دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے۔ - فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)
دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے۔ -
فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)
ایثار کے لغوی معنی "دوسروں کو خود پر ترجیح دینا"کے ہیں۔ یہ ایک ایسی اعلیٰ انسانی صفت ہے جو کسی بھی معاشرے کو امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بناتی ہے۔ مگر افسوس آج معاشرے میں ایثار کا جذبہ تیزی سے ماند پڑتا جا رہاہےجو ایک صحت مند اور پر امن معاشرت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
* جذبۂ ایثار کی کمی کے اسباب
١۔ مادیت پرستی :
آج انسان مادی اشیاء کی دوڑ میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ ہر چیز کو نفع اور نقصان کےترازو میں تولنے لگا ہے۔آگے بڑھنے کی ہوڑ نے اس سے ہمدردی، رحم دلی اور قربانی کا جذبہ چھین لیا ہے۔
٢۔ خاندانی نظام :
انفرادی طرزِ زندگی نے انسان کو تنہائی اور خود غرضی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ خود نمائی اور دکھاوے کی سوچ نے گھر کے افراد کو بھی ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑوسیوں کے حالات سے باخبر رہنا بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔
٣ ۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی روابط:
آج بیشتر تعلقات رسمی اور نمائشی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کو حقیقی رشتوں سے دور کر کے مصنوعی دنیا میں الجھا دیا ہے۔ نتیجتاً ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری میں کمی آ گئی ہے۔ اب لوگ کسی حادثے یا مشکل میں گھرے فرد کی مدد کرنے کے بجائے اس کی ویڈیو بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔جو اخلاقی زوال کی انتہا ہے۔
٤۔ تربیت کا فقدان:
جدید نظامِ تعلیم اور والدین کی تربیت کا محور صرف کامیابی، مقابلہ آرائی اور اعلیٰ نمبروں کا حصول بن چکا ہے۔ بچوں کو اخلاقیات، خدمتِ خلق، صبر، رواداری اور ایثار کی عملی تعلیم کم ہی دی جاتی ہے۔ جس سےنئی نسل ذہنی طور پر ترقی یافتہ بن رہی ہے لیکن اخلاقی اعتبار سے کمزور ہو رہی ہے۔
٥۔ معاشی بدحالی :
بڑھتی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے لوگوں میں خوف اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ اگر اس نے دوسروں پر خرچ کیا تو شاید وہ خود محتاج ہو جائے گا۔ یہی احساس رفتہ رفتہ خود غرضی کو جنم دیتا ہے اور جذبۂ ایثار کو کمزور کر دیتا ہے۔
٦۔دینی اور اخلاقی تعلیمات سے دوری:
اسلام اور دیگر مذاہب انسانیت، بھائی چارے اور ایثار کا درس دیتے ہیں۔لیکن دینی اور اخلاقی اقدار سے دوری کے سبب لوگوں میں دوسروں کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
٧۔مغربی طرز معاشرت کا اثر :
بلا شبہ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے مگراس کے نتیجے میں مغربی تہذیب اور آزاد خیالی کے اثرات نئی نسل کی سوچ پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اندھی تقلید نے ہماری اخلاقی اقدار اور مشرقی روایات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جس کی وجہ سے ایثار، حیا اور باہمی احترام جیسے اوصاف ماند پڑتے جا رہے ہیں۔
*جذبۂ ایثار کے فروغ کے لیے تجاویزات
١۔دینی اور اخلاقی تعلیمات کا فروغ:
اسلام نے ایثار کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جنہوں نے ہمیشہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔ ساتھ ہی گھروں، اسکولوں اور سماجی اداروں میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ ان میں محبت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔
٢۔ گھریلو تربیت اور کردار سازی:
والدین کو چاہیے کہ وہ خود اپنے عمل سے بچوں کے لیے نمونہ بنیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹنے( کھلونے ، کھانے کی چیزیں ), غریبوں کی مدد کرنے اور نرم گفتاری جیسی چھوٹی باتوں کو اختیار کرنے کی تربیت دی جائے۔ کیونکہ بہترین تربیت وہی ہوتی ہے جو عمل کے ذریعے دی جائے۔
٣۔ تعلیمی نصاب میں اصلاح:
تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اچھے انسان تیار کرنا بھی ہونا چاہیے۔ نصاب میں ایسی کہانیاں، مضامین اور عملی سرگرمیاں شامل کی جائیں جو طلبہ میں ہمدردی، سخاوت اور سماجی خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔
٤۔ میڈیا کا مثبت کردار:
میڈیا معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ ایسے پروگرام نشر کریں جو انسانیت، بھائی چارے، خدمتِ خلق اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
٥۔ سماجی شعور کی بیداری:
لوگوں کو رفاہی کاموں، خیراتی سرگرمیوں، خون کے عطیات دینے اور سماجی خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دینی چاہیے ۔جس سے ان میں دوسروں کے لیے جینے اور معاشرے کے مفاد کو ترجیح دینے کا شعور پیدا ہو۔
٦۔ حکومتی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی:
حکومت اور سماجی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے فلاحی نظام کو مضبوط کریں جہاں لوگوں کو رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے مواقع فراہم ہوں۔ اس سے معاشرے میں تعاون، بھائی چارے اور ایثار کے جذبات فروغ پائیں گے۔
معاشرہ افراد کا مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک خوبصورت اور پرامن نہیں بن سکتا جب تک اس کے افراد ایک دوسرے کے درد کو محسوس نہ کریں۔جب ہم دوسروں کی راہ میں چراغ روشن کرتے ہیں تو ہمارا اپنا راستہ منور ہو جاتا ہے۔پس، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ذاتی خواہشات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
Comments
Post a Comment