فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے…ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔


فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے…
ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔

آج دل بہت بوجھل ہے۔
یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اردو دنیا کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہو۔
بچوں کے ادب، تعلیمی تحریک اور اردو تہذیب کی وہ خوبصورت آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی جس نے پچھلی پانچ دہائیوں تک ہزاروں دلوں کو روشنی دی۔
میں نے آپ کے ساتھ “گل بوٹے اسکالرشپ امتحان” اور کئی تعلیمی سیمیناروں میں کام کیا۔
یہ سب میری زندگی کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو ہمیشہ میرے لیے سنگِ میل رہیں گے۔
آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ آج ایک خزانے کی طرح یاد آرہا ہے۔
ہم جیسے کئی نوجوانوں نے آپ کو دیکھ کر بولنا سیکھا،
اسٹیج پر پُراعتماد انداز میں ٹھہرنا سیکھا،
مجمع کو سنبھالنا، الفاظ میں تاثیر پیدا کرنا اور سامعین کے دل جیتنا سیکھا۔
آپ صرف مقرر نہیں تھے، بلکہ ایک پوری درسگاہ تھے۔
ایک تقریب میں آپ نے سب کے سامنے کہا تھا:
“سولاپور میں یہ میرے بیٹے ہیں، لوگ مجھے اِن کے نام سے جانتے ہیں… مجھے فخر ہے۔”
آپ کے یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز، کسی سند اور کسی انعام سے کم نہ تھے۔
آج بھی وہ جملے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اور دل کو رُلا رہے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں دوریاں ضرور رہیں، مگر دل کبھی آپ کی محبت، شفقت اور یاد سے غافل نہ تھا۔
سولاپور کا تاریخی “اردو میلہ” آج بھی آپ کی محنت، وژن اور اردو سے بے لوث محبت کی زندہ پہچان ہے۔
یہ میرے لیے مسلسل تیسری افسوسناک خبر ہے…
پہلے نذیر منشی صاحب، پھر اقبال انصاری صاحب، اور اب فاروق سید صاحب…
ایک کے بعد ایک میرے محسن، میرے رہنما، میرے مینٹرس اس دارِ فانی سے رخصت ہوتے جارہے ہیں۔
تعلیم، سماج اور اردو دنیا میں ایسے لوگوں کا چلے جانا صرف ایک شخصیت کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے۔
ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں… اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے ایک خاموشی، ایک خلا اور بے شمار آنکھوں میں نمی چھوڑ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔