات پےش کرتے ہیں اور تارےخ کبھی کبھی تو دلچسپ ترین واقعات کا دلچسپ ڈرامہ نظر آتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں ’’سلیمان اعظم کے بعد 1571ئ میں لیپانٹو کے مقام پر عثمانی بیڑے کو یورپ کے متحدہ بیڑے کے مقابلے میں جو اسپین، وینس اور مالٹا کے بیڑوں پر مشتمل تھا بڑی تباہ کن شکست ہوئی جس میں چالیس جہازوں کو چھوڑ کر جن کو امیر البحر اولوج پاشا بمشکل بچا سکا پورا عثمانی بیڑہ تباہ ہو گیا۔ لیکن اس شکست سے قبل ترک قبرص کا جزیرہ وینس سے چھین چکے تھے۔ لیپانٹو کی شکست کے بعد وینس کا سفیر لیپانٹو کی شکست کے اثرات معلوم کرنے کیلئے وزیر اعظم محمد صوقولی پاشا کے پاس آیا تو صوقولی پاشا اس کی وجہ سمجھ گیا اور اس نے سفیر کو مخاطب کر کے کہا:"میں تمہاری آمد کی وجہ جانتا ہوں۔ تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ لیپانٹو کی جنگ کا ہمارے اوپر کیا اثر پڑا، لیکن یہ سمجھ لو کہ ہم نے تم سے قبرص لے کر تمہارا ایک بازو کاٹ دیا ہے اور تم نے ہمارے بیڑے کو تباہ کر کے صرف ہماری ڈاڑھی مونڈی ہے۔ لیکن یاد رکھو کہ کٹا ہوا بازو پھر واپس نہیں لگ سکتا لیکن مونڈی ہوئی ڈاڑھی پھر سے نکل آئے گی اور زیادہ بھرپور ہو گی۔" 
صوقولی پاشا نے جیسا کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ اس موقع پر وزیر اعظم صوقولی پاشا اور امیر البحر اولوج پاشا کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس سے عثمانی سلطنت کے عظیم وسائل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے امیر البحر اولوج پاشا کو موسم سرما کے اندر اندر دو سو نئے جہاز تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اولوج پاشا نے جب اتنی کم مدت میں اتنے کم جہازوں کی تیاری کو مشکل قرار دیا تو صوقولی پاشا نے اس کو مخاطب کر کے کہا:"پاشا ابھی تم اس سلطنت کو نہیں پہچانے۔ یہ وہ مملکت ہے کہ اگر وہ چاہے کہ بیڑے کے تمام اسطول چاندی سے، رسیاں ریشم سے اور بادبان اطلس و کمخواب سے بنائے جائیں تو وہ ایسا کرنے پر قادر ہے" 
چنانچہ صوقولی پاشا کی ہدایت پر 168 جہازوں کی تعمیر کا کام فوراً شروع ہو گیا اور پانچ ماہ کی مختصر مدت میں ان کی تعمیر مکمل کر لی گئی۔ 1572ئ میں جب اتحادی بیڑہ بحیرہ روم کے مشرقی حصہ میں جمع ہوا تو اولوج پاشا اپنے نئے بیڑے کے ساتھ مقابلے پر نکل آیا۔ مسیحی بیڑے نے جب اپنی توقع کے خلاف اتنے بڑے بیڑے کو صف آرائ دیکھا تو وہ حملہ کئے بغیر واپس چلا گیا۔ اس نئے بیڑے کی مدد سے اولوج پاشا نے 1573ئ میں تونس کو پھر فتح کر لیا جس پر 1569ئ میں اسپین نے قبضہ کر لیا تھا۔
اسی زمانے میں 1570ئ میں ترک جہازران خضر رئیس کی کمان میں ترک بیڑہ بحر ہند کو پار کر کے سماترہ پہنچا اور پرتگیزیوں کے خلاف وہاں کے حکمراں کی مدد کی۔صوقولی پاشا ہی کے دور میں عثمانی تاریخ کا( دفاعی جہازوں کے دور سے قبل) سب سے بڑا جہاز بنایا گیا جس کی پتواریں 576 آدمی چلاتے تھے۔
ستر ہویں صدی میں بھی ترکی بیڑہ ایک حد تک اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔ 1625ئ میں امیر البحر مراد رئیس کی کمان میں ترکی بیڑے نے ایک بڑا جرات مندانہ اقدام کیا۔ بیڑہ بحر اوقیانوس کو چیرتا ہوا انگلستان اور آئرلینڈ کے درمیان لونڈی (Lundi) کے جزیرہ پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ڈنمارک پہنچا، پھر وہاں سے ناروے کا کے شمال مغربی ساحل تک گشت کرنے کے بعد آئس لینڈ کے جنوب سے گزرتا ہوا بحر اوقیانوس کو پار کر کے نیوفاؤنڈ لینڈ کے قریب پہنچ گیا لیکن یہاں امیر البحر مراد رئیس اور اس کا جہاز ایک طوفان میں غرق ہو گیا‘‘مسلم شاہوں نے دنیا فتح کی تو ایسے ہی نہیں کی۔ جان پر کھیل گئے اور دنیا میں اپنانام کرگئے۔ 
’’بدیع الزماں سعید نورسی کا کردار ، عالمگیر جنگ اول میں ‘‘ کے زیر عنوان جناب ثروت صولت کا جوتارےخی اور یادگار مضمون ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور، اگست 1976؁ئ کے شمارے میں شائع ہواتھا۔  اس میں وہ سعید نورسی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’وان پر جب روسیوں نے حملہ کیا تو استاد نے اپنے مدرسے کی قلعہ بندی کر لی تاکہ وہ آخری وقت تک مقابلہ جاری رکھیں یہاں تک کہ جان دے دیںلیکن وان کے والی جودت بے کے شدید اصرار پر ان کو وان خالی کر کے قصبہ وستان (VASTAN) کی طرف پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد جب روس کے کاسک سواروں کے ایک دستے نے وستان پر بھی حملہ کر دیا تو استاد سعید نورسی نے اپنے رضا کاروں کو لے کر اور تیس چالیس فوجیوں کی مدد سے جو وہاں موجود تھے کاسکوں کا مقابلہ کیا اور انخلائ کر دینے والے لوگوں کے مال و جائیداد اور بچوں کی حفاظت کی۔ وہ رات کے وقت کاسکوں کے اونچے ٹیلے پر بار بار چھاپے مارتے تھے اور اس طرح وہ روسیوں پر ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وستان کی حفاظت کے لیے ایک بڑی فوج موجود ہے اور یہ کہ اس کو برابر کمک پہنچ رہی ہے۔ اُن کی اس تدبیر سے وستان روسیوں کے قبضے میں جانے سے بچ گیا۔

استاد کی جرأت :۔ 
جہاں تک استاد سعید نورسی کی جرات اور بے جگری کا تعلق ہے، ان کا یہ حال تھا کہ جنگ کے دوران وہ خندق میں پناہ نہیں لیتے تھے۔ وہ رضا کاروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے خندق کے سامنے، دشمن کی زد میں بے خوفی کے ساتھ پھرتے رہتے تھے۔ چار مرتبہ ایسا ہوا کہ گولے ان کے پاس گرے لیکن اس کے باوجود نہ وہ پیچھے ہٹے تھے اور نہ خندق میں جاتے تھے۔ بتلیس کے والی ممدوح بے اور کمانڈر علی کو جب اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے استاد کے پاس پیغام بھیجوایا کہ وہ پیچھے آ جائیں، لیکن استاد نے صاف انکار کر دیا اور کہلوادیا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ ان کافروں کی گولیوں سے میں نہیں مر سکتا۔ حالانکہ گولوں کے ٹکڑوں سے وہ زخمی بھی ہو گئے تھے۔ ایک ٹکڑا ان کے تمباکو کے ڈبے میں لگا اور دوسرا گلے میں۔

عورتوں اور بچوں کے قتل کوروکا:۔ 
استاد بدیع الزماں نے ترک فوجیوں اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ شرعاً عورتوں اور بچوں کا قتل جائز نہیں ہے۔ استاد نے نہ صرف ارمنی عورتوں اور بچوں کی جانیں بچائیں بلکہ ان کو ہزاروں کی تعداد میں حفاظت کے ساتھ روسی علاقے میں موجود ارمنیوں کے پاس پہنچا دیا۔ استاد سعید نورسی کا یہ وہ اعلیٰ کردار تھا جس سے ارمنی باشندے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ چنانچہ انہوں نے بھی مسلمان عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا بند کر دیا۔ وہ کہتے تھے کہ چونکہ ملا سعید نے ہماری عورتوں اور بچوں کو قتل نہیں کیا اس لیے ہم بھی آئندہ مسلمان بچوں کو قتل نہیں کریں گے۔اس طرح استاد بدیع الزمان سعید نورسی کی کوششوں اور اسلامی احکام پر ان کے عمل کرنے سے ہزاروں معصوموں اور بے گناہوں کی زندگیاں بچ گئیں۔

جنگ کے ماحول میں درس وتدریس جاری :۔ 
اس جگہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنگ اور تباہی کے اس ماحول میں بھی استاد درس و تدریس، وعظ و نصیحت اور تصنیف و تالیف کی طرف سے غافل نہیں رہے۔ وہ جب تک وان میں رہے اپنے مدرسے میںدرس دیتے رہے اور جب وہاں سے نکلے تو بھی اس سلسلے کو جاری رکھا۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ایک بہترین کتاب "اشارات الاعجاز" جو قرآن حکیم کی تفسیر ہے ،اسی جنگ کے زمانے میں تالیف کی۔ وہ یہ تفسیر اپنے ایک جاں نثار رفیق کاتب ملا حبیب کو املا کرواتے تھے جو وستان کے مقام پر دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ یہ تفسیر اس طرح لکھی گئی کہ استاد کبھی گھوڑے کی پیٹھ پر ہوتے تھے، کبھی خندق میں اور کبھی محاذِ جنگ پر۔

استاد سعید نورسی کو ملا تمغہ :۔ ثروت صولت لکھتے ہیں کہ ’’استاد بدیع الزماں سعید نورسی کی جنگی خدمات کا عثمانی حکومت نے سرکاری طور پر اعتراف کیا۔ پسبنلر کے محاذ پر انہوں نے جو خدمات انجام دیں ان کا اعتراف خود انور پاشا نے کیا۔ صالح مشیل (Yesil) نے جو ارضِ روم سے عثمانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے، وزیرِ داخلہ کو ایک خط کے ذریعے بتایا کہ استاد نے ان لڑائیوں میں کس دلیری سے جنگ کی۔ انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا کہ قفقاز کے برفانی پہاڑوں میں جنگ کرنے پر استاد کو ایک تمغہ بھی دیا گیا‘‘
ثروت صولت کی کتاب ’’ملت ِ اسلامیہ کی مختصر تارےخ ‘‘ حصہ اول میں کئی باب ہیں ۔ پہلا باب خدا کاپےغام۔ دوسر ا، ظہورِ اسلام سے پہلے ۔ تیسرا باب آخری نبی ۔(۱) مکہ کی زندگی ، چوتھاباب ، آخری نبی (۲) مدینہ کی زندگی ۔ پانچواں باب ، مدینہ :ریاست اورمعاشرہ ۔ چھٹواں باب قیصروکسریٰ کی حکومتوں کاخاتمہ۔ ساتواں باب ۔ خلافت راشدہ :ایک جمہوری اور رفاہی مملکت۔ آٹھواں باب۔ مشرق ومغرب کی فتح ۔ نواں باب۔ ملوکیت کے نظام کے تحت ۔ دسواں باب۔ بغداد کاعروج (۱) گیارہوں باب ۔  بغداد کاعروج (۲) ۔ بارہواں باب ۔علم وادب کی دنیا۔ تیرہواں باب۔ تسبےح کے دانے بکھرگئے ۔ چودھواں باب ۔ غزنی کی سلطنت ۔ پندرہواں باب۔ سلجوقی ترک۔ سولہواں باب۔ پٹھان میدان ِ عمل میں۔ سترہواں باب ہلال وصلیب کی کشمکش ۔ اٹھارواں باب عروس البلاد قرطبہ۔ انیسواں باب بربر اسلام کی ڈھال بن گئے۔ بیسواں باب اندلس کاالمیہ :ایک تہذیب کاخاتمہ ۔ اس کے بعد تین باب مزید ہیں جن کے نام یورپ کے استاد، آگ اور خون کاسیلاب اور مسلمانوں کے عروج کے دور اوّل کاخاتمہ ہے۔ نشیب وفرازوالے ایسے ہی موضوعات حصہ دوم سوم چہارم وغیرہ میںبھی ہیں۔تارےخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب استناد کادرجہ رکھتی ہے۔ اسی حصہ اول میں جناب ثروت صولت کا تعارف کچھ اس طرح سے کرایا گیاہے ۔ 

ثروت صولت کا تعارف اور کتابیں :۔ 
’’اس کتاب کے مؤلف ثروت صولت صاحب پاکستان کے ایک مشہور صحافی اور ادیب ہیں، تاریخِ اسلام اور اسلامی دنیا کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ اردو اور انگریزی میں اب تک درجنوں مضامین لکھ چکے ہیں جو پاکستان کے ممتاز روزناموں اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں اور کئی مضامین پر انعامات بھی حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر میں سلاست اور روانی ہے۔ مستند واقعات دلچسپ انداز میں پیش کرنا آپ کی خصوصیت ہے۔ نقطہ ئ نظر اسلامی ہے۔اب تک ثروت صولت صاحب کی حسبِ ذیل کتابیں شائع ہو چکی ہیں:۱۔ ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ (چار جلدیں)۔۲۔ تاریخِ پاکستان کے بڑے لوگ، جو محمد بن قاسم سے مولانا مودودی تک پاکستان کے ۴۹ مشاہیر کے حالات پر مشتمل ہے۔۳۔ مولانا مودودی۔۴۔ بدیع الزمان سعید نورسی۔ ۵۔ مشرقی پاکستان۔اور ۶۔ THE LIGHT OF THE PROPHET وغیرہ شامل ہیں۔ گوگل بابا ثروت صولت کی مزید کتابوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’مغربی دنیااور اسلام، مسلمانوں کی سائنسی خدمات ، خلافت عباسیہ کے دورِ عروج پر تحقیقی مضامین ‘‘ ان کے اثاثے میں شامل کتب ہیں۔  
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ثروت صولت صاحب کی خدمات کوقبول کرتے ہوئے ان کی روح کو جنت الفردوس میں آرام سے رکھے تاکہ ان کی روح رب کائنات کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتی رہے آمین ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔