مادری زبان اردو میں تعلیم: وقت کی اہم ضرورت، قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور بدلتے تعلیمی منظرنامے کا جائزہ۔۔ تحریر :- پٹھان شریف خان۔ پرتور ضلع جالنہ، مہاراشٹر۔
مادری زبان اردو میں تعلیم: وقت کی اہم ضرورت، قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور بدلتے تعلیمی منظرنامے کا جائزہ۔
تحریر :- پٹھان شریف خان۔
پرتور ضلع جالنہ، مہاراشٹر۔
9422409471
"جو زبان دل کی زبان ہے، وہی علم کی بہترین زبان ہے"
تعلیم کا مقصد محض معلومات کا انبار جمع کرنا نہیں بلکہ انسان میں فہم و ادراک، شعور و بصیرت، تنقیدی فکر، تخلیقی صلاحیت اور متوازن شخصیت پیدا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرینِ تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP 2020) نے بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے مادری زبان کو تعلیم کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیا ہے۔
بچہ سب سے پہلے اپنی ماں کی گود میں زبان سیکھتا ہے۔ وہ اپنے جذبات، احساسات، خیالات اور مشاہدات کا اظہار اسی زبان میں کرتا ہے۔ جب تعلیم بھی اسی زبان میں دی جاتی ہے تو علم اس کے ذہن میں براہِ راست منتقل ہوتا ہے۔ اگر بچہ اردو بولتا، اردو سمجھتا اور اردو میں سوچتا ہے تو اس کے لیے اردو کے ذریعے تعلیم حاصل کرنا فطری، آسان اور مؤثر ہوگا۔
*قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا مؤقف*
قومی تعلیمی پالیسی 2020 واضح طور پر سفارش کرتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو کم از کم جماعت پنجم تک اور ترجیحاً جماعت ہشتم تک تعلیم مادری زبان، گھریلو زبان یا علاقائی زبان میں دی جائے۔ NEP2020 کے مطابق مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی فہم بہتر ہوتی ہے، سیکھنے کی رفتار بڑھتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں، ریاضی اور سائنس کی سمجھ مضبوط ہوتی ہے اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی آتی ہے۔
یہ محض ایک نظریاتی بات نہیں بلکہ جدید تعلیمی نفسیات اور عالمی تحقیقی مطالعات سے ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بچہ اپنی زبان میں سب سے بہتر انداز میں سیکھتا ہے۔
*ترقی یافتہ دنیا کی مثالیں*
آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنی قومی اور مادری زبانوں ہی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ جاپان جاپانی زبان میں تعلیم دیتا ہے، چین چینی زبان میں، جرمنی جرمن زبان میں، فرانس فرانسیسی زبان میں اور روس روسی زبان میں تعلیم فراہم کرتا ہے۔
اگر ترقی کا راز صرف انگریزی زبان میں پوشیدہ ہوتا تو یہ تمام ممالک بہت پہلے اپنی زبانوں کو ترک کر چکے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام، تحقیق، سائنسی مزاج اور قومی زبانوں میں علم کی فراہمی پر استوار ہوتی ہے۔
*انگریزی کا علم ضروری، انگریزی ذریعۂ تعلیم ضروری نہیں*
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اردو یا مادری زبان کی حمایت کا مطلب انگریزی کی مخالفت نہیں۔ انگریزی آج کے دور کی ایک اہم بین الاقوامی زبان ہے اور اس کا سیکھنا ضروری ہے، لیکن انگریزی کو ایک مضمون کے طور پر سیکھنا اور اسے ذریعۂ تعلیم بنانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔
بچے کو پہلے اپنی زبان میں مضبوط بنیاد فراہم کی جائے، پھر دوسری زبانیں سکھائی جائیں۔ جب بنیاد ہی کمزور ہو تو نہ مادری زبان مضبوط ہوتی ہے اور نہ انگریزی پر عبور حاصل ہو پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے بچوں کو دوہری دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے وہ زبان سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر مضمون کو سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اکثر ذہنی دباؤ، رٹّہ بازی اور تخلیقی صلاحیتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اردو صرف زبان نہیں، تہذیب اور شناخت بھی
اردو محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ برصغیر کی ایک عظیم تہذیبی، ثقافتی اور علمی روایت کی امین زبان ہے۔ یہ مختلف علاقوں، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان رابطے کا ذریعہ رہی ہے۔ اردو ادب، صحافت، تحقیق اور تہذیبی ورثے کا ایک قیمتی خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
کسی بھی قوم کی زبان اس کی شناخت کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو رفتہ رفتہ اپنی تہذیبی جڑوں اور فکری ورثے سے بھی دور ہونے لگتی ہے۔ اس لیے اردو کا تحفظ دراصل ایک تہذیبی ذمہ داری بھی ہے۔
*نیتی آیوگ کی رپورٹ: تعلیمی منظرنامے کا ایک تشویشناک پہلو*
حال ہی میں نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ "School Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement" نے ملک کے تعلیمی منظرنامے کے کئی اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان ملک میں تقریباً 98 ہزار اسکول کم ہوئے ہیں۔ ان میں 94 ہزار سرکاری اسکول اور تقریباً 4 ہزار امداد یافتہ اسکول شامل ہیں۔ دوسری جانب اسی مدت میں 51 ہزار نجی اسکولوں کا اضافہ ہوا ہے۔
2014-15 میں ملک میں کل اسکولوں کی تعداد 15 لاکھ 16 ہزار تھی، جو 2024-25 میں کم ہو کر 14 لاکھ 71 ہزار رہ گئی۔ اسی عرصے میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 11.07 لاکھ سے گھٹ کر 10.13 لاکھ رہ گئی، جبکہ نجی منظور شدہ اسکولوں کی تعداد 2.88 لاکھ سے بڑھ کر 3.39 لاکھ تک پہنچ گئی۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ والدین کی ایک بڑی تعداد سرکاری اور مقامی زبان کے اسکولوں سے دور ہو کر نجی، بالخصوص انگریزی میڈیم اداروں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں طلبہ کے اسکولی داخلوں میں تقریباً %8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2014-15 میں 26.95 کروڑ طلبہ اسکولوں میں داخل تھے، جبکہ 2024-25 میں یہ تعداد کم ہو کر 24.69 کروڑ رہ گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 7,993 ایسے اسکول موجود ہیں جہاں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں، جبکہ ایک لاکھ چار ہزار سے زائد اسکول ایسے ہیں جو صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ سرکاری اور علاقائی مادری زبان کے اسکولوں کے معیار، سہولیات اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی زبان کی تعلیم ختم ہو جائے تو رفتہ رفتہ اس زبان کی علمی اور تہذیبی زندگی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ آج سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم میں داخلوں کی شرح نہایت کم ہو چکی ہے، جبکہ جونیئر کالجوں میں بھی اردو میڈیم طلبہ کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو آنے والی نسلیں اپنی مادری زبان سے محروم ہو سکتی ہیں۔
ہمارے اداروں کو چاہئے کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو مضبوط بنائیں۔ سائنس،ٹیکنالوجی، کمپیوٹر تعلیم، انگریزی مہارت اور جدید تدریسی وسائل کو اردو کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ والدین کو یہ احساس ہو کہ اردو میڈیم کا انتخاب بچوں کے مستقبل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔
ضرورت اردو چھوڑنے کی نہیں، بلکہ اردو کے ساتھ معیار کو بلند کرنے کی ہے۔قومی تعلیمی پالیسی 2020، عالمی تجربات، تعلیمی نفسیات اور جدید تحقیق سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم بچے کی ذہنی، فکری اور تعلیمی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔ اردو ہماری زبان بھی ہے، ہماری تہذیب بھی اور ہماری شناخت بھی۔
اگر ہم اپنی نئی نسل کو بہتر فہم، مضبوط کردار، تخلیقی سوچ اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں مادری زبان اردو کے ذریعے تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
بدقسمتی سے آج اردو زبان کو صرف شعر و شاعری، مشاعروں اور ادبی محفلوں تک محدود سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو ایک مکمل علمی، تعلیمی، تحقیقی اور تہذیبی زبان ہے۔ یہ زبان صدیوں تک برصغیر میں تعلیم، صحافت، عدلیہ اور انتظامیہ کی زبان رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو محض جذبات اور ادب کی زبان سمجھنے کے بجائے علم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور عصری تعلیم کے میدان میں بھی اس کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔ اردو صرف غزل کی زبان نہیں، بلکہ نسلوں کی فکری اور تہذیبی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
اردو صرف ایک زبان نہیں؛یہ ہماری شناخت ہے۔اردو صرف ماضی کی یادگار نہیں؛
یہ مستقبل کی ضرورت بھی ہے۔
اگر ہم اردو زبان، اردو تعلیمی اداروں اور اپنی تہذیبی شناخت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو مادری زبان اردو کے ذریعے تعلیم دلانے کو ترجیح دینی ہوگی۔ یاد رکھئے! زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، ثقافت اور شناخت کی امین ہوتی ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی اولاد کو اردو سے جوڑیں گے، انہیں اردو میڈیم اداروں میں تعلیم دلائیں گے اور ساتھ ہی انگریزی، مراٹھی اور دیگر عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں گے، تاکہ وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکیں۔
Comments
Post a Comment